آرمی چیف کی ایکسٹنشن، سیاسی جماعتیں اور سوشل میڈیا

لیاقت علی

چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت کا تعین اوراس میں توسیع کے بل کی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی طرف سے حمایت پر ہمارے سوشل میڈیائی دانشور بہت دل گرفتہ ہیں۔ان کا ردعمل گالی گلوچ اورطعنہ بازی کی صورت فیس بک پر بکھرا ہوا ہے۔

جمہوری آئیڈئلزم کا شکار ان خواتین و حضرات کے خیال میں ان پارٹیوں کو چاہیے تھا کہ وہ اس بل کی مخالفت میں ڈٹ جاتیں خواہ اس کے نتائج کچھ بھی نکلتے کیونکہ ان کے نزدیک جمہوریت کی طرف پیش قدمی کے لئے لازم ہے کہ فوج کے سیاسی غلبے کو براہ راست چیلنج کیا جائے کیونکہ جب تک فوج کو براہ راست چیلنج نہیں کیا جائے گا فوج سیاسی میدان سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

اس آئیڈیلسٹ موقف کے برعکس سوشل میڈیا پر ایک دوسراردعمل بھی سامنے آیا ہے اوریہ موقف ان افراد کا ہے جوان سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت سےغیر مشروط محبت میں گرفتار ہیں اوران کے ہر اقدام کا جواز تراشتے اور اس کی تاویل کرتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لئے دلائل کے انبار لگارہے ہیں کہ ان کی محبوب پارٹیوں کا یہ فیصلہ انتہائی بروقت اوردرست ہے اور ان کے خیال میں اس فیصلے کے علاوہ کوئی دوسرا فیصلہ سیاسی خود کشی کے مترادف ہوتا۔

اس موقف کے حامل خواتین و حضرات ہرحال اورہرصورت اپنی قیادتوں کا دفاع کرنے پریقین رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حمایت کا فیصلہ موجودہ حالات میں بہترین اور عملیت پسندی کا مظہر ہے۔ کوئی دوسرا فیصلہ ان کے نزدیک سیاسی سپیس کو مزید کم کرنے کا موجب بننے کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک تیسرا موقف بھی موجود ہے جو ان سیاسی جماعتوں کو سرمایہ داری کا گماشتہ قرار دیتا ہے اور ان سے کسی بہتری اورسدھار کی امید کو بے معنی قراردیتا ہے۔ یہ موقف انتہائی کمزور اور محض چند افراد کے ون لائنر سٹیٹمنٹس کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

ن لیگ اورپیپلزپارٹی بلاشبہ سٹیٹس کو کی پارٹیاں ہیں اور وہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے سیاسی پیش قدمی کرتی ہیں ۔انھوں نے کبھی انقلابی ہونے کا دعوی نہیں کیا اورنہ ہی وہ انقلابی اقدامات کا عہد اور وعدہ کرتی ہیں۔ ان پارٹیوں کو گالی گلوچ کرنے والوں کی سرگرمیوں کا مرکز سوشل میڈیا ہے اور وہ عملی سیاست کے تقاضوں سے اگر بے خبر نہیں تو اس کا پورا ادراک بالکل نہیں رکھتے۔ وہ اپنی خواہشات اور نظریات کو ان سیاسی جماعتوں کےذریعے پورا کرنے کے خواہاں ہیں ۔ وہ کسی سیاسی نظم کا حصہ نہیں ہیں اس لئے جب چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں موقف اخیتار کرکے خود کو نظریاتی راست بازی کے مینار پرایستادہ کرلیتے ہیں۔ یہ عملی سیاست کی مجبوریوں اوراس کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ اور شناسا نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو اس کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ گفتار کے غازی ہیں۔

ن لیگ اورپیپلزپارٹی کے عشق میں مبتلا افراد اپنی محبوب قیادت کی ہر سیاسی موو کا کوئی نہ کوئی جواز تلاش کرلیتے اورنئی سے نئی تاویل گھڑ لیتے ہیں۔ عشاق سے عقل و فکر کی بات کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ عاشق محبوب کو ہمہ وقت میگنفائی کرتا رہتا ہے اورمحبوب کی ہرادا پردل وجان سے فدا ہوتا ہے۔

ن لیگ اور پیپلزپارٹی اقتداری سیاست کی پارٹیاں ہیں ۔ان کی سرگرمیاں اقتداری داو پیچ کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ پارٹیاں گراس روٹس لیول پرمنظم نہیں ہیں۔ ان میں کارکنوں کی تعداد بتدریج کم اورپاوربروکرز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ مسلسل مارشلاوں اور سیاسی قیادت کی موقع پرستیوں نے سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچوں کا تیا پانچہ کردیا ہے۔ آمرانہ قوتوں سے لڑنے کے لئے سیاسی جماعتوں کا منظم ہونا لازم ہے اس کے بغیرانتہائی منظم ادارے سے لڑنا ممکن نہیں ہے۔

یہ پارٹیاں چاہیں بھی تو غیر سیاسی آمرانہ قوتوں سے براہ راست لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ ان کی صفوں میں ایسے فائٹرز کارکنوں کی شدید کمی ہے جو آمریت کے قلعے سے ٹکر لے سکیں اوراس لڑائی پر فخر کریں۔ اگر آج ن لیگ اور پیپلزپارٹی فوج سے براہ راست ٹکر لینے کا پروگرام بنا بھی لیں تو عوام تو دور کی بات ہے ان کی اپنی پارلیمانی پارٹیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر بکھر جائیں گی کیونکہ ان کے ارکان اسمبلی کسی سیاسی اورنظریاتی کمٹمنٹ کی بجائے سیاسی قیادت کی نظر کرم کی بدولت قومی اسمبلی، سینٹ اورصوبائی اسمبلیوں کے رکن بنےہیں۔

یہ پارٹیاں آمرانہ قوتوں سے لڑنے میں اگرسنجیدہ ہیں تو انھیں اپنی سیاسی پارٹیوں کو گراس روٹس لیول پر منظم کرنا ہوگا اور پارٹیوں کے اندر جمہوری نظم متعارف کرانا ہوگا۔ اورایسا کیے بغیرآمرانہ قوتوں کے خلاف جدوجہد کا سوچنا بھی حماقت ہے۔کسی سیاسی لیڈر کی عدالتی تاریخ پیشی پراس کی کار کے اردگرد کھڑے ہوکر نعرے بازی کرنا اورآمریت کے خلاف جدوجہد کرنا دو مختلف کام ہیں۔

لیکن ایک سوال بھی درپیش ہے کہ اگر یہ پارٹیاں گراس روٹس لیول پر خود کو منظم کرتی ہیں تو خود ان کی اپنی موروثی قیادت کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑےگا اور وہ نہیں چاہتیں کہ ایسا ہو اور وہ اپنی کمانڈنگ پوزیشن سے محروم ہوجائیں۔ اس لئے وہ تھوڑی لڑائی، تھوڑی صلح، پھر لڑائی اور صلح کی پالیسی پر عمل کرتی رہیں گی۔ کسی انقلابی اور بنیادی جمہوری سیاسی تبدیلی کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں ہے۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *