برطانوی انتخابات کے پیچھے کیا ہے ؟

بیرسٹر حمید باشانی

برطانیہ کےحالیہ انتخابات کےنتائج میں کچھ عجب نہیں ہے۔ان انتخابات میں لبرل اور ترقی پسند قوتوں کی شکست اورقدامت پسندوں کی فتح کا ایک طویل پس منظر ہے۔  دنیا میں سیاسی رحجانات مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔  اس وقت دنیا میں قوم پرستی سیاست کا سب سے مقبول ترین رحجان ہے۔  یوں تو یہ رحجان تاریخی طوربہت مدت سے موجود ہے، مگر حالیہ تاریخ میں امریکہ میں صدر ٹرمپ کا انتخاب اس کاایک دھماکہ خیز اظہار تھا۔

 اس کے ساتھ ہی یورپ میں دائیں بازوں کی پاپولسٹ پارٹیوں کا ابھار بھِی اسی رحجان کا اظہار تھا۔  یورپ اور امریکہ سے باہر چین، فلپائن، اور ترکی کےعلاوہ بھارت میں مضبوط قوم پرست جماعتوں اور شخصیات کا اٹھان بھی اس بڑھتے ہوئے رحجان کا ہی شناخسانہ تھا۔  ٹرمپ کی انتخابی مہم میں قوم پرستی کے نظریات نمایاں تھے، مگر اپنے انتخاب کے فورا بعد وہ قوم پرستی کے نئے رحجانات کا پہلے سے زیادہ پرزورپرچارک بن گیا۔  قوم پرستی کے حق میں عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ اس نے رسما یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا کہ میں ایک قوم پرست ہوں۔

 ٹرمپ کی کامیابی کے فورا بعد نیو نیشنلزم کے خیالات و نظریات کی بازگشت دیگر ممالک میں سنائی دی جانے لگی۔  مختلف ممالک میں تنگ نظر قوم پرستی کے جذبات سے مغلوب رہنماوں نے لبرل ازم اور لبرل اشرافیہ کو دنیا کی ہربیماری کی جڑقرار دینا شروع کیا۔  یہ الزام لگایا کہ لبرل لوگ پوری دنیا کی محبت میں مرے جا رہے ہیں، اور اپنے ہم وطنوں سے زیادہ دوسرے ممالک کے لوگوں سے ہمدردی جتاتے ہیں۔ 

  اس کے ساتھ عالمی مفادات پر بھی تنقید کا عمل شروع ہوا۔  قومی مفادات کو عالمی مفادات پرمقدم قرار دینے کے تسلیم شدہ نظریے کو نئے الفاظ میں پیش کیا جانے لگا؛ چنانچہ  لبرل ازم اورسوشلزم کے خلاف ایک بیانیہ تخلیق ہوا، جس کا تازہ ترین اظہاربرطانیہ کے انتخابات میں واضح طور پر ابھر کر سامنے آیا۔

تاریخی طور پرقوم پرستی اور لبرل ازم کا آپس میں کوئی بڑا تصادم نہیں رہا ہے۔  اس کے برعکس یہ دونوں کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کے مددگار رہے ہیں۔  دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد جب امریکہ کی قیادت میں مغرب میں نئے لبرل آرڈر کو فروغ دینے کی کوشش شروع ہوئی تو اس میں عالمی تعاون اور مقامی قوم پرستی کے رحجانات کے درمیان خاص توازن کی کوشش کی گئی۔ اس توازن کا مقصد اس جارحارنہ قسم کی قوم پرستی کا مقابلہ کرنا تھا،  جو اس جنگ کی ایک بڑی وجہ تھی۔

 دوسری جنگ عظیم کے بعد ابھرنے والا نیانظام مضبوط فلاحی ریاستوں کےتصورپرقائم ہوا تھا۔  اگرچہ اس نظام میں ورلڈ بینک اورعالمی مالیاتی فنڈ کوضرورت سے زیادہ اہم مقام دیا گیا تھا۔  ان مالیاتی اداروں سے یہ امید باندھی گئی تھی کہ یہ عالمی ادارے فلاحی ریاستوں کی مالیاتی اعانت کرنے کے باوجود ان ریاستوں کو اپنے قومی مفادات کے حق میں کام کرنے کی اجازت دیں گے۔ یہ ایک طرح کا نیا انتطام تھا، جس میں لبرل ازم کا بنیادی کردار تھا۔  اس بندوبست میں ایک طرف آزاد منڈی کے تصورکو تسلیم کیا گیا تھا، دوسری طرف آزاد منڈی کے اندرریاستوں اورقومی اداروں کی مداخلت کا حق بھی مان لیا گیا تھا۔

 دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والا یہ نیا بندوبست طویل عرصے تک عالمی معیشت اور سیاست کو کنٹرول کرتا رہا۔ مگر گزشتہ تین چار دھائیوں کے دوران اس بندوبست میں تبدیلی آئی۔  قومی ریاستوں کےاپنی حدود کے اندر سرمایہ داری کو کنترول کرنے کے اختیارات کمزور ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوگئے۔ 

دنیا میں جمہوریتوں کے نئے خدوخال  کچھ اس اس طرح سے ترتیب دیے جانے لگے جوعالمی منڈی کی منطق کے مطابق تھے۔  اس عمل میں قومی ریاستوں کے اوپران سے زیادہ بڑے اور طاقت ورادارے قائم ہونے شروع ہوئے۔  ان اداروں کی ایک بڑی مثال یوروپین یونین ہے۔   اس سے جو مسائل پیدا ہوئے وہ  پاپلوسٹ ابھار کی کے لیے ساز گار حالات پیدا کرنے کا باعث بنے۔  برطانیہ کی یورپین یونین سے علحیدگی کے تصور کی مقبولیت اور ریفرنڈم میں فتح اس کی کلاسیکل مثال ہے۔

  یورپ کی تاریخ کےبیشترادوارمیں سیاسی وفاداریوں کا سرحدوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔  جدید یورپ میں یہ تصورپروٹسٹنٹ اصلاحات کی وجہ سے بدلنا شروع ہوا۔  ان اصلاحات کے بعدریاستوں نے اپنے زیرقبضہ علاقوں پر اجارہ داری اوراتھارٹی قائم کرنی شروع کی، جس کی وجہ سے کیتھولک چرچ اور موروثیت کااثرختم ہونا شروع ہوا۔  اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی سرمایہ داری نے معاشی طاقت کو دیہی جاگیرداری سے شہری متوسط طبقے کو منتقل کرنا شروع کیا۔  اس سلسلہ عمل میں عام لوگ ریاست کے کاروبار میں اپناحصہ مانگنے لگے۔  حق خود ارادیت کا مقبول قوم پرستانہ مطالبہ ایک جمہوری اصول بن گیا۔

انیسویں صدی کےدوسرے نصف میں یورپ اورامریکہ میں قومی ریاستوں نے مضبوط شہری ادارے قائم کرنے شروع کیے، انہوں نے یکساں قانون اور نظام تعلیم ترتیب دیا۔ اس نے مختلف ثقافتی گروہوں کو ایک مشترکہ ثقافتی پہچان دینی شروع کی۔  دانشور ارنسٹ گلنر کے خیال میں کلچر میں یکسانیت صنعتی سرمائے کی ضرورت تھی۔  قومی معشیت میں حصہ لینے کے لیے مزدوروں کو قومی زبان بولنے اورقومی کلچر میں ضم ہونے کی ضرورت تھی۔  مضبوط شہری ریاستوں میں اس دباو نے قومی ریاستوں کو سیاسی، ثقافتی اور معاشِی طور پر ایک یونٹ میں ڈھالنا شروع کیا۔

  انیسویں  صدی کی ابتدائی سرمایہ دارریاستوں کے درمیان مالی معاملات کے لیے مغرب میں آزاد منڈی کےخود کارنظام پر بھروسہ کیا جاتا تھا۔ اس وقت کی حکومتیں منڈی میں مداخلت کے لیے نہ تو تیار تھیں،  اور نہ ہی اس کی صلاحیت رکھتی تھی۔  اس کے بجائے وہ منڈی میں غیرمتوازن حالات میں تبدیلی یا بہتری کے لیے خود کار نظام پر تکیہ کرتی تھی، جس کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت کو مشکل حالات کا سامناکرنا پڑتا تھا۔

  مگر جمہوریت عام ہونے کے بعد جب زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ووٹ کا حق حاصل ہوا تو سیاسی طور پر اس صورت حال کو برقراررکھنا مشکل ہو گیا۔  سال1929 کی مارکیٹ کرش اورعظیم ڈیپرشن کے بعدعام شہری یہ مطالبہ کرنے لگے کہ ان کو معاشی مسائل سے بچانے کے لیے ان کے رہنما مداخلت کریں۔  اس صورت حال کے نتیجے میں جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ پسپا ہوئے اورقوم پرست حکومتیں قائم ہوئیں۔  ان حکومتوں نے ملک کےاندرمعیشیت پر ریاستی کنٹرول اورملک سے باہرسامراجی پالیسیاں اپنائی۔   ان قوم پرستوں کا وعدہ یہ تھا کہ وہ اپنے عوام کو منڈی کی گردش اورغیر ملکی و ملکی دشمن کی سازشوں سے بچائیں گے۔

 امریکہ میں صدرروزویلٹ کی قیادت میں ایک طرح کا سوشل ڈیموکریٹک کیپیٹل ازم طرزکا نظام قائم ہوا۔ اس نظام کے تحت ریاست نے سوشل سیفٹی نٹ اور روزرگار کے  لیے نئےپروگرام شروع کیے۔  اس طریقےکو دیگر ممالک میں بھی اپنا کر حکومتوں نے منڈی کی منطق اور جمہوری حکمرانی کے درماین تضاد کو حل کرنے کی کوشش کی۔  منڈی کی منطق یہ تھی کہ معیشت کو حکومت کی مداخلت کے بغیر چلنے دیا جائے، مگرجمہوریت کا تقاضہ یہ تھا کہ منڈی میں حکومتی مداخلت کے زریعے عوام کو معاشی بدحالی اور مصائب سے بچایا جائے۔

آگے چل کرآزاد منڈی کی بنیاد پرستی کے رحجانات پیدا ہوئے، ان رحجانات کو ملٹن رائڈمین جیسے نظریہ ساز، تھیچر اور ریگن جیسے لیڈر مل گئے۔ ان لوگوں نے فلاحی ریاستوں کے تصورات کے خلاف اور آزاد منڈی کے حق میں ایک نئی جنگ کا آغاز کیا۔  یہ مارکیٹ بنیاد پرستیابتدا میں بائیں بازوں کے سوشل ڈیموکریٹ تصورات کے خلاف استعمال ہوئی، بعد ازاں سنٹر لیفٹ پارٹیز نے بھی یہ تصور اپنا لیا، جن میں صدر متراں اور بل کلنٹن جیسے لیڈر شامل تھے۔  ان رہنماوں نے ویلفئرفنڈز میں کٹوتی کی۔ ان لوگوں نے اقدامات کی وجہ سے سفید فام ورکنگ کلاس کو سیاسی نظام اور سنٹرلیفٹ سے بدظن کیا۔

نوے کی دھائی میں سرد جنگ کے خاتمے نے بظاہرقومی ریاستوں کی ضرورت ختم کر دی۔  یورپین یونین کی تشکیل اسی خیال کا اظہار تھا۔  یہ ایک نیا بندو بست تھا، جس میں جمہوریت کے لیے جگہ تھوڑی تنگ ہوگئی تھی۔  قومی ریا ستوں سے اختیارات کی برسلز منتقلی کی وجہ سے طاقت غیرمنتخب ٹیکنوکریٹ کے پاس چلی گئی۔  جویورپی باشندے برسلز کی پالیسیوں سے نا خوش تھے، ان کے پاس ان کو بدلنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔  وہ اپنے ووٹ کا استعمال اپنے قومی انتخابات میں ہی کر سکتے تھے۔ چنانچہ عام آدمی میں معاشی مشکلات کا شکار ہوا۔  اس میں ثقافتی شکایات پیدا ہوئیں۔  اس سے پاپولسٹ قوم پرستی کے جذبات ابھرے۔  تارکین وطن اوراقلیتوں کے خلاف نفرت کو ابھارا گیا۔  اشرافیہ کے خلاف ایک بیانیہ تخلیق ہوا، جس کے تحت مسائل کو لبرل ازم اورسوشلزم کے سرتھونپ دیا گیا۔  برطانوی انتخابات کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *