ذہنی ترقی کا نظریہ اور چوتھی لہر

پائندخان خروٹی

طبقاتی معاشرے میں تعلیم اور قانون سب کیلئے یکساں نہیں ہوتا۔ انسانی سماج کے دیگر بالائی ڈھانچہ میں شامل کسی بھی چیز کی طرح مروج نظام تعلیم اور قانون کو بھی صرف طبقاتی تناظر میں ہی صحیح طور پر سمجھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ اگر بورژوا طبقے کیلئے طبقاتی نظام تعلیم اور قانون سودمند ہوتے ہیں اور نافذالعمل سسٹم اینڈ اسٹیٹس کو کو دوام دینے کیلئے انہیں بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے تو دوسری جانب پرولتاري قوتیں اسی طبقاتی نظام تعلیم اور قانون کو ختم کرکے اپنے حق میں مساوات اور برابری پر مبنی نئے قانون اور پرولتاري یعنی سب کیلئے یکساں قانون اور تعلیم کے نفاذ کیلئے شعوری کاوشیں کرتی ہیں۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ طبقاتی سماج میں جو نافذالعمل طبقاتی نظام تعلیم اور قانون بالادست طبقہ کے اقتدار و مفادات کا تحفظ کرتا ہے وہی محکوم اقوام اور محروم طبقات کیلئے گلے کا طوق بن جاتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ بعض ماہرین ایک ہی ملک میں ایک سے زیادہ قوموں کی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے سے ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ سابق سوویت یونین میں پچپن اور موجودہ ہندوستان میں بائیس زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس کے علاوہ کینیڈا سے لےکر سوئٹزرلینڈ تک درجنوں ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں سے کسی کی ملکی سالمیت پر منفی اثر نہیں پڑا۔

کوئی رات  آگے ٹھہر گئی میری ذات  میں۔۔۔۔ میرا روشنی سے بھی رابطہ نہیں ہورہا ہے

  دنیابھر میں چوتھی لہر”  آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ روبوٹیک ٹیکنالوجی کی آمد آمد ہے۔ چوتھی لہر کی صورت میں جو کچھ ابھر کر سامنے آرہا ہے اس میں اب تک محفوظ اقدار روایات کا ایک بہت بڑا حصہ بھی ڈوبنے والا ہے۔ گویا اس چوتھی انقلابی لہر کی رفتار گذشتہ لہروں کے مقابلے اتنی تیز اور ایڈوانس ہے کہ اسمیں محفوظ شدہ اقدار کا بڑا حصہ مسترد شدہ اقدار کے خانے میں بہت جلد منتقل کیا جائے گا۔

ویسے تو انسانوں سے خرافات وتوہمات پر مبنی ماضی کا حافظہچھیننے کی باتیں بھی زیرِ بحث ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بالخصوص براعظم اشیا کے اڑیسیوں کیلئے ماضی کی یاد بچوں کو ڈرانے کیلئے بطور ہتھیار ثابت ہوگا۔ ہزاروں سال پر مشتمل انسانی علم ودانش کے تسلسل میں سے موجود زندہ انسانوںکیلئے متعلق و غیرمتعلق اور ضروری و غیرضروری علمی خزانہ کے انتخاب کا فیصلہ کرنا بھی ابھی باقی ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ سردست ہم لمحہ موجود کے تقاضوں کا صحیح ادراک حاصل کریں تاکہ شاندار ماضی کی بجائے حال اور مستقبل قریب کے سامنے شرمندہ کھڑے انسانوں کی رہنمائی کر سکیں۔

پل پل بدلتی دنیا کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام و نصاب کو مرتب کرنے، مادری زبانوں کی اہمیت کو عالمی سچائی کے طور پر تسلیم کرنے اور خاص کر چوتھی لہر کے پیش نظر بچوں کی مناسب تربیتی کورس کو وضع کرنے کیلئے گرماگرم بحث ومباحثے جاری ہیں۔ بہرحال مذکورہ بالا نظام اور نصاب کی ترتیب اور تیاری میں بابائے بچوں کی نفسیات جین پیاجے کے ذہنی ترقی کے نظریہ سے بھرپور مدد اور رہنمائی لے جا سکتی ہے۔ جین پیاجے وہ ماہر نفسیات اور فلاسفر ہیں جنہوں نے بچوں کی ذہنی ترقی اور ارتقاء سے متعلق شاندار تھیوری پیش کی ہے۔ انکی تھیوری چار مختلف مراحل یا حصوں پر مشتمل ہے:۔

1۔ Sensory Motor Stage (0 to 2 years)

ذہنی ترقی کے نظریہ کے پہلے مرحلے کا تعلق دو سال کی عمر تک کے بچوں سے ہے۔ جین پیاجے کی تھیوری سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دو سال کی عمر تک کے بچے صرف حسیات سے کام لیتے ہیں اور انکی یادداشت انتہائی کمزور ہوتی ہے اور اس کا رویہ نقالی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے مرحلے میں والدین کا فریضہ ہے کہ بچوں کی جسمانی نشوونما پر بھرپور توجہ مرکوز رکھیں، خوراک و پوشاک کا خاص خیال رکھیں اور سردی وگرمی سے بچانے کیلئے مناسب بندوبست کریں۔

2۔ Pre-operational Stage (2-7 years)

دوسرے مرحلے کا تعلق دو سے سات سال کی عمر تک کے بچوں سے ہے۔ دوسرے مرحلے میں بچے کا ذہن رفتہ رفتہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بچہ پہلی دفعہ زبان سیکھنا شروع کرتا ہے۔ اپنی ذات کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ اسے ٹوائے ایجبھی کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس عمر میں ملکیت کا احساس بھی نہیں ہوتا ہے اسی لئے وہ دوسرے بچوں کے کھلونے کو بھی اپنا کھلونا ہی سمجھتا ہے۔ اس مرحلہ پر والدین کو جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذہنی پرورش میں بھی بچہ کے ساتھ دینا چاہیے کیونکہ بچہ زبان سیکھنا شروع کر رہا ہے لہٰذا اسے اردگرد کی اشیاء سے جانکاری دینے کیلئے الفاظ کی درست ادائیگی، فقروں کے صحیح استعمال اور چیزوں کی تفصیلات بچوں کے سامنے صحیح بیان کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

3۔ Concrete Operational Stage (7-11 years)

سات سے گیارہ برس کی عمر تک بچے کا تیسرا مرحلہ ٹھوس فعالیت کا مرحلہ بتایا گیا ہے۔ تیسرے مرحلے میں لڑکا دوسروں سے ملنےجلنے، اشیاء کے بارے میں سوالات اٹھانے، منطق اور استدلال کو اختیار کرنے کی جانب بڑھتا ہے۔ لہٰذا تیسرے مرحلے میں والدین کا فریضہ ہے کہ سماجی عمل میں ہرگز رکاوٹ نہ بنے بلکہ حتی الامکان کوشش کریں کہ بچوں کے مددگار ثابت ہوں۔ بچوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر اسے ڈانٹنے کی بجائے اسکے سوال یا سوالات کا مذکورہ بچے کے اطمینان کے مطابق تسلی بخش جواب فراہم کریں تاکہ بچے کے رویہ کو انسانی علم وعقل کے مطابق بنانے میں مدد ورہنمائی مل سکیں۔

ذہین نشین رہے کہ ماہرین نفسیات اور لسانیات میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ بچے کو پہلے گیارہ برس تک صرف اسکی مادری زبان میں ہی تعلیم فراہم کی جائے۔ بچوں کے نازک اعصاب پر پیچیدہ تجریدی مواد اور دوسری زبان کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ بالفاظ دیگر پرائمری سطح تک کی تعلیم کو مادری زبان میں ہی ہونی چاہیے۔

4۔ Formal Operational Stage (11-19 years)

نظريہ دان اور فلاسفر جین پیاجے کی تھیوری کا آخری مرحلہ گیارہ سے انیس سال کی عمر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مرحلہ میں لڑکا تجریدی اور استدلالی رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنی ذات کی شناخت یا اپنے لئے پہچان بنانے کے بارے میں وہ بہت حساس ہوتا ہے۔ چوتھے مرحلے میں والدین کو نہایت محتاط اور دوستانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمر کی جذباتیت کے پیش نظر بچے کی ذاتی انا کا احترام کیا جاتا ہے۔ اسے بہتر سے بہتر ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے چونکہ بچوں پر ماحول کا تیزی سے اثر ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اٹھنے بیٹھنے یا ملنے جلنے والوں دوستوں اور رشتہ داروں پر بھی خاص نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

بچوں کی مناسب تعلیم وتربیت کیلئے والدین کا تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ اور خاص کر شعوریافتہ ہونا بنیادی شرط ہے جو غیرطبقاتی نظام تعلیم اور خدمتگارخلقی قانون نافذ کرنے سمیت ریاست کی ہی ذمہ داری ہے۔

ادراک سے اطلاق کے دوران تدریس کے طریقہ کار پر پرائمری ایجوکیشن کی سطح پر انڈکٹیو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے جس میں بچوں کو سادہ سے پیچیدہ، ادنیٰ سے اعلیٰ، ٹھوس سے تجرید اور مثال سے قانون کی جانب لے جانا ہوتا ہے۔ اس میں بچوں کے علم ومعلومات میں اضافہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جبکہ ہائیر ایجوکیشن کی سطح پر ڈیڈکٹیو طریقہ کار اپنایا جاتا ہے جس میں بچے مزید پیچیدہ سے علامت نگاری، قانون سے مثال اور خصوصی سے عمومی کی جانب لے جایا جاتا ہے۔ گویا نتیجہ کو اجزاء میں تقسیمِ کرنے کے بعد جز سے کل کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ اسطرح اوپر سے نیچے آنے کا منطقی مرحلہ طے کیا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا دونوں طریقہ کار کے علاوہ تیسرے یعنی ابڈکٹیو طریقہ کار سے بھی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے 1973 کے آئین میں اٹھارویں ترمیم 2010 کے بعد تعلیم صوبائی مضمون بن گیا ہے اور صوبوں کو طویل سیاسی جدوجہد کے بعد یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ اپنے معروضی حالات اور جدید انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود قانون سازی اور تعلیمی نصاب مرتب کریں۔ لیکن چاروں صوبوں کی نااہلی اور غفلت کے باعث یہ کام مکمل نہیں کیا جاسکا۔ ہمیں ایک غلط فہمی جلدازجلد دور کرکے یہ بات واضع کرنی ہوگی کہ جدید نصاب اور نظام تعلیم کو ترتیب دینا شاعروں، ادیبوں اور موجودہ مروج پی ایچ ڈی ڈگری (جو قبائلی دستاربندیکے مترادف ہے۔) سے زیادہ فہمیدہ اور سنجیدہ ماہرین و محققین اور سوشل و پولیٹیکل سائنٹسٹ کا کام ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ظہور پذیر ہونے والی چوتھی موج کے تقاضوں کے تناظر میں پاکستان میں آباد بڑی اقوام کی مادری زبانوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں قومی زبان کا درجہ دینے، مفادخلق پر مبنی تعلیمی نظام ترتیب دینے اور اس معاملے میں درپیش مشکلات کا پائیدار حل ڈھونڈنے کی ذمہ داری بھی ریاست اور سیاست کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ پائیدار قومی معاشی اور سیاسی تعمیر و ترقی ایک سوشلسٹ معاشرتی معاشی تشکیلکا متقاضی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *