سعودی عرب جدت یا مغربیت کی طرف گامزن؟


سعودی عرب نے حیران کن طور پر کم عمر مجرموں کو کوڑے مارنے اور انہیں پھانسی دینے جیسی متنازعہ سزاؤں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہو گا جیسا کہا جا رہا ہے؟

گزشتہ تین عشروں سے سعودی عرب کا اصلاحاتی ایجنڈا ایک واحد رہنما اصول کے تحت چلایا جارہا ہے۔ اس کا خلاصہ سابق قانون ساز اور امریکا میں تعینات رہنے والے سابق سفیر بندر بن سلطان السعود نے کچھ یوں بیان کیا تھا،ہم سعودی جدت چاہتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز مغربیت نہیں ہے۔‘‘

سعودی عرب کی اس رہنما پالیسی کے اثرات اس سلطنت کی معیشت، سیاست اور عدالتی اصلاحاتی پروگرام پر بھی نظر آتے ہیں۔ کم عمر مجرموں سے متعلق سعودی عرب کا حالیہ فیصلہ بھی اسی رہنما پالسی یا اصول کے تحت ہی کیا گیا ہے۔


یہ قانونی تبدیلیاں جدیدکاری کے اس منصوبے کے حصہ ہیں، جو شاہ سلمان کے پیشرو شاہ عبداللہ نے2007 میں پیش کیا تھا۔ اس وقت اس اصلاحاتی پروگرام کا مقصد عدلیہ کو ایگزیکٹیو سے دور کرنا اور اسے آزاد بنانا بتایا گیا تھا۔

موجودہ شاہ سلمان نے سن2015 میں اس منصوبے کو مزید وسعت دی اور مخصوص کیسز میں اپیل کرنے کی اجازت بھی فراہم کی گئی۔

بیروت میں کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے فیلو اور کوویت یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر بدرالسیف کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا،ہم تیرہ سالہ سست رفتار قانونی اصلاح کی بات کر رہے ہیں، جو اب جا کر متعارف کروائی جا رہی ہیں‘‘۔

دھندلی لائنیں اور مبہم تشریحات

تاہم اس کے باجود کوڑے مارنے اور پھانسی کی سزا ختم کر کے حکومت نے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ پروفیسر بدر السیف کے مطابق سعودی عرب کے قیام کی وہابی تاریخی اہمیت کیوجہ سے سیاسی اسٹیبلشمنٹ کم ہی مذہبی امور میں مداخلت کرنے کا خطرہ مول لیتی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں سعودی ریاست کے قیام کے وقت السعود خاندان اور قدامت پسند مذہبی رہنماؤں کے مابین طاقت کے توازن کے لیے ایک سمجھوتہ تھا، جسے وہابیت‘‘بھی کہتے ہیں۔

السیف کہتے ہیں، ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان اس کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ وہ سعودی عرب کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوجداری انصاف میں اصلاحات سعودی عرب کے وژن 2030ء کی مجموعی تصویر کے مطابق ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کو دنیا کے لیے کھولنا ہے‘‘۔

جرمن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ سکیورٹی افیئرز سے منسلک گوئیڈو شٹائنبرگ کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا ایک مقصد دنیا میں سعودی عرب کے امیج کو بھی بہتر بنانا ہے کیوں کہ استنبول کی سعودی قونصلیٹ میں جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے ریاض حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق فوجداری انصاف میں اصلاحات کسی طور بھی کامل نہیں ہیں۔ کچھ مبصرین نے کوڑوں اور پھانسی سے متعلق ان اصلاحات کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ کچھ کی نظر میں سعودی حکومت اب بھی ایسی سزاؤں پر عمل درآمد کر سکتی ہے۔

جلاوطن سعودی وکیل طحہ الحاجی کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کم عمر مجرموں کو سزائے موت نہ دینے کے فیصلے میں سزا یافتہ دہشت گردوں کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح یہ قانون ابھی بھی ان کم عمر افراد کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے کوئی سیاسی جرم کیا ہو۔ ان کا کہنا تھا،سعودی عرب میں دہشت گردی ایک بہت ہی وسیع تصور ہے۔ ریاض حکومت ان لوگوں کو بھی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر سکتی ہے، جو کسی فیصلے کی مخالفت یا پھر اس پر تنقید کریں‘‘۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ریاض حکومت کی جانب سے عملی طور پر اس سزا کے خاتمے پر عمل درآمد کیسے کیا جائے گا، اس پر اب بھی سوالیہ نشان ہے؟

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *