بایزید روشان: پشتو ادب اور تاریخ کا درخشاں  ستارہ

سنگین ولی

  بایزید روشان پشتو ادب اور تاریخ کا وہ درخشاں ستارہ ہے جن کا شمار پشتون نیشنلزم اور پشتو ادب کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ان کی پشتو لٹریچر اور قوم کیلئے خدمات لازوال ہیں اور ان خدمات پر کئی کتابیں لکھ جاچکی ہیں۔ان کی خدمات کو ایک کالم میں سمیٹنا زیادتی ہوگی مگر کیا کریں ہماری نئی نسل کتابوں سے کوسوں دور ہے تو سوچا یہاں کالم  کے ذریعے توڑا بہت گوش گزار سکوں۔

بایزید روشان وہ پہلا شخص ہے جنہوں نے پشتونوں کے ایک بڑے حصے کو ایک نظرئے کی بنیاد پر اکٹھا کیا، اور منظم کرکے ایک مضبوط مذہبی و سیاسی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔اور اس تحریک نے نہ صرف پشتونوں میں سیاسی و مذہبی شعور پیدا کیا بلکہ پشتو لٹریچر کو بہت کچھ دیا ۔بایزید کی کتاب خیر للبیاناور اسے کے مقابلے میں ان کے حریف اخوندرویزہ کی کتاب مخزن لاسلام”  نے پشتو نثری ادبکو پھر سے زندہ کیا،اور پھر بعد میں تحریک نے کئی شعرا ءاور نثرنگاروں کو جنم دیا۔

استاد عبدلحئ حبیبی نے لکھا ہے کہپیر روشان افغانستان کی تاریخ میں ایک ایسے ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں جو اپنے روحانی گروہ سے لوگوں کی نجات کیلئے شہنشاہوں کے کامیاب لشکروں کے سامنے کھڑے ہوئے ،لڑے ، ،کامیاب ہوئے، شکست کھائی اور قتل ہوئے“. ۔ان کو پیر روشان بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب روشن خیال،اور روشن فکر ہے۔

اگرچہ پشتونوں کی تاریخ تو بہت پرانی ہے۔ بایزید روشان سے ہزاروں سال پہلے پشتون افغان اپنے تاریخی وطن (دریائے آمو سے دریائے سندھ تک) پر آباد تھے ۔اور مختلف وقتوں میں مختلف مشکلات اور آفتوں سے دوچار رہے ہیں ۔کبھی حاکم بنے اور کبھی محکوم۔ کبھی اپنے لئے لڑے اور کبھی دوسروں کیلئے لڑے۔بہت سارے ہیروز اور بادشاہوں کو پیدا کیا۔ اسی دوران پشتونوں نے کئی سلطنتیں بھی آباد کیں۔مگر ایک بات واضح ہے کہ پشتونوں میں اتحاد و اتفاق کا فقدان تھا ۔معاشرہ قبائل میں بٹا ہوا تھا۔

پروفیسر درویش درانی نے لکھا ہے کہ پشتون معاشرہ ایک قبا ئلی معاشرہ تھا اور وہ جنگ اور ننگ اپنے قبیلے کی بنیاد پر کرتے تھے بایزید وہ پہلا معلوم پشتون ہے جنہوں نے پشتونوں کا ایک حصہ ایک نظریے پر اکٹھا کیا اور یہ نظریاتی کشش اتنا موثر تھا کہ ان کے درمیان قبایلی تفریق ختم ہوگیا۔

  بایزید 1524 کو پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔والد قاضی عبداللہ اورمڑ کے آباواجداد وزیرستان کے کانڑی گورممیں رہتے تھے اور والدہ کا تعلق جالندھر سے تھا۔ بایزید  کو بچپن میں ہی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔گھر میں سوتیلی ماں کا بایزید کے ساتھ برتاو اچھا نہیں تھا اور باپ بھی بیوی کی طرفداری کررہا تھا ۔اور اس طرح اس کی پڑھائی بھی توڑی بہت متاثر ہوگئی۔گوکہ ان کا تعلق ایک علمی اور جہاندیدہ گھرانے سے تھا اس لئے اپنے وقت کے عصری علوم، فقہ،تفسیر،حدیث،اخلاق،تصوف،اور فارسی و عربی کی تعلیم حاصل کی۔ 

بعد میں تصوف کی طرف رجوع کیا۔اگرچہ ان کے مذہبی سوچ اور صوفی تحریک سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کئی مورخین نے ان کو ایک گمراہ پیر ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔بہرحال ہم اسی بحث میں نہیں پڑتے۔ انہوں نے پانچ سال مسلسل اپنے گھر میں ریاضت میں گزارے۔ تزکیہ نفس اور مراقبے کرکے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔ کل 21 سال تزکیہ نفس اور مراقبہ میں گزارے۔ اور ایک مسحورکن شخصیت بنائی۔

اپنے چاہنے والے ان کو پیرروشان اور مخالفین پیر تاریک کہتے تھے۔ بڑے بڑے امراء اور مقتدر شخصیات ان کے مرید بن گئے  اس طرح ان کے ماننے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھیں ،تو انہوں نے دعوت اور تبلیغ کیلئے اپنے مریدوں کو مختلف علاقوں میں بھیجا،تاکہ ان کی فرقے کی ہدایات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

بایزید روشان روحانی شخصیت کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی اور جہاندیدہ شخص بھی تھے۔انہوں نے سمرقند، قندہار اور ہندوستان کے سفر کئے تھے۔ لوگوں کی نفسیات کو خوب جانتے تھے۔ معاشرے میں ظلم اور استبداد کے سخت خلاف تھے، خاص کر حکمران وقت کی زیادتیوں کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

کہتے ہیں ایک دفعہ قندہار کے سفر میں ایک پشتون خاتون کو دیکھا جس کو مغل سپاہیوں نے سر کے بالوں کے ساتھ چکی کے پاٹ سے باندھا تھا اور وہ بیچاری چکی کے ساتھ گھوم رہی تھی تو پیر روشان اتنے ناراض ہوگئے کہ مغلوں کے ساتھ  دائمی جہاد  شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک تحریک تحریک روشانیاں بھی قائم کی، جس کا مقصد معاشرے کی دینی اصلاح اور معاشرتی برائیوں کی روک تھام تھا۔اور مغل بادشاہ اکبر جنہوں نے دین الٰہی متعارف کی تھی کے خلاف کئی لڑائیاں لڑی۔

اور بالآخر ایک طویل مبارز ےکے بعد تورراغہکی لڑائی میں 1572 کو شہید ہوگئے ۔پھر ان کی جدوجہد کو ان کے بیٹوں اور مریدوں نے کافی دیر تک جاری رکھا۔ پروفیسر حسن کاکڑ نے لکھا ہے کہآزادی کیلئے جتنی قربانیاں روشان کے خاندان نے دئے ہیں شائد کسی دوسرے نے نہیں دیں ہوں گی۔

بایزید روشان نے اپنی مذہبی اور سیاسی لڑائی کو تلوار کے ساتھ ساتھ قلم کے ساتھ بھی جاری رکھا۔ان کو چار زبانیں فارسی،عربی،پشتو اور پنجابی آتے تھے۔انہوں نے نہ صرف مخالفین کے ساتھ مناظرے کئے بلکہ اپنے معترضین کو مدلل جواب دینے کیلئے کئی کتابیں بھی لکھیں جس میں خیرالبیان،مقصود المؤمنین،صراط التوحید، اور فخرالطالبینمشہور ہیں۔ انہوں نے پشتو نثر میں نیا اسلوب متعارف کیا ۔ان کی قلمی جہاد کا پشتو ادب کو بہت فائدہ پہنچا  جب ان کے مخالف آخوند درویزہ نے بھی جواب میں ایک کتاب لکھی اور اس طرح پشتو نثر کو وسعت مل گئی ۔

بایزید روشان کا پشتونوں پر ایک بہت بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پیچھے شاعروں اور ادیبوں کا ایک لشکر چھوڑا ہے۔اگر پیر روشان قلم نہ اٹھاتے تو شائد پشتو ادب ایک قیمتی خزانے سے محروم ہوتا۔اور پشتو ادب میں ایسے قیمتی ابواب کا اضافہ نہ ہوتا۔ بایزید کی تحریک نے ہمیں دولت لوانڑی،ملا ارزانی،مرزاخان انصاری،واصل ،علی محمد مخلص اور دوسرے بیش بہا ادبی ستارے دئیے ہیں  ۔جنہوں نے پشتو ادب کیلئے گراں قدر تالیفات چھوڑے ہیں اور پشتو ادب کو نئی زندگی اور وسعت دی ہے۔ اس لئے بایزید روشان پشتون تاریخ کے آسمان میں ہمیشہ زندہ اور تابندہ چمکتا رہےگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *