سعودی عرب نے اسرائیل فلسطینی تنازعے کے امریکی منصوبے کی حمایت کر دی تھی

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل فلسطینی تنازعے کے حل کی کوششوں کی ’قدر‘ کرتا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے آغاز کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تجویز کیے گئے منصوبے کے بارے میں اگر کوئی عدم اتفاق ہے تو اسے امریکی سرپرستی میں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے تاہم امن عمل پر آگے بڑھا جائے تا کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکے جس میں فلسطینی عوام کے جائز حقوق حاصل کیے جا سکیں‘‘۔

سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، سعودی بادشاہت صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ایک جامع امن معاہدے کے لیے کوششوں کی قدر کرتی ہے‘‘۔

فلسطینیوں کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن معاہدے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منصوبہ تاریخ کے کوڑے دان‘‘ میں جانے کے قابل ہے۔ ٹرمپ نے اپنے منصوبے کو تاریخی قرار دیا تھا۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق، سعودی شاہ سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ٹیلی فون کیا اور فلسطینی عوام اور فلسطین کے معاملے پر سعودی عرب کے دوٹوک مؤقف کو دہرایا‘‘۔

سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے بارے میں جاری ہونے والے بیان میں 2002ء کے عرب امن منصوبے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ اس تنازعے کے فوجی حل سے اس علاقے اور کسی بھی فریق کے لیے امن کا باعث نہیں بنے گا‘‘۔

وہ زمانہ جب امن ممکن تھا

کیا صدر ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ ہی بہترین ہے؟ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تقریباً ہر امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کا جاری رکھا ہے۔صدر ٹرمپ کو شاید شک کے بغیر یقیناً یہی لگ رہا ہو گا کہ وہ صدی کی سب سے بڑی ڈیلپیش کر رہے ہیں۔

تقریباً 30 سال پہلے ایک بار امن مذاکرات کا حل نکلتا دکھائی دیا تھا۔ ناروے میں ہونے والے خفیہ مذاکرات کے سلسلے کو اوسلو امن عمل کا نام دیا گیا اور اُسے سنہ 1993 میں وائٹ ہاؤس کے لان میں صدر بِل کلنٹن کی زیرِ نگرانی میں ہونے والی تقریب نے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔

اسرائیل کے سب سے بڑے جنگی رہنما اسحاق رابن اور فلسطینیوں کے لیے آزادی کی امیدوں کی عملی شکل یاسر عرفات نے جن دستاویزات پر دستخط کیے ان کے مطابق جنگ کی بجائے مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کا وعدہ کیا گیا۔ ان دو تلخ حریفوں نے آپس میں ہاتھ بھی ملائے۔

رابن، یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیر خارجہ شیمون پییز کو اس معاہدے پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔اوسلو میں تاریخ رقم ہوئی۔ فلسطینیوں نے اسرائیل کو بطور ریاست قبول کیا۔ اسرائیلوں نے فلسطین لبریشن آرگنائیزیشن کو فلسطینی عوام کے نمائندگان کے طور پر قبول کیا۔

مگر اوسلو معاہدے میں جلد دراڑیں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ بنیامن نتن یاہو نے اسے اسرائیل کے لیے جان لیوا خطرہ قرار دیا۔ اسرائیلیوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کو بسانے کے منصوبے کو اور تیز کر دیا۔ ایڈورڈ سعید جیسے معلم نے فلسطینیوں کی جانب سے اوسلو معاہدے کو تسلیم کرنے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے کر مذمت کی۔

حماس اور اسلامِک رزسٹنس موومنٹ کے فلسطینی عسکریت پسندوں نے یہودیوں کو قتل کرنے اور ڈیل کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے خودکش بمبار بھیجے۔اسرائیل میں حالات خراب ہو گئے۔ رابن کو ان کے ہی چند ساتھیوں نے نازی کہہ دیا۔ چند ماہ کے اشتعال کا نتیجہ یہ نکلا کہ نو نومبر 1995 کو ایک یہودی شدت پسند نے ان کا قتل کر دیا۔

رابن کا قاتل امن عمل کو برباد کرنا چاہتا تھا اور اس کے مطابق ایسا کرنے کے لیے اُسے اُس اسرائیلی کو ختم کرنا تھا جو امن عمل کو حقیقت بنا سکتا تھا۔ رابین کا قاتل صحیح تھا۔اگر رابن زندہ رہتے تو ممکن ہے کہ اوسلو معاہدہ چھوٹی معاملات اور یروشلم کے مستقبل جیسے بڑے مسائل کی وجہ سے پھر بھی ناکام ہو جاتا کیونکہ دونوں اطراف کے لیڈرز لڑائی کو سمجھوتے پر ترجیح دیتے ہیں۔

DW/BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *