انڈونیشیا، کوڑے مارنے والی خواتین کا دستہ تیار

انڈونیشی صوبے آچے میں سخت شرعی قوانین کا نفاذ ہے، جہاں متعدد جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت شرعی سزائیں سنائی جاتی ہیں اور ان سزاؤں پر عملدرآمد لوگوں کے سامنے کھلے عام کیا جاتا ہے۔

انڈونیشی صوبے آچے میں حکام نے مجرم خواتین کو کوڑے یا درے مارنے کے متنازعہ عمل کے لیے اب خواتین ہی بھرتی کر لی ہیں۔ یہ خواتین نقاب پہن کر اپنے ہدف یعنی کسی مجرم‘  خاتون کو سنائی جانے والی شرعی سزا پرعملدرآمد کرتی ہیں۔

پانچ ملین نفوس پر مبنی آچے میں شرعی سزاؤں پر عمل کرنے کے لیے یہ ایک نئی پیش رفت ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنان نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کوڑے مارنے والے خاتون دستے کی پہلی ذمہ داری ایک غیر شادی شدہ خاتون کو کوڑے مارنا تھا، جو ایک ہوٹل کے کمرے سے ایک غیر مرد کے ساتھ گرفتار کی گئی تھی۔

آچے کے دارالحکومت بندے آچے کی شریعہ پولیس کے تفتیش کار اعلیٰ ذاکاوان نے کوڑے مارنے والی ایک خاتون کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ حکومتی تفتیش کار نے کوڑے مارنے والی خاتون کی تکنیک کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُس نے انتہائی مہارت کے ساتھ یہ عمل سر انجام دیا۔

بندے آچے میں شریعہ پولیس چیف سافریادہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، آچے میں کوڑوں کی سزا درحقیقت دیگر ممالک مثال کے طور پر سنگاپور یا سعودی عرب کے مقابلے میں بہتر طریقے سے دی جاتی ہے۔ کیونکہ ہم چوٹ لگانا نہیں چاہتے بلکہ مقصد شرم دلانا ہے۔ تاکہ نہ صرف مجرم بلکہ سزا کو دیکھنے والے بھی دوبارہ ایسا نہ کریں۔‘‘

آچے میں دی جانے والی شرعی سزاؤں کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکن آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے ان سزاؤں کو غیر انسانی اور بربریت‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے کھلے عام کوڑے مارنے کے خلاف بیان ضرور دیا ہے لیکن اس کا اثر آچے کی صوبائی انتظامیہ یا حکومت پر نہیں ہوا ہے۔ 

یہ معاملہ نہ صرف سماجی حلقوں میں بلکہ سیاسی سطح پر بھی  ایک گرما گرم بحث کا باعث ہے۔ انڈونیشیا کی معروف فیمنیسٹ ایٹنیکے سیگورو نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا ہے کہ کسی خاتون کو کوڑے مارنے کے لیے ایک خاتون کا منتخب کرنا اس عمل کو ’زیادہ اخلاقی‘ نہیں بناتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل اینٹی ٹارچر کوینشن کے بھی خلاف ہے اور اس سے انسانی عظمت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اکثر کیسوں میں جھوٹے الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور بے قصور لوگ بھی اس سزا کی زد میں آ جاتے ہیں۔

آچے میں سن 2005 میں شرعی سزاؤں کا نفاذ کیا گیا تھا۔ اس صوبے میں جوا، زناکاری، شراب نوشی اور ہم جنس پرستی یا شادی سے قبل سیکس جیسے مروجہ جرائم پر کارروائی شرعی قوانین کے تحت کی جاتی ہے۔ آچے میں ایک سپیشل فورس بھی تشکیل دی گئی ہے، جو مخبری پر چھاپے مارتی ہے اور ان جرائم میں ملوث لوگوں کو گرفتار کر لیتی ہے۔ اس فورس کا مقصد لوگوں کے رویوں‘  کو درست کرنا ہے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *