شاہین باغ :جمہوریت کو تقویت ہندوستان کا اتحاد

رام پنیانی

دنیا بھر میں جمہوریت بتدریج انحطاط پذیر ہورہی ہے۔ ایک تنظیم دی اکنامسٹ انٹلیجنس یونٹ مختلف ملکوں میں جمہوریت کی سطح کی نگرانی کرتی ہے۔ اس طرح ہر ملک میں مختلف النوع عوامل ہیں جو ایک طرف اس میں گہرائی لانے کیلئے کام کرتے ہیں، جبکہ دیگر اسے کمزور کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر نظری جمہوریت سے پختہ جمہوریت کی طرف پیش رفت ہے۔

پختہ جمہوریت نہ صرف ملک میں باقاعدہ مساوات، آزادی اور کمیونٹی کا احساس کا نقیب بنے گی بلکہ ان اقدار کے ٹھوس معیار پر بنیاد رہے گی۔ ہندوستان میں عصری تعلیم، ٹرانسپورٹ، مواصلات کو متعارف کرنے پر ایک نئے ترقیاتی عمل کی شروعات ہوئی۔ تاہم، جب 1920ء میں مہاتما گاندھی نے عدم تعاون تحریک شروع کی تب متوسط لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ ہندوستان کی تحریک آزادی دنیا میں عظیم ترین اجتماعی تحریک ثابت ہوئی۔

جمہوریت کے معاملے میں قبولیت اور معیارات کی ہندوستانی دستور میں صراحت ہے، جو اس طرح شروع ہوتا ہے ’ہم ہندوستان کے عوام‘ ؛ اور اسے 26 جنوری 1950ء کو اختیار کیا گیا۔ اس دستور کے ساتھ جن پالیسیوں کو نہرو نے اختیار کیا، جمہوریت کا عمل 1975ء میں خطرناک ایمرجنسی سے گھٹنے لگا، لیکن بعد میں اس کی برخاستگی نے کچھ حد تک جمہوری آزادیوں کو بحال کردیا۔ جمہوریت کا اس عمل کو 1990ء کے دہے سے مخالفت کا سامنا ہے جبکہ رام مندر ایجی ٹیشن شروع کیا گیا، اور 2014ء میں بی جے پی زیرقیادت حکومت اقتدار میں آنے کے بعد مزید انحطاط دیکھنے میں آیا ہے۔

مملکت نے بڑی جدت سے شہری آزادیوں، تکثیریت اور شراکتی سیاسی کلچر پر حملے کئے ہیں جس کے نتیجے میں جمہوریت کو سنگین طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اور یہی کچھ ہے جس کی عکاسی 2019ء میں ہوئی جب وہ دس مقامات گھٹ کر 51 ویں مقام پر آگیا۔ جمہوریت کے اشاریہ پر ہندوستان 7.23 کے اسکور سے نیچے ہوکر 6.90 پر آگیا ہے۔ فرقہ وارانہ بی جے پی سیاست کا اثر قوم اور ملک کی حالت پر واضح ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ اسکور میں یہ کمی ایسے وقت ہوئی ہے جب عوامی احتجاج نے جمہوریت کو تقویت پہنچانے کا کام کیا ہے اور شاہین باغ احتجاجوں سے اس میں شدت پیدا ہورہی ہے۔

شاہین باغ دہلی میں احتجاج کی شروعات کا پس منظر اِس حکومت کا شہریت ترمیمی بل کو قانون میں تبدیل کرنا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر بے رحمانہ حملے کے ساتھ ساتھ جامعہ نگر اور پڑوسی علاقوں میں ظالمانہ طرزعمل ہے۔ 15 دسمبر 2019ء سے قابل ستائش احتجاج جاری ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ اس احتجاج کی قیادت مسلم خواتین کررہی ہیں، برقعہ۔ حجاب والی خواتین سے لے کر ’بظاہر مسلم نظر نہ آنے والی‘ خواتین تک سب جوش و خروش کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان کے ساتھ تمام برادریوں کے اسٹوڈنٹس اور نوجوان شامل ہوگئے، اور پھر تمام برادریوں کے لوگ بھی آگئے۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ اِس مرتبہ مسلم خواتین نے جو احتجاج شروع کیا ہے وہ ان تمام احتجاجوں کے برعکس ہے جو ماضی میں مسلمانوں نے کئے۔ شاہ بانو فیصلہ کی مخالفت میں احتجاج، حاجی علی میں خواتین کے داخلہ کی مخالفت میں احتجاج، تین طلاق کو ختم کرنے حکومتی اقدام کی مخالفت میں احتجاج۔ ابھی تک اعلیٰ سطح کے مولانا حضرات نے احتجاج شروع کئے، جلوسوں اور احتجاجوں میں داڑھی اور سر پر ٹوپی نمایاں دکھائی دیتے تھے۔ یہ سب احتجاج بڑی حد تک شریعت، اسلام کے تحفظ کیلئے ہوئے اور یہ مسلم کمیونٹی کی شرکت تک محدود رہے۔

اِس مرتبہ نریندر مودی نے اعلان کیا کہ ’احتجاجیوں کی شناخت اُن کے کپڑوں سے کی جاسکتی ہے‘۔ وہ جن کی ظاہری طور پر شناخت کی جاسکتی ہے، ان کی تعداد نے ظاہری طور پر تمام شناخت شدہ یا غیرشناخت شدہ افراد کی تعداد کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جاریہ احتجاج اسلام یا کوئی دیگر مذہب کو بچانے کیلئے نہیں بلکہ ہندوستانی دستور کے تحفظ کیلئے ہے۔

نعرے بھی جمہوریت کے دفاع اور ہندوستانی دستور کے تحفظ سے متعلق لگائے جارہے ہیں۔ موضوعاتی نعرے ’’اللہ اکبر‘‘ یا ’’نعرۂ تکبیر‘‘ نہیں ہیں بلکہ ہندوستانی دستور کے دیباچہ سے متعلق ہیں۔ نمایاں گیت فیض احمد فیض کی نظم ’’ہم دیکھیں گے…‘‘ سے بنایا گیا ہے جو ضیاء الحق کی مذہب کے نام پر جمہوریت کو کچلنے کی کوششوں کے خلاف احتجاج رہا۔ ایک اور نمایاں احتجاجی گیت ورون گروور کا ہے، ’’تانا شاہ آئیں گے… ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے‘‘ ، جو سی اے اے۔ این آر سی عمل کے خلاف شہری نافرمانی کیلئے اپیل ہے، اور موجودہ برسراقتدار حکومت کی آمرانہ نوعیت کو پیش کرتا ہے۔

بی جے پی ہم سے کہتی رہی کہ مسلم خواتین کا بنیادی مسئلہ تین طلاق ہے، لیکن مسلم خواتین کی قیادت میں تحریکات نے بتایا ہے کہ بنیادی مسئلہ مسلم کمیونٹی کو درپیش خطرہ ہے۔ تمام دیگر برادریوں نے مذہبی خطوط سے بالاتر ہوکر ان احتجاجوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ان میں سطح غربت سے نیچے والے ہیں، بے زمین افراد ہیں اور بے آسرا لوگ بھی۔ ان تمام کو بھی احساس ہورہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی شہریت کو بعض کاغذات کے فقدان کی وجہ سے خطرہ ہوسکتا ہے تو وہ موجودہ حکومت کی جابرانہ روش میں نشانہ بننے سے کچھ زیادہ پیچھے نہ ہوں گے۔

جہاں سی اے اے۔ این آر سی نے اہم عنصر کا کام کیا ہے، وہیں مودی حکومت کی پالیسیوں نے بھی ان احتجاجوں کو وجہ فراہم کی ہے۔ کالے دھن کو واپس لانے کے بلند بانگ دعوے کی تکمیل سے ناکامی سے لے کر نوٹ بندی کا کافی تکلیف دہ اثر، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں، بڑھتی بے روزگاری، برسراقتدار حکومت کی فرقہ پرست پالیسیاں… یہ سب بھی موجودہ احتجاجی تحریکات کا باعث ہیں۔

احتجاجی تحریک کا پھیلاؤ جو دفعتاً ہورہا ہے لیکن یکساں پیام دیا جارہا ہے جو غیرمعمولی بات ہے۔ شاہین باغ اب محض زمین پر مقام کا نام نہیں رہا، یہ فرقہ پرست پالیسیوں کے خلاف مزاحمت، غریب ورکرز ، کسانوں اور سماج کے متوسط طبقات کی مشکلات کو بڑھانے والی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کی علامت بن گیا ہے۔

ایک بات واضح ہے کہ شناختی مسائل اور جذباتی مسائل جیسے رام مندر، گائے بیف، لوو جہاد اور گھر واپسی کا مقصد سماج کو منقسم کرنا ہے جبکہ شاہین باغ سماج کو متحد کررہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ جمہوری عمل جسے انحطاط کا سامنا ہورہا تھا، اب ہندوستانی دستور کے دیباچہ کو نمایاں کرتے ہوئے لوگ تقویت دے رہے ہیں، جن گن من گارہے ہیں، ترنگا لہرارہے ہیں اور قومی سپوتوں جیسے گاندھی جی، بھگت سنگھ، امبیڈکر اور مولانا آزاد کو نمایاں کررہے ہیں۔

ہم ان احساسات کو محسوس کرسکتے ہیں جن سے ہندوستان کی تعمیر ہوئی اور عوام کی ہمت و شجاعت کا نظارہ کرسکتے ہیں جس کا وہ ہندوستان کی تحریک آزادی اور ہندوستانی دستور کے تحفظ کیلئے مظاہرہ کررہے ہیں۔ بلاشبہ فرقہ پرست قوتیں ان احتجاجوں کے خلاف بے سر پیر کی باتیں اور جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ مگر یہ احتجاج ہماری جمہوریت کیلئے ٹھوس بنیاد ثابت ہورہے ہیں۔ اس تحریک کی خودبخود شروعات ہی اس کی طاقت ہے جسے بدستور درست سمت میں برقرار رکھتے ہوئے ہندوستانی دستور اور ہمارے پیارے وطن کے جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔

روزنامہ سیاست، حیدرآباد، انڈیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *