انسانِ کامل ۔ ذاکر صاحب


آصف جیلانی

میں اپنے آپ کو بے حد خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے ذاکر صاحب کے زیر شفقت آنکھ کھولی جو نہ صرف اعلی ترین ماہر تعلیم تھے بلکہ ہندوستان کی سیاست کے بھی درخشاں ستارے تھے ۔ انہوں نے اپنا بے مثل سفر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ کے عہدہ سے شروع کیا ، آزادی کے بعد انہیں بحران زدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو سنبھالا دینے کے لئے وائس چانسلر مقرر کیا گیا ، پھر صوبہ بہار کے گورنر کے فرایض سونپے گئے اور اس کے بعد ہندوستان کے نائب صدر کے عہدہ پر فایز کیا گیا اور یہ سفر ہندوستان کی جمہوریہ کے صدر کے اعلی ترین عہدہ پر ختم ہوا۔

ایک زمانہ گذر گیا لیکن وہ دن اب بھی میرے ذہن پر کندہ ہیں جب ہم دلی کے قرول باغ کے علاقہ میں ذاکر صاحب کے پڑوس میں رہتے تھے۔ میرے والد جو علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کے وقت ذاکر صاحب کے ساتھی تھے ، ان ہی کے ساتھ علی گڑھ سے دلی منتقل ہوئے تھے ۔قرول باغ میں ذاکر صاحب کا مکان جامعہ کے تعلیمی مرکز کے برابر میں گرودوارے کے سامنے تھا ۔ میری امی ، ذاکر صاحب کی بیگم ، شاہ جہاں بیگم کی قرئبی سہیلی تھیں اور ذاکر صاحب کی چھوٹی بیٹی صفیہ میری ہم عمر اورابتدائی مدرسہ میں میری ہم جماعت تھیں۔

قایم گنج فرخ آباد کے دراز قد آفریدی پٹھان ذاکر صاحب کے گورے چٹے چہرہ پر اس زمانہ میں کالی داڑھی نے انہیں بارعب اور نورانی بنادیا تھا۔ ایک دن صفیہ سے فرشتوں کے بار ے میں بات ہورہی تھی، میں نے صفیہ سے پوچھا کہ کیاتم نے فرشتے دیکھے ہیں؟ وہ فورا بولی ہاں ہمارے میاں ہیں۔میں نے کہا تمھارے میاں؟ ابھی تو تمھاری شادی بھی نہیں ہوئی، صفیہ نے کہا کہ ہم گھر میں اپنے ابو کو میاں کہتے ہیں اور وہ صحیح معنوں میں فرشتہ ہیں۔

اور واقعی اس کی تصدیق چند سالوں کے بعد ہو گئی جب ہم اوکھلے میں جامعہ کی نئی عمارتوں میں منتقل ہوگئے ۔ہمارے والد، جامعہ کے لئے چندہ جمع کرنے سندھ گئے ہوے تھے اس دوران میری بہن آصفہ کو ٹایفایڈ ہوگیا۔ ذاکر صاحب ہر روز صبح شام آصفہ کی طبعیت پوچھنے کے لئے آتے تھے ۔ایک لمحہ کے لئے بھی انہوں نے یہ محسوس نہ ہونے دیا کہ ہم اکیلے ہیں۔ ایک صبح ذاکر صاحب آصفہ کو دیکھنے آئے تو انہوں نے آصفہ سے پوچھا بیٹی آج کون سا پھل تم کھانا پسند کرو گی۔ آصفہ نے کہا انگور۔ذاکر صاحب نے کہا کہ آج میں ضرور لاوں گا۔

ہم سب پریشان ہوگئے کیونکہ یہ انگوروں کا موسم نہیں تھا اور پھل فروشوں کی دکانوںپر انگوروں کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ لیکن ذاکر صاحب انگوروں کی تلاش میں جامعہ سے دس پندرہ میل دور سبزی منڈی جا پہنچے۔ وہاں انہوں نے پشاور کے حاجی عباد اللہ صاحب کی کوٹھی کادروازہ کھٹکھٹایا۔ ذاکر صاحب حاجی صاحب کو بخوبی جانتے تھے ۔ ان کی دو بیٹے عظمت اللہ اور رفعت اللہ جامعہ میں پڑھتے تھے اور حاجی صاحب جامعہ کی مالی امداد کرتے رہتے تھے۔

حاجی عباد اللہ ، صبح سویرے دروازے پر ذاکر صاحب کو کھڑا دیکھ کر حیران رہ گئے انہوں نے ذاکر صاحب سے پوچھا کہ خیریت تو ہے صبح سویرے کیسے آنا ہوا۔ ذاکر صاحب نے کہا کہ مجھے انگور چاہئیں۔ حاجی صاحب نے کہا کہ ذاکر صاحب یہ موسم انگوروں کا نہیں ہے ۔ منڈی میں کہیں انگور نہیں ہیں۔ ذاکر صاحب نے کہا کہ حاجی صاحب میں نے ایک بیمار بچی سے انگوروں کا وعدہ کیا ہے جو مجھے پورا کرنا ہے ۔ حاجی صاحب کو ذاکر صاحب کے مشن کی اہمیت کا احساس ہوا۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد وہ اپنی کوٹھی کے تہہ خانہ میں گئے اور وہاںسے ایک چھوٹی سی ٹوکری میں روئی میں رکھے انگور لائے ۔ حاجی صاحب نے وہ ٹوکری ذاکر صاحب کو یوں پیش کی جیسے نازک ہیروں سے بھری ہو۔

ذاکر صاحب خوشی سے پھولے نہیں سمائے اور حاجی صاحب سے والہانہ بغل گیر ہونے کے فورا بعد ایک بیمار بچی کی خواہش پوری کرنے کی مسرت میں جامعہ نگر آئے اور آصفہ کو گود میں بٹھا کر انگور کھلائے۔ اس موقع پر آصفہ اور ذاکر صاحب کی خوشی کا جو عالم تھا اس کا منظر برسوں گزرنے کے بعد بھی مجھے یاد ہے ۔ مجھے ذاکر صاحب واقعی ایک فرشتہ نظر آئے۔

ذاکر صاحب جامعہ کے شیخ الجامعہ(وایس چانسلر) بننے سے پہلے معاشیات کی اعلی تعلیم کے لئے جرمنی گئے تھے ۔ وہاں کے نظام تعلیم سے وہ بہت متاثر تھے ۔جرمنی میں قیام کے دوران ان کی ملاقات ایک جرمن خاتوں مس گرڈا فلپس بورن سے ہوئی تھی۔انہوں نے برلن یونی ورسٹٰی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہیں جب جامعہ کے بارے میں پتہ چلا تو وہ بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے اپنی عیش و عشرت کی زندگی ترک کر کے اپنی خدمات جامعہ کو پیش کردیں ۔ جامعہ آکر انہوں نے کنڈر گارٹن کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور جامعہ کی خواتین کو بچوں کی تعلیم میں بھر پور حصہ لینے پر آمادہ کیا۔

گرڈا فلپس بورن ، جامعہ میں آپا جان کہلاتی تھیں ۔ کوئی یقین نہیں کرے گا کہ میں نے کنڈر گارٹن میں اردو آپا جان سے سیکھی تھی اس وقت جب وہ پڑھاتی تھیں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ جرمن خاتون ہیں۔ وہ بے حد حسین تھیں اوران کی آواز میں بلا کی موسیقی تھی ۔دل چاہتا تھا کہ انہیں دیکھتے اور سنتے رہیں۔ بد قسمتی سے ان کے جامعہ آنے کے بعد دوسری عالم گیر جنگ چھڑ گئی اور ایک جرمن شہری ہونے کی وجہ سے حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا اور کچھ عرصہ گجرات کے نظربندی کیمپ میں قید رکھا جہاں انہیں کینسر کا مرض لاحق ہوا ۔علاج کے لئے انہیں دلی کے ارون ہسپتال میں منتقل کیا گیا لیکن ڈاکٹر آپا جان کو نہ بچا سکے اوروہ 1943میں اس دار فانی سے کوچ کرگیں۔جامعہ کے قبرستان میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ ساری آخری رسومات اسلامی طریقہ سے انجام دی گئیں تھیں۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ مشرف بہ اسلام ہوگئی تھیں لیکن انتقال سے پہلے بہت کم لوگوں کو اس کا علم تھا۔

آپا جان ہی کی نگرانی میں جامعہ کا تعلیمی نظام جرمن طریقہ پر استوار کیا گیا تھا۔ابتدائی اور ثانوی مدرسوں میں تحریری امتحان کا روایتی طریقہ کار ترک کر دیا گیا اور طالب علم کی سارے سال کی کارکردگی کو امتحان میں فوقیت دی جانے لگی ۔ اسی کے ساتھ طلباکی کتابی تعلیم کے ساتھ حرفہ۔ ظروف سازی ، باغبانی اورطلبا کی کتابوں کے سر ورق کے لئے ابری سازی پر زور دیا گیا تاکہ طلبا کو عملی زندگی میں مدد مل سکے۔

ذاکر صاحب کا طلبا کے ساتھ رویہ نہایت دوستانہ او ر بے تکلفانہ تھا۔ ذاکر صاحب دوسرے اساتذہ کے ساتھ فجر کی نماز کے بعد ایک میل تک چہل قدمی کرتے تھے اور واپسی پر اقامت گاہوں میں دیکھ لیتے تھے کہ طلباجاگ گئے ہیں یا ابھی محو خواب ہیں۔ ایک دن یہی دیکھنے کے لئے ذاکر صاحب ثانوی کے طلبا کی اقامت گاہ پہنچے۔ دیکھا کہ ایک طالب علم کمبل اوڑھے سورہا ہے ۔ انہوں نے جب کمبل ہٹا کر اسے جگایا تو دیکھا یہ طالب علم تکیہ سے بری طرح لپٹا سورہا ہے ۔ ذاکر صاحب کو دیکھ کر یہ طالب علم گھبرا گیا ۔ ذاکر صاحب نے طالب علم سے کہا میاں صاحب زادے گھبرانے اور شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔ ہم جب آپ کی عمر کے تھے تو ہم درختوں سے لپٹ جاتے تھے۔ ذاکر صاحب کی اس بات پر طالب علم کے ہوش بحال ہوئے اور شرمندگی کی جگہ قہقہے نے لے لی ۔ یہ منفرد انداز تھاطلبا کے ساتھ ذاکر صاحب کی بے تکلفی کا۔

اور یہ واقعہ بھی بہت مشہور ہے۔ ایک روز ڈایننگ ہال میں بچے کھانے کی میز پر الٹی سیدھی حرکتیں کر رہے تھے اور کھانا ادھر ادھر بکھیر رہے تھے۔ ذاکر صاحب نے جب یہ دیکھا تو انہوں نے بچوں کو ڈانٹا نہیں اس کے بجائے ذاکر صاحب خاموشی سے کھانے کی میز پر آکر بیٹھ گئے اور سارا بکھرا ہوا کھانا اور روٹی کے ٹکرے جمع کرکے کچھ کہے بغیر کھانے شروع کردیے۔ ۔ ذاکر صاحب کے اس عمل کو دیکھ کر بچے دم بخود رہ گئے اور ان پر ایسا اثر ہوا کہ وہ سب رونے لگے۔

ذاکر صاحب کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ جس میں وہ موت کے منہ سے نکلے تھے اگست 1947 میں جالندھر ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا۔ جامعہ کی سلور جوبلی کی تقرئبات کی وجہ سے ذاکر صاحب بہت تھک گئے تھے ان کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ دو تین ہفتے کے لئے کشمیر چلے جائیں جہاں ہاوس بوٹ میں مکمل آرام کریں۔ کشمیر جانے کے لئے وہ دلی اسٹیشن پہنچے تو معلوم ہوا کہ سخت ہنگاموں اور مار کٹائی کی وجہ سے ٹرینیں جالندھر سے آگے نہیں جا رہی ہیں۔ ذاکر صاحب نے فیصلہ کیا کہ جالندھر میں اپنے ایک دوست کے ساتھ قیام کے بعد واپس دلی چلے آئیں گے۔

جالندھر اسٹیشن پہنچے تو دیکھا اسٹیشن سنسان پڑا تھا۔اور باہر قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا ۔ذاکرصاحب ابھی باہرجانے کے لئے گاڑی کا انتظار کر رہے تھے کہ مسلح سکھوں کے ایک ہجوم نے ذاکر صاحب کا سامان اپنے قبضہ میں لے کر ان کو گھیر لیا اور کرپانیں لہرا کر حملے کے لئے آگے بڑھا۔ ایک ہندو دوست نے ذاکر صاحب کو پہچان لیا اور ذاکر صاحب کا ہاتھ پکڑ کراس ہجوم سے نکال لیا۔ اور ذاکر صاحب کو اسٹیشن ماسٹر کے دفتر لے گیا لیکن دفتر کے باہربھی بلوائی جمع ہو گئے اور ذاکر صاحب پر حملہ کرنے والے تھے کہ ایک سکھ فوجی افسر نے ذاکر صاحب کو بچا لیا اور ایک وین کا انتظام کر دیا مسلح گروہ نے ذاکر صاحب کا پیچھا کیا اور ان پرپھر ہلہ بولنے کی کوشش کی لیکن فوجی افسر نے انہیں گھسیٹ کر وین پر چڑھا دیا اور وین کا ڈرایور انہیں برق رفتاری سے شہر لے گیا ۔ فوجی افسرنے ذاکر صاحب کوان کے دوست سیشن جج بیدی کے گھر پہنچایا جنہوں نے ذاکر صاحب کوفوج کے پہرہ میں بحفاظت جالندھر چھاونی پہنچا دیا جہاں سے وہ ٹرین کے ذریعہ دلی پہنچے ۔

ذاکر صاحب کے کارناموں میں بلا شبہ سب سے بڑا کارنامہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی کامیابی ہے جو ہزار دشوایوں اور آزمایشوں سے گذر کر قومی یونیورسٹی کی منزل تک پہنچی اور جسے اکتوبر 2020میں پورے ایک سو سال ہو جائیں گے۔جامعہ نے بنیادی تعلیم کو ایک نئی جہت عطا کی ، اور مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دیا اور یہ ثابت کیا کہ جامعہ میں مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا عملی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسرا بڑا کارنامہ ذاکر صاحب کا1946 میں جامعہ کی سلور جوبلی تھا۔ یہ جوبلی 1945میں ہونے والی تھی لیکن پورے ملک میں فرقہ وارانہ جنون کی بھڑکی ہوئی آگ کی وجہ سے جوبلی کی تقرئب نومبر 1946 میں ہوئی۔ُ اس وقت ملک کی سیاست دو بڑی متحارب جماعتوں میں بٹی ہوئی تھی۔ یہ ذاکر صاحب کی کامیابی تھی کہ انہو ں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے عمایدین کو ایک اسٹیج پر یک جا ہونے پر آمادہ کر لیا ۔ جوبلی کے اجلاس کی صدارت نواب بھوپال کر رہے تھے اور ان کے دائیں جانب قاید اعظم محمد علی جناح ، مس فاطمہ جناح، لیاقت علی خان ، سردار نشتر کے ساتھ مسلم لیگ کے رہنما بیٹھے تھے اور بائیں جانب جواہر لعل نہرو، مولانا آزاد، آصف علی اور کانگریس کے دوسرے رہنما بیٹھے تھے۔

ذاکر صاحب نے اس موقع پر ان تمام رہنماوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب صاحبان آسمان سیاست کے تارے ہیں ، کڑوڑوں عوام کے دل میں آپ کے لئے جگہ ہے۔ آپ کی موجودگی سے فایدہ اٹھا کر میں تعلیمی کام کرنے والوں کی طرف سے بڑے ہی دکھ کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج ملک میں باہمی نفرت کی جو آگ بھڑک رہی ہے اس میں ہمارا چمن بندی کا کام دیوانہ پن معلوم ہوتا ہے ۔ بربریت کے دور دورے میں تہذئب کو کیسے بچا سکیں گے ۔خدا کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیے اور اس آگ کو بجھایئے ۔ یہ وقت اس تحقیق کا نہیں ہے کہ آگ کس نے لگائی ، کیسے لگی ۔ آگ لگی ہوئی ہے اسے بجھایئے ۔ یہ مسلہ اس قوم اور اس قوم کے زندہ رہنے کا نہیں ہے ۔ مہذب انسانی زندگی اور وحشیانہ درندگی میں انتخاب کا ہے ۔ خدا کے لئے اس ملک میں مہذب زندگی کی بنیادوں کو یوں اکھڑنے نہ دیجئے۔

ذاکر صاحب جب ملک کے رہنماوں سے یہ اپیل کر رہے تھے تو بہت سے شرکا کی آنکھیں اشک آور تھیں۔

ایک اور بڑاکارنامہ ذاکر صاحب نے آزادی کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو سنبھالنے کا انجام دیا۔ مسلم یونیورسٹی ، مسلم لیگ کے گڑھ کی وجہ سے فرقہ وارانہ عناصر کے انتقامی نشانہ پر تھی۔اور اس کی اقلیتی حیثیت سخت خطرہ میں تھی۔ ذاکر صاحب نے مسلم یونیورسٹی کو جس کامیابی سے سنگین بحران سے نکالا اس کے سب معترف تھے اور اسی کامیابی کے عوض ذاکر صاحب کو بہار کا گورنر مقرر کیا گیا اور اس کے بعد دلی میں نائب صدر کے فرایض سونپے گئے۔

نائب صدر کی حیثیت سے ذاکر صاحب راجیہ سبھا کے اجلاس کی صدارت کرتے تھے ۔ ان دنوں میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نمایندے کی حیثیت سے تعینات تھا۔میں جب بھی راجیہ سبھا کے اجلاس کی کاروائی سننے جاتا تھا تو ذاکر صاحب کرسی صدارت سے مجھے ایسے مسکر ا کر دیکھتے تھے کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ میری جامعہ کے پرانے طالب علم میں تمھیں پہچانتا ہوں۔تمھیں بھولا نہیں۔ راجیہ سبھا کے صدر کی حیثیت سے ذاکر صاحب کا جو احترام اور دبدبہ تھا وہ دیکھنے کے لایق تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ایک بے حد مقبول استاد کرسی صدارت پر فایز ہے۔

ذاکر صاحب سے میری آخری ملاقات 1964 میں پنڈت نہرو کے انتقال پر تعزتی تقرئب میں ہوئی۔ اس کے بعد ستمبر 1965میں ہندوستان اورپاکستان میں جنگ چھڑ گئی ۔ جس کے دوران میں نے دلی کے تہاڑ جیل میں قصوری چکی ، C کلاس اور Bکلاس غرض جیل کی تمام کلاسوں میں قید کاٹی اور صحافیوں کے تبادلے میں رہا ہوا۔ رہائی کے چند ہفتوں کے بعد میں لندن میں روزنامہ جنگ کا نمایندہ مقرر ہوا۔
لندن میں میں نے مئی1967میں سنا کہ ذاکر صاحب ہندوستان کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ اور مئی 1969 میں میں نے لندن ہی میں ذاکر صاحب کے انتقال کی خبر سنی اور یہ میری ہی قسمت میں تھا کہ میں بی بی سی کی اردو نشریات میں ذاکر صاحب کے اس دار فانی سے رخصت کی خبر نشر کروں اور ان کی شخصیت اور ان کے کارناموں کا تذکرہ کروں۔

ذاکر صاحب کو ان کی جامعہ میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ ان کے مقبرہ کے ایک سمت مشرق میں جامعہ کا مدرسہ ہے ، مغرب میں لائبریری ہے اور شمال میں مسجد ہے۔

ہندوستان کی مسلم تاریخ میں پہلی مرتبہ ذاکر صاحب کی تدفین کے وقت ان کی قبر میں مسلم اور غیر مسلم خواتین نے مٹی کی تین تین مٹھیاں ڈالیں ۔ یہ ذاکر صاحب کی خواہش تھی کیونکہ وہ مذہبی وابستگیوں سے بالا تر انسانیت کے ناطے تمام انسانوں کے باہمی رشتوں پر یقین رکھتے تھے اس اعتبار سے ذاکر صاحب واقعی انسانِ کامل تھے۔

Comments are closed.