امریکہ اور چین کےدرمیان تجارتی معاہدہ طے پاگیا

 

امریکہ اور چین کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ وقتی طور پر تھم گئی ہے۔ یہ معاہدہ دو مرحلوں میں مکمل ہو گا ۔ اس معاہدے کی بے شمار شقیں ہیں لیکن اہم شق کاپی رائٹس اور انٹلیلچوئل پراپرٹی رائٹس ہے۔امریکی حکومت کے مطابق چین کی جانب سے گذشتہ چار برسوں میں چوری ہونے والی انٹلیکچوئل پراپرٹی کی مالیت 1.2 ٹریلین ڈالر تک ہے۔

پہلے مرحلے میں چین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کاپی رائٹس اور انٹیلکچوئل پراپرٹی رائٹس کی پابندی کرے گا ۔ امریکی اداروں کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی چیز کو ڈویلپ کرنے کے لیے کئی سال تحقیق کرتے ہیں لیکن چینی کمپنیاں اس کے حقوق خریدنے کی بجائے نقل بنانی شروع کردیتی ہیں۔ اب چین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔۔۔امریکہ کا کہنا ہے کہ صدر اوبامہ کے دور میں جو معاہدہ ہوا تھا اس میں بھی کاپی رائٹس اور انٹلیلچوئل پراپرٹی رائٹس پر عمل درآمد کا کہا گیا تھا مگر معاہدے میں اسے چیک کرنے کا کوئی میکانزم نہیں تھا اور چین مسلسل خلاف وزری کر رہا تھا۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2001 سے سنہ 2018 کے دوران امریکی حکومت کے لیے معاشی تجزیہ کار کی حیثیت سے کام کرنے والے رے بوؤین کہتے ہیں کہ سنہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں چین کی شمولیت کے وقت کیے گئے معاشی فوائد کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ چین کا کبھی بھی قواعد و ضوابط کے تحت چلنے کا ارادہ نہیں تھا۔ چین کثیر الجہتی اتحاد میں اس لیے بھی شامل ہونا چاہتا تھا تاکہ یہ جان پائے کہ یہ اتحاد عالمی تجارت کو کس طرح منظم کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں چین اس اتحاد میں خود تبدیل ہونے کے بجائے اسے بدلنے کے ارادے سے شامل ہوا تھا۔اور اس کا نتیجہ امریکہ میں بیروزگاری اور کارخانوں کی بندش کی صورت میں نکلا جسے چائنا شاککا نام دیا گیا۔ خاص طور پر ان علاقوں کے لوگ زیادہ متاثر ہوئے جنھوں نے سنہ 2016 میں صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔

بہت سی امریکی کمپنیوں نے مزدوری پر اٹھنے والے کم اخراجات کے پیشِ نظر اپنے کارخانے چین میں منتقل کر دیے۔ تاہم ڈینیئل کلیمن کے مطابق جو کمپنیاں چین منتقل ہوئی تھیں انھیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ ان کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی اور انٹلیکچوئل پراپرٹی چین کو منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا۔

یہاں تک کہ وہ کمپنیاں جنھوں نے اپنے کارخانے چین منتقل نہیں کیے ان پر بھی یہ انکشاف ہوا کہ ان کے تجارتی راز کسی نہ کسی طرح چین کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایسے چینی افراد کی ایک طویل فہرست موجو ہے جو جاسوسی اور کمپیوٹر ہیکنگ میں ملوث ہیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے کانگریس کو حال ہی میں مطلع کیا ہے کہ امریکیوں کی جانب سے تخلیقی حقوق یا انٹلیکچوئل پراپرٹی کی چوری سے متعلق شکایتوں کی بنیاد پر شروع کی گئی ایک ہزار سے زائد تفتیشیں اس وقت زیر التوا ہیں جن کا سِرا جا کر چین سے ملتا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق چین کی جانب سے گذشتہ چار برسوں میں چوری ہونے والی انٹلیکچوئل پراپرٹی کی مالیت 1.2 ٹریلین ڈالر تک ہے۔

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ڈین چینگ کے مطابق امریکہ اور چین کے تعلقات میں تناؤ کی ایک بڑی وجہ یہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کمپنیوں کو یہ معلوم ہوا کہ ان کی رجسٹر شدہ مصنوعات چوری ہو رہی ہیں اور ان کے تجارتی راز ہائی جیک ہو رہے ہیں تو ان کمپنیوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ چین کے ساتھ شراکت داری منافع بخش نہیں رہی بلکہ در حقیقت اس کے منفی اثرات ہوئے۔

رے بوؤن کے مطابق سنہ 2015 کے آواخر میں موڈ بدل چکا تھا، جو لوگ پہلے چین کے ساتھ شراکت داری کے حق میں بات کرتے تھے اب وہ بھی گھبرا چکے تھے کہ کس تیزی سے چین ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے رہا تھا۔

 امریکی محکمہ دفاع سمجھتا ہے کہ آنے والے عشروں میں امریکہ کا ایک بڑا عسکری ہدف چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے چین نے جس تیزی سے ساؤتھ چائنا کے پانیوں میں مصنوعی جزیرے تعمیر کیے اور وہاں فوج تعینات کی ہے، اس نے واشنگٹن میں بہت سے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ڈین چینگ کے بقول ہر سال ساؤتھ چائنا کے راستے پانچ اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر کا تجارتی مال گزرتا ہے۔ اس لحاظ سے ’چین کے اقدامات کا مقصد یہ تھا کہ وہ کسی طرح خون کی اس بڑی شریان کو کاٹنے کے قابل ہو جائے جو عالمی تجارت میں شہہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔‘

اسی طرح روبوٹِکس اور مصنوعی ذہانت جیسی اہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جانے کی خواہش سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے عزائم کیا ہیں۔ بونی گلیسنر کہتی ہیں کہ ’یہ چیز اب اس مقابلے بازی میں بنیادی حیثیت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ اگر چین ان شعبوں میں امریکہ سے آگے نکل جاتا ہے تو وہ شاید امریکہ کو پیچھے ہٹا کر خود دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔اور یہی وہ چیز ہے جو اب داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

امریکہ کی عسکری برتری کی بنیاد بہت بڑی فوج نہیں بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیار اور انھیں استعمال کرنے والے سِسٹم ہیں۔ اگر چین اس قسم کی اہم ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل کر لیتا ہے تو ہو سکتا ہے امریکہ زیادہ عرصے تک اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔

تاہم، ڈاکٹر کلیمن سمجھتے ہیں کہ غیر عسکری ٹیکنالوجی کا میدان بھی نہایت اہم ہے۔ ’چین نہ صرف ملک کے اندر نگرانی (سرویلینس) اور سینسرشِپ والی ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر رہا ہے بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کو برآمد بھی کر رہا اور اس حوالے سے دوسرے ملکوں کی مالی مدد بھی کر رہا ہے‘۔

ڈاکٹر کلیمن کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں چین کے بارے میں بحث میں جو چیز مرکزی بن جائے گی وہ ہائی ٹیک کے میدان میں اس کا غیر جمہوری رویہ یا استبداد ہوگا۔اس لیے اگر صدر ٹرمپ آئندہ انتخابات میں ناکام بھی ہو جاتے ہیں تو یہ توقع نہ رکھیں کہ مستقبل قریب میں چین سے متعلق امریکہ کی پالیسی تبدیل ہو جائے گی۔ واشگنٹن میں مُوڈ بدل چکا ہے۔اب بات یہ نہیں رہی کہ چین کو آڑے ہاتھوں لینا ہے یا نہیں، بلکہ بحث یہ ہے کہ یہ کام کرنا کیسے ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے بہت سے رہنما، صدر ٹرمپ کی یکطرفہ پالیسی کے برعکس، امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم زیادہ تر ڈیموکریٹ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ان کی جماعت چین کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتی ہے تو پارٹی کو ووٹ بھی کم ہی ملیں گے۔

BBC/Web Desk

Comments are closed.