کیا سنگین سزائیں دینے سے جرائم ختم ہوجاتے ہیں؟

قانون فہم

عدل گستری کے نظام میں ایک طویل مباحثہ جرائم پر سنگین ترین سزائیں دینا ہے۔ سنگین سزاؤں یا سزائے موت کی وکالت کرنے والے سکالرز یا دوستوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ سزا ملنے کا خوف جرم کو روک سکتا ہے۔ تمام مذاہب بھی سنگین سزاؤں کی حمایت اور وکالت کرتے رہے ہیں ۔ مذہبی تصور زندگی میں پلے بڑھے اور پرورش پائے ہوئے لوگوں کا خیال یہی ہوتا ہے کہ ہر معمولی جرم یا غلطی پر انسان کی جان لے لی جائے تو جرائم کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیمی نظام اور میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی ذہنی کثافت کا یہی عالم ہے کہ ہمیں یہ سکھایا اور سمجھایا گیا کہ ڈنڈا تمام مسائل کا حل ہے اور لوگوں کو سنگین اور کڑی سزائیں دے کر لوگوں کو سیدھے راستے پر چلانا ممکن ہے ۔ہم ہر معاملہ میں ترقی یافتہ معاشرتوں کے متصادم رویہ اختیار کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

ترقی یافتہ معاشرے آج اس لیے ترقی یافتہ ہیں اور وہاں پر امن اور سکون ہے کہ وہ ہر چیز کی عقلی دلیل مانگتے ہیں۔ جب بھی کسی ترقی یافتہ دماغ سے کوئی ڈائیلاگ یا بحث کی جائے تو وہ وہ اس کو ثابت کرنے کے لئے سائنسی تجزیہ مانگتا ہے۔ مثال کے طور پر جب بھی میں کہوں کہ سنگین سزا یا سزائے موت کا کثرت سے دیا جانا یہ عمومی جرائم میں سزائے موت دیا جانا ، مسائل یا جرائم کو روک سکتا ہے تو وہ فوری طور پر سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت سعودی عرب اور ایران میں دی جا رہی ہے تو کیا ان معاشروں میں جرائم ختم ہوگئے ہیں۔

اس کے برعکس وہ دلیل دیتے ہیں کہ جن معاشروں نے سنگین سزاؤں کو یکلخت ختم کردیا۔ سزائے موت دینے کو جرم قرار دے دیا وہ معاشرے رفتہ رفتہ امن اور ترقی کی راہ پر چل پڑے اور بالآخر ایسا وقت آ گیا کہ اس وقت دنیا کے کم از کم دس ممالک میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اب اس مسئلہ کے حل کے لیے اگر ہم عقل اور دلیل کے ساتھ دونوں طرح کے معاشروں کا موازنہ کریں تو اس کا حل ہمارے سامنے آسانی سے آ جائے گا لیکن چونکہ کہ ہمارے نفسیات اور لاشعور میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ قتل کر کے یا ڈنڈے کے زور پر امن قائم کرنا ممکن ہے لہذا ہم تجزیہ کو رد کرنے میں ایک منٹ لگانے کے عادی ہیں۔

ایک بات جو سمجھنے کی ہے کہ جب بھی آپ کسی نظام کو قائم کرتے ہیں خواہ وہ عدل گستری کا نظام ہی کیوں نہ ہو خواہ وہ جج پولیس اور جرم کا نظام ہی کیوں نہ ہو اس نظام میں کچھ لوگ سٹیک ہولڈرز یعنی اس نظام کے فائدہ اٹھانے والے بینیفیشری بن جاتے ہیں۔ آپ اپنی تعلیمات میں بلاشبہ جج کو خدائی اوتار بنائے رکھیں۔ وکیل کو خدا کا روپ دے دیں یا فرشتوں کو عدل گستری کے نظام پر بٹھادیں۔ یہ لوگوں ایک مروجہ نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیں۔

جس معاشرہ میں میں سزائے موت کثرت سے دی جاتی ہے اس معاشرہ میں سزائے موت دینا اور سزائے موت سے بچنا ایک بڑا کاروبار بن جاتا ہے۔ کچھ سال قبل ایک بڑے وکیل جنہیں ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کی پیشکش کی گئی اور انھوں نے انکار کر دیا ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس سزائے موت کے کیسز کی دو سو سے زیادہ اپیلیں ہیں اور وہ دو ارب سے زیادہ ایڈوانس فیس وصول کرچکے ہیں۔۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وصول کردہ فیس کس طرح واپس کروں گا اور میرا مزاج نہیں کہ میں جج بننے کے باوجود ان پیسوں کو اپنے پاس رکھوں۔
ہمارے معاشرے میں عام فہم بات ہے کہ قتل کے مقدمہ میں اصل ملزم کے ساتھ اس کے خاندان کو بھی ملوث کیا جاتا ہے ۔ جن ترقی یافتہ معاشروں نے سزائے موت کو ختم کیا ہے انہوں نے بہترین دستیاب حالات میں جب تجزیہ کیا تو یہ پایا گیا کہ انتہائی دیانت دار جج، انتہائی دیانتدار پولیس اور انتہائی دیانت دار وکیل کی موجودگی میں بھی عدالتوں سے سزائے موت غلط لوگوں کو ہونے کی شرح 75 فیصد سے زائد پائی گئی۔

جس معاشرہ میں زیادہ سے زیادہ جرائم کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی ہوتی ہے اس معاشرہ میں پولیس وکیل اور جج کو کرپٹ ہونے سے بچانا ناممکن ہے۔ جب بھی طاقتور شخص اس شکنجے میں آتا ہے وہ اس شکنجہ کو توڑنے کے لئے یا شکست دینے کے لئے پورے نظام کو برباد کر دیتا ہے اور یہ روز مرہ کا معمول ہے۔

ہمارے ملک کی پولیس کی صلاحیت بھی عجیب دلچسپ داستان ہے۔ لندن میں دس سال قبل عمران فاروق قتل ہوئے تھے ۔ ان کے مجرم آج تک لندن پولیس یا برطانیہ کی تمام ایجنسیاں گرفتار نہیں کرسکی ہیں لیکن برطانیہ کے چیف جسٹس وزیراعظم یا کسی عہدہ دار نے کبھی یہ بڑھک نہیں ماری ہے کہ اگر پولیس چیف چوبیس گھنٹے کے اندر مجرم کو گرفتار نہیں کرے گا تو اس کی بیلٹ اتار دی جائے گی۔

ہمارے معاشرہ میں یہ چلن عام ہے کہ مختلف جج اور وزرائے اعلی اور وزیر اعظم سستی شہرت کے لیے 24 گھنٹے یا اڑتالیس گھنٹے میں ملزم کو پکڑنے کی ہدایت فرماتے ہیں اور بدقسمتی سے ان ہدایات پر عمل بھی ہوجاتاہے۔ قصور کی زینب بی بی کا ہی کیس دیکھیں کہ پولیس اس سے قبل چار لوگوں کو پولیس مقابلوں میں شہید کر چکی تھی۔

جب آپ اپنے عدالتی سسٹم سے سزائے موت کو ختم کر دیں گے تو یقین کریں یہ وکیلوں کی فیس جو کروڑوں میں ہیں وہ لاکھوں میں آجائیں گے اسی طرح اگر آپ سنگین سزاؤں کو ختم کر دیں تو یہ کاروبار مندے کا شکار ہو جائے گا اور پولیس کے پاس سچ مچ اور سنجیدہ دیانتداری سے تفتیش کرنے کے لیے وافر وقت ہوگا۔

آپ یقین کریں کہ ہمارے معاشرہ میں سوفیصد مقدمات جھوٹے اور بے بنیاد درج ہوتے ہیں۔ ہماری پولیس میں اصل ملزم کو تلاش کرنے کا نسخہ ہے نہ ذہانت اور نہ ہی لگن ۔ ہمارے پولیس افسران رات کو ٹارگٹ بناتے ہیں کہ کل کے ایک دن میں اتنے لاکھ روپے جمع کرنے ہیں اور اس کے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔

ترقی یافتہ معاشروں نے پولیس سے گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا ہے۔ پاکستان میں بھی آپ پولیس سے گرفتاری کا اختیار واپس لے لیں تو یقین کریں کہ یہ سوفیصد مقدمات جو آج تھانوں میں درج ہوتے ہیں یہ ختم ہو جائیں گے اور سچ مچ کے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے پولیس آپ کو ہمیشہ فارغ ملے گی۔

بلاشبہ سنگین جرائم معاشرہ میں ہونا معاشرہ میں ہونے والی نفسیاتی اور معاشی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہو رہے ہوتے ہیں۔صرف سنگین سزا متعین کرکے یا جائز ترین ملزم کو سزا دینے کے عمل سے آپ جرائم کو ہرگز روک نہیں سکتے۔ آپ کو اس کے لئے عمومی زندگی میں تشدد کا ہر راستہ کو بند کرنا ہوگا۔

پاکستان میں جمہوری سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی یا اب موجودہ دور میں پی ٹی ایم کو کہا جاسکتا ہے۔باقی سب لوگ کسی نہ کسی نوکری پر ہیں اور جمہوری سیاسی جماعت وہی ہوتی ہے جو جمہوری معاشروں سے رہنمائی لیتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے سنگین سزاؤں کے مخالف مہم کا حصہ رہی ہے اور کسی بھی اشتعال یا ذاتی رنجش کی وجہ سے وہ کسی کے لیے بھی سزائے موت کی تجویز کرنے کی مخالف ہے اور یہ ایک مستقل پالیسی ہے۔سنگین سزاؤں کا خاتمہ کرکے آپ اپنے عدل گستری کے نظام کو شفاف اور ٹرانسپرنٹ بنا سکتے ہیں اور اسے ایک منافع بخش کاروبار بنانے سے بھی روک سکتے ہیں۔

One Comment

  1. Hafeez Kumbhar says:

    Very pithy and exclusive article with logical analysis, basically our society has been converted into sadists’ theater people wants to enjoy any kind of brutality. Rapist want to get pleasure from cries of babies and anti rape person wants to see a hanging body for his catharsis. But no one is ready to reach the actual depression of society..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *