بھیڑیا

ہَیرمان ہَیسے

فرانسیسی پہاڑوں میں سردیوں کا موسم اتنا شدید اور طویل تو پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔ کئی ہفتوں سے ہوا انتہائی سرد اور بہت چبھنے والی تھی۔ دن کے وقت برف کے بہت وسیع ڈھلوانی میدانوں کا لامتناہی سلسلہ چیختے محسوس ہوتے نیلے آسمان کے نیچے پڑا رہتا اور رات کو چھوٹا سا شفاف چاند ان میدانوں کے اوپر سے گزر کر ایک طرف سے دوسری طرف چلا جاتا؛ وہ اداس اور منجمد چاند جس کی چمک زرد تھی اور جس کی تیز روشنی برف پر نیلی ہوتے ہوتے ایسی ممل ہو جاتی کہ دیکھنے میں جیسے شبنم مجسم ہو گئی ہو۔ انسان سبھی راستوں سے کترانے لگے تھے، خاص طور پر اونچائی کی طرف جانے والے راستوں سے، اور اپنی ان دیہی چھونپڑیوں میں کاہلوں کی طرح بیٹھے گالیاں دیتے رہتے تھے، جن کی سرخ کھڑکیاں رات کو چاند کی نیلی چاندنی میں غیر شفاف، دھواں دار اور جلتی بجھتی محسوس ہوتی تھیں۔

یہ اس علاقے کے جانوروں کے لیے بھی بہت مشکل وقت تھا۔ جو چھوٹے تھے وہ تو ڈھیروں ڈھیر سردی سے اکڑ کر مر گئے تھے، پرندے بھی جمے ہوئے کورے کے آگے زندگی ہار گئے تھے اور ان کے زندگی سے تھک چکے مردہ جسم جب گرتے تو عقابوں اور بھیڑیوں کو کچھ خوراک ہاتھ آ جاتی۔

لیکن ان بھیڑیوں کو بھی تو منجمد کر دینے والی سردی اور بھوک کا سامنا تھا۔ وہاں بھیڑیوں کے صرف چند ہی خاندان تھے اور انہیں بھی ان کی ضرورتوں نے ایک مضبوط گروہ کی صورت میں یکجا کر دیا تھا۔ دن کے وقت وہ ایک ایک کر کے ادھر ادھر نکل جاتے۔ کبھی کہیں کوئی کمزور ہو چکا اور بھوکا بھیڑیا اپنے پنجے برف پر ایسے پھیرتا نظر آتا کہ وہ چوکنا تو ہوتا مگر بے آواز اور اس حد تک ہچکچاہٹ کا شکار کہ جیسے کوئی بھوت، اور اس کا پتلا سا سایہ اس کے پاس ہی برفیلی سطح پر جیسے پھسلتا جاتا۔ پھر وہ گردن لمبی کر کے اپنی تھوتھنی کے سرے سے یخ بستہ ہوا کو محسوس کرنے لگتا تو ساتھ ہی کچھ دیر کے لیے اس کا ایک خشک اور اذیت کا مظہر زوزہ سنائی دیتا۔

شام کے وقت وہ سارے کے سارے پھر اکٹھے ہو جاتے اور زوزہ کش رہنے کی وجہ سے اپنی پھٹی ہوئی آوازوں کے ساتھ قریبی دیہات کے مضافات کا رخ کرتے۔ وہاں مویشی اور گھریلو پرندے بڑی حفاظت سے رکھے جاتے تھے اور مضبوط کھڑکیوں کے پیچھے بندوقیں بھی بھری ہوئی رکھی ہوتی تھیں۔ ان گیدڑوں کے ہاتھ کوئی چھوٹا موٹا شکار، مثلاً کوئی کتا، تو کبھی کبھار ہی آتا تھا، اور ان کے گروہ میں سے دو تو گولی لگنے سے مارے بھی جا چکے تھے۔

ہر چیز پر ابھی تک کورا جمع ہوا تھا۔ اکثر یہ بھیڑیے خاموش اور دبکے ہوئے مگر اکٹھے رہتے، ہر ایک دوسروں کی جسمانی حدت سے خود کو گرماتا ہوا، اور سبھی ایک دوسرے سے چِپکے اپنے ارد گرد تاریک وسعتوں کی خاموشی کو دھیان سے سننے کی کوشش کرتے ہوئے، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھوک کی المناک اذیت سے اکتا کر یکدم چیختا ہوا کسی طرف چھلانگ لگا دیتا۔ پھر باقی سارے اپنی تھوتھنیوں کا رخ اس کی طرف کر لیتے اور کانپتے ہوئے لیکن مل کر ایک ڈرا دینے والی، دھمکی آمیز اور شکایت بھری آواز میں جیسے ماتم کرنا شروع کر دیتے۔

بالآخر اس گروہ کے ایک چھوٹے سے حصے نے نقل مکانی کا فیصلہ کر لیا۔ اگلے دن صبح سویرے وہ اپنی زیر زمین قیام گاہوں سے نکلے، ایک جگہ جمع ہوئے اور یخ بستہ ہوا میں کچھ ڈرے ڈرے اور کچھ جوش کی سی کیفیت میں اپنی تھوتھنیوں سے اونچی آواز میں سانس لینے لگے۔ پھر جلد ہی وہ یکساں انداز میں آگے بڑھتے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ جو پیچھے رہ گئے تھے، وہ اپنی بلوریں آنکھیں پھاڑے انہیں جاتا دیکھتے رہے۔ وہ تیس چالیس قدموں تک ہی سہی لیکن ان کے پیچھے بھی گئے مگر کوئی فیصلہ نہ کر سکے، کچھ دیر بےیقینی کی کیفیت میں کھڑے بھی رہے، اور پھر آہستہ آہستہ واپس اپنی خالی غاروں میں لوٹ گئے۔

ترک وطن کرنے والوں کے راستے دوپہر کے وقت علیحدہ علیحدہ ہو گئے تھے۔ ان میں سے تین مشرق کی طرف سوئٹزرلینڈ میں “یُورا” کی طرف نکل گئے، باقی نے جنوب کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ جو تین مشرق کی طرف محو سفر تھے، وہ تینوں ہی خوبصورت اور مضبوط تو تھے مگر بیزارکن حد تک کمزور ہو چکے تھے۔ ان کے اندر کی طرف پچکے ہوئے اور کِھلتی ہوئی رنگت والے پیٹ بالکل سکڑ چکے تھے، سینوں پر پسلیاں تو احتجاج کرتی ہوئی باہر کو نکل آئی تھیں، منہ بالکل خشک تھے اور آنکھیں کھلی ہوئی اور بےیقینی کا شکار۔ وہ تینوں “یُورا” کے اندر تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ دوسرے روز ایک بھیڑ ان کے ہاتھ لگی اور تیسرے روز ایک کتا اور ایک بچھیرا ان کا شکار بنے۔ اس دوران مقامی باشندوں نے شدید غصے میں ہر طرف سے ان کا تعاقب بھی شروع کر دیا تھا۔

اس علاقے میں، جہاں چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبوں کی بہتات تھی، ان باہر سے آنے والے دراندازوں کے خلاف غصے اور خوف کے جذبات پھیل چکے تھے۔ ڈاک تقسیم کرنے والوں کو بھی مسلح کر دیا گیا تھا اور کوئی شخص بھی ایسا نہیں تھا جو بندوق کے بغیر ایک سے دوسرے گاؤں جاتا ہو۔ ایک اجنبی علاقے میں اور اتنے اچھے شکار، وہ تینوں بھیڑیے بیک وقت خوش اور مطمئن بھی تھے اور متذبذب بھی۔ وہ اتنے حوصلہ مند ہو گئے تھے، جتنے وہ پہلے کبھی اپنی گزشتہ قیام گاہ پر بھی نہیں تھے۔ وہ دن دیہاڑے ایک فارم ہاؤس میں بنے اصطبل میں گھس گئے، مویشی ڈکرانے لگے، تڑاخ تڑاخ کر کے ٹوٹتے لکڑی کے تختوں کی آوازیں، مویشیوں کے کُھر جو سب کچھ کچلتے جا رہے تھے اور جانوروں کی خوف اور تکلیف کے باعث نکلتی آوازیں، اصطبل کے طور پر یہ تنگ گرم کمرہ انہی سب سے بھرا ہوا تھا۔

لیکن اس بار درمیان میں انسان آ گئے تھے۔ ان بھیڑیوں کے سروں پر انعام رکھ دیا گیا تھا اور اس وجہ سے کسانوں کی ہمت دگنی ہو گئی تھی۔ انہوں نے دو بھیڑیے تو وہیں مار دیے تھے۔ ان میں سے ایک کو گولی گردن میں لگی تھی اور دوسرے کو ایک کلہاڑے سے مار دیا گیا تھا۔ تیسرا وہاں سے بھاگ نکلا تھا اور تب تک بھاگتا رہا جب تک کہ وہ نیم مردہ حالت میں برف پر گر نہ گیا۔ یہ ان تینوں بھیڑیوں میں سے سب سے کم عمر اور خوبصورت تھا، ایک وجیہہ جانور جس میں طاقت بہت زیادہ تھی اور جس کا جسم بہت پرکشش۔ وہ دیر تک وہاں کراہتا ہوا لیٹا رہا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے خون جیسے سرخ دائرے ناچ رہے تھے اور وقفے وقفے سے وہ کسی سیٹی کی طرح سنائی دینے والی لیکن بڑی تکلیف دہ آہیں بھر رہا تھا۔ کلہاڑی کا ایک وار اس کی کمر پر لگا تھا۔ لیکن وہ کچھ ہمت جمع کرنے میں کامیاب رہا تھا اور دوبارہ اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس نے یہ تو بس ابھی دیکھا تھا کہ وہ دوڑتا دوڑتا کتنا دور آ گیا تھا۔ وہاں کہیں بھی نہ تو انسان نظر آ رہے تھے اور نہ ہی کوئی گھر دکھائی دے رہے تھے۔

اس کے قریب ہی برف سے ڈھکا ایک پہاڑ تھا، جو بہت طاقت ور دکھائی دے رہا تھا۔ یہ ماؤنٹ شاسیرال تھا۔ بھیڑیے نے اس پہاڑ کے دوسری طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ اس کی پیاس بڑی اذیت ناک ہو چکی تھی، تاہم اس نے برفیلی زمین کی جم کر بہت سخت ہو چکی بالائی سطح پر سے زرا سی بھی برف نہ کھائی۔ پہاڑ کے دوسری طرف وہ ایک گاؤں کے پاس پہنچ گیا۔ تب شام ہو چکی تھی۔ پہلے وہ صنوبر کے درختوں کے ایک گھنے جنگل میں انتظار کرتا رہا اور اس کے بعد گاؤں کے گرم اصطبلوں سے اٹھنے والی بو کا پیچھا کرتے کرتے بڑی احتیاط سے مختلف باغیچوں کے ارد گرد لگی باڑیں عبور کرنے لگا۔ سڑک پر کوئی بھی نہیں تھا۔ کچھ ڈرا ڈرا سا لیکن للچاہٹ کے ساتھ وہ ادھر ادھر نظر آنے والے گھروں پر نظریں بھی دوڑاتا جا رہا تھا۔ پھر ایک گولی چلی۔ اس نے یکدم اپنے سر کو اوپر کی طرف جھٹکا دیا اور دوڑنا شروع کر دیا۔ اسی دوران زور دار آواز کے ساتھ ایک دوسرا فائر بھی ہوا۔ وہ زخمی ہو چکا تھا۔

اس کے جسم کے نچلے سفید حصے کے ایک طرف خون کا دھبہ نظر آنے لگا تھا جس سے موٹے موٹے سرخ قطرے زمین پر گرنا شروع ہو گئے تھے۔ اس کے باوجود وہ لمبی لمبی چھلانگیں لگاتا ہوا وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور دوسری طرف کے پہاڑی جنگل میں پہنچ گیا۔ وہاں اس نے اپنی سماعتوں کو مرکوز کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ابھی چند لمحے ہی انتظار کیا ہو گا کہ اسے دو اطراف سے کچھ آوازیں اور قدموں کی آہٹ سنائی دیں۔ اس نے خوف کے جذبات کے ساتھ اپنےسامنے کھڑے پہاڑ کو مذمتی نگاہوں سے دیکھا، جو قدرے عمودی تھا، جنگل کے پیچھے چھپا ہوا اور جس پر چڑھنا بہت دشوار تھا۔ مگر اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ تو تھا بھی نہیں۔ وہ آہیں بھرتا، تکلیف سے سانس لیتا عمودی پہاڑ پر چڑھتا ہی گیا، نیچے گالیوں اور دھمکی آمیز لہجوں میں دیے گیے احکامات کا ملا جلا شور اور لالٹینوں کی روشنی پہاڑ کے ساتھ ساتھ حرکت کرتے جا رہے تھے۔ زخمی بھیڑیا ہانپتا کانپتا صنوبر کے نیم تاریک پہاڑی جنگل میں کافی اوپر تک جاتا گیا اور اس دوران اس کے جسم کے ایک طرف سے برف پر بھورا نظر آنے والا خون بھی آہستہ آہستہ بہتا رہا۔

سردی تھوڑی سی کم ہو گئی تھی۔ مغرب کی طرف آسمان غیر شفاف نظر آنے لگا تھا، بظاہر یہ اعلان کرتا ہوا کہ نئی برف باری ہونے کو تھی۔ تب تک بالکل نڈھال ہو چکا زخمی بھیڑیا بھی بالآخر پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ گیا تھا۔ اب وہ ایک بہت بڑے اور ہلکے سے ڈھلوانی برفانی میدان میں کھڑا تھا، جہاں سے ماؤنٹ کروسیں بھی دور نہیں تھا، ان تمام دیہات سے بہت بلندی پر، جہاں سے وہ فرار ہوا تھا۔ اسے بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی، مگر وہ ممل، جکڑ لینے والا درد محسوس ہو رہا تھا جو اس کے زخم سے اٹھ رہا تھا۔ اس کے لٹکے ہوئے منہ سے ایک ہلکی سی، بیمار سے چیخ نکلی تو اس کا دل اور بھی زور سے، بڑے دردناک انداز میں دھڑکنے لگا۔ وہ دست قضا کو ویسے ہی محسوس کر سکتا تھا، جیسے کوئی بہت بڑا اور غیر محفوظ بوجھ اسے دباتا ہی جا رہا ہو۔ پھر اسے بہت زیادہ پھیلی ہوئی شاخوں والے، اکیلے کھڑے صنوبر کے ایک درخت نے جیسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ اس درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور تازہ برف باری والی غیر شفاف، سرمئی رات کو گھورنے لگا۔ اس طرح آدھ گھنٹہ گزر گیا۔ تب برف پر ایک عجیب سی اور نرم سرخ روشنی پڑنے لگی۔ بھیڑیے نے درد سے کراہتے ہوئے اپنا سر اٹھایا اور اسے اس طرف کو موڑ دیا جدھر سے یہ روشنی آ رہی تھی۔

وہ چاند تھا جو اپنی خون کی سی سرخی کے ساتھ جنوب مشرق سے حرکت ہوتا ہوا بتدریج دھندلے آسمان پر اور زیادہ بلندی کی طرف سفر میں تھا۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران وہ ایسا سرخ اور اتنا بڑا تو کبھی بھی نہیں تھا۔ اس مرتے ہوئے جانور کی آنکھیں بڑے ہی المناک انداز میں کسی قتلے کی طرح نظر آنے والے چاند پر جم گئی تھیں اور ایک بار پھر ایک کمزور سی دردناک ماتمی چیخ بغیر کسی آواز کے اس پوری رات میں پھیل گئی۔ قدموں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ روشنیاں بھی قریب آتی جا رہی تھیں۔ موٹے اوورکوٹ پہنے ہوئے کسان، شکاری اور وہ نوجوان لڑکے جنہوں نے جانوروں کی کھال کی بنی ٹوپیاں اور پتلونوں کے نیچے گرم پاجامے پہن رکھے تھے، برف میں بڑی مشکل سے قدم اٹھاتے آگے آتے جا رہے تھے۔

پھر خوشی کے اظہار کے طور پر پرجوش آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اپنے اختتام کو پہنچتے جا رہے بھیڑیے کو تلاش کر لیا گیا تھا۔ اس پر دو گولیاں فائر کی گئیں مگر دونوں ہی اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہیں۔ تب ان لوگوں نے دیکھا کہ وہ بھیڑیا تو آخری سانسیں لے رہا تھا۔ انہوں نے اس پر اپنے چھوٹے بڑے ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ بھیڑیے کو کچھ بھی محسوس ہونا بند ہو گیا تھا۔ اس کے جگہ جگہ سے ٹوٹے ہوئے اعضاء کے ساتھ وہ اسے اٹھا کر پہاڑ سے نیچے سینٹ اِمر نامی علاقے میں لے آئے۔ وہ ہنس رہے تھے، شیخیاں مار رہے تھے اور برانڈی اور کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے خوشیاں منا رہے تھے۔

انہوں نے گیت گائے اور گالیاں بھی دیں۔ کسی نے بھی برف سے ڈھکے ہوئے جنگل کی خوبصورتی کو نہ دیکھا، نہ پہاڑ کی چوٹی کی چمک کو، اور نہ ہی اس سرخ چاند کو جو ماؤنٹ شاسیرال پر لٹکا ہوا تھا اور جس کی مدھم روشنی ان کی بندوقوں کی نالیوں، تازہ گرنے والی برف کی چھوٹی چھوٹی منجمد قلموں اور مردہ بھیڑیے کی پھٹی ہوئی آنکھوں پر پڑ رہی تھی۔

مصنف: ہَیرمان ہَیسے (1903)۔
جرمن ٹائٹل: Der Wolf
جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *