فرانس میں پنشن اصلاحات کے خلاف عام ہڑتال، زندگی مفلوج

فرانس میں صدر ایمانوئل ماکروں کی پنشن اصلاحات کے خلاف ملازمین کی مختلف انجمنوں نے مشترکہ طور پر عام ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس ہڑتال میں مختلف شعبوں کے لاکھوں افراد حصہ لے رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ہڑتال میں اساتذہ، ملک بھر کے ٹرانسپورٹ ملازمین، محکمہ پولیس، وکلاء، ہسپتال اور ہوائی اڈوں کے عملے سمیت کئی دیگر شعبوں کے ملازمین حصہ لے رہے ہیں۔

فرانس میں ملازمت سے سبکدوشی اور پینشن سے متعلق کئی قوانین ایسے ہیں، جو بہت پرانے ہو چکے ہیں اور ماکروں انتظامیہ ان میں اصلاحات کے لیے ایک جامع قانون وضع کرنا چاہتی ہے۔

مجوزہ اصلاحات میں یہ بھی شامل ہے کہ ملازمین کی یومیہ کارکردگی کی بنیاد انہیں پوائنٹ دیے جائیں اور اسی بنیاد پر ملازم کی مستقبل کی پنشن طے کی جائے گی۔ اس میں ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی بھی تجویز ہے۔

فرانس میں ریٹائرمنٹ کی عمر 60 برس تھی، جو بعد میں 62 برس کر دی گئی لیکن ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں یہ اب بھی بہت کم ہے۔ پوائنٹ کی بنیاد پر اگر کوئی شخص 64 برس کی عمر سے  قبل ریٹائر ہوتا ہے تو اسےپنشن کم ملے گی۔

بیشتر ٹریڈ یونینز حکومت کی ان اصلاحات کی مخالف ہیں اور اسی لیے سب نے متفقہ طور پر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ حکام نے یونینز سے بات چیت کر کے درمیانی راستہ نکالنے بہت سی کوششیں کیں تاکہ کسی طرح اس ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے لیکن حکومتی کوششیں کارگر ثابثت نہ ہو سکیں۔

ویسے تو یہ ہڑتال جمعرات کے روز کے لیے ہے لیکن امکان ہے کہ اس میں توسیع بھی ہوجائے کیونکہ بعض ٹریڈ یونینز کے رہنماؤں کا کہنا ہے جب تک صدر اپنے منصوبوں کو واپس نہیں لیتے اس وقت تک ہڑتال جاری رہے گی۔ ادھر ملک کے صدر اور وزیر اعظم ان اصلاحات کے تئیں اپنی حکمت عملی طے کرنے میں مصروف ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ہڑتال کے سبب بیشتر افراد گھر پر ہی رہیں گے کیونکہ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی سبب آمد و رفت سب سے بڑا مسئلہ ہوگا۔ خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق ہڑتال کا سب سے زیاہ اثر نقل و حمل پر ہی پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور تیز رفتار ٹرینوں کی آمد و رفت بھی آج دن شدید متاثر رہے گی۔ جبکہ پیرس میٹرو کو پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے اور بیشتر سکولز بھی بند ہیں۔

قومی ایئر لائن ایئر فرانسنے 30 فیصد ملکی اور پندرہ فیصد بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا ہے۔ سستی برطانوی ایئرلائن ایزی جیٹنے بھی ہڑتال کی وجہ سے اپنی 223 پروازیں منسوخ کردی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے دوران تقریبا ڈھائی سو مختلف مقامات پر مظاہروں کا امکان ہے اور بعض جگہوں پر پر تشدد واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ اس ہڑتال میں ہسپتال کی نرسیں، پولیس افسران، محکمہ بجلی اور ڈاک کے ملازمین بھی شریک ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے پیش نظر ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایک جائزے کے مطابق جمعرات کی ہڑتال کو فرانس کے تقریبا 70 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے، جس میں اکثریت 18 سے 34  برس کے نوجوانوں کی ہے۔

اس سے قبل فرانس میں پینشن اصلاحات کے خلاف 1995ء میں ہڑتال کی گئی تھی، جو تقریباً تین ہفتوں تک جاری رہی تھی۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ اس ہڑتال کا دورانیہ اتنا طویل نہ ہو۔ 1995ء میں فرانس میں نقل و حمل کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا اور معیشت کو بھی اچھا خاصا نقصان پہنچا تھا۔ اس ہڑتال کو بھی عوام کی زبردست حمایت ملی تھی اور پھر حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔

اس ہڑتال کو صدر ماکروں کے لیے ایک کڑے امتحان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اپنی پالیسیوں سے فرانس کو عالمی سطح پر ایک اہم مقام دلائیں گے۔ سیاسی مبصرین کی نظر میں ایمانوئل ماکروں تبدیلی لانے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن یہ وقت بتائے کہ وہ کیا حاصل کر پاتے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کے سوالات بھی کیے جا رہے کہ کیا ہڑتال اور مظاہرے اتنے پر اثر ہوں گے کہ ماکروں کی اصلاحات کو روک سکیں؟

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *