پاکستان: بچے اور خواتین مزدور جدید غلامی کی مثال

پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 12 لاکھ مزدوروں کو بے روزگار کردیا گیا ہے۔ پاکستانی روپے میں تاریخی گراوٹ کی وجہ سے اصل اجرت میں 40 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے

ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن ایچ بی ڈبلیو ڈبلیو ایفنے اپنے دسویں یوم تاسیس کے موقع پر حال ہی میں ایک اجلاس میں اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ باضابطہ کام ہوم بیسڈ سیکٹر‘‘ میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں خواتین اور بچے جدید دور کی غلامی کرتے ہیں۔

ایچ بی ڈبلیو ایف کی سیکرٹری جنرل زہرا خان نے اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ عالمی معاشی بحران کے علاوہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کی آئی ایم ایف سے متعلق  پالیسیاں بھی غربت اور فاقہ کشی میں بے مثال اضافے کا باعث بنی ہیں، جس سے محنت کش طبقے خصوصاً خواتین کارکنوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔

زہرا خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا،پاکستانی حکمرانوں نے اس ملک کی معاشی منصوبہ بندی آئی ایم ایف جیسے عالمی قرض دہندہ کے حوالے کردی ہے جس نے لاکھوں غریب افراد، جن میں مزدوروں سمیت خواتین بھی شامل ہیں بدترین غربت اور افلاس کی طرف دھکیل دیا ہے‘‘۔

گزشتہ ڈیڑھ برس مزدوروں کے لیے کیسے تھے؟

ایچ بی ڈبلیو ایف کی سیکرٹری جنرل زہرا خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجودہ حکومت کے  ڈیڑھ سال کے دوران 12 لاکھ مزدوروں کو بے روزگار کردیا گیا ہے۔ پاکستانی روپے میں تاریخی گراوٹ کی وجہ سے، اصل اجرت میں 40 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے اور غریب خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کو پالنا مشکل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا گھریلو خواتین کارکنوں کی انتھک جدوجہد کی وجہ سے، حکومت سندھ نے گھریلو ملازمین کو قانونی کارکن تسلیم کیا تھا لیکن پھر بھی وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کی حکومتیں ان ملازمین کو قانونی حیثیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔

زہرا خان نے کہا،یہاں تک کہ صوبہ سندھ میں ، اگرچہ ہوم بیسڈ ورک ایکٹ‘منظور ہوچکا ہے لیکن لیکن واضح ضوابط طے نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے اس پرعمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت آئی ایل او ہوم ورک کنونشن 177 کی توثیق کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔‘‘

خواتین مزدوروں کی شرح

زہرا خان کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ برسوں میں گھروں میں کام کرنے والے 12 ملین کارکنوں میں سے 70 فیصد خواتین ہیں جو اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔
صوبائی لیبر سکریٹری،عبدالرشید سولنگی کا کہنا تھا کہ ان کا محکمہ گھریلو ملازمین سمیت مزدوروں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایس ای سی آئی اور دیگر سماجی تحفظ کے اداروں کی اسکیموں میں مزدوری کی شراکت کے معاملے کو کسی طرح حل کیا جائے،تاکہ گھریلو ملازمین کو کارڈ جاری کیے جاسکے‘‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2018 ء کے قواعد کے معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے کابینہ کا اجلاس جلد ہوگا۔ قومی مزدور کونسل کے کنوینر کرامت علی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست نہ صرف آئین اور قومی لیبر قوانین کے مطابق مزدوروں کو ان کے حقوق فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ وہ 36 سے زائد توثیق شدہ بین الاقوامی لیبر کنونشنز پر عمل درآمد کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

جی ایس پی پلس: مزدوروں کو کیا ملا

قومی مزدور کونسل کے کنوینر کرامت علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کے توسط سے یورپی یونین سے ایک خصوصی مراعت ملی ہے لیکن وہ کارکنوں کے حقوق کو تحفظ نہیں دے رہا ہے اور اس صورتحال کے نتیجے میں کارکنوں میں بدامنی پھیل رہی ہے۔  کرامت علی جو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر کے سربراہ بھی ہیں، کہتے ہیں،تیز رفتارصنعتی نمو کے لیے بین الاقوامی مزدوری کے معیاروں پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے مزدوروں پر زور دیا کہ وہ سماجی تحفظ کی اسکیموں میں کارکنوں کی طرف سے شراکت داری کے میکانزم کے بارے میں مشاورت کریں۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *