بلوچ سیاسی تاریخ میں نیشنل پارٹی کا اہل کوفہ کا کردار


مہرجان

نیشنل پارٹی جنہوں نے بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں اہل کوفہ کا کردار ادا کیا اور مفاد پرستی کی سیاست کو نظریاتی سیاست پہ ترجیح دے کر اپنے کردار کو واضح طور پہ آج بلوچ قوم کے سامنے لے آۓ۔ پچھلے دنوں ان سے مکالمہ ہوا تو میرے موقف (کہ نیشنل پارٹی کے قائدین نے بلوچ کی سیاسی تاریخ میں اہل کوفہ کا کردار ادا کیا اور میر غوث بخش بزنجو نے سیاسی میدان میں یو ٹرن پہ یو ٹرن لیتے رہے ) اس پہ بجاۓ وہ دلیل کی بنیاد پہ بلوچ سیاسی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوۓ مکالمہ کرتے بلکہ یہ تاثر دیا گیا کہ مہرجان نے ذاتی اختلاف کی بنیاد پہ نیشنل پارٹی کو ہدف تنقید بنایا ۔۔۔

اس لیے اب میں اپنی بات یا اپنے الفاظ رکھنے کی بجاۓ نیشنل پارٹی کے سینئر راہنما طاہر بزنجو کی کتاب “بلوچستان کیا ہوا کیا ہوگا “ سے اقتباسات پیش کرتا رہوں گا اور فیصلہ قار ئین پہ چھوڑ دیتا ہوں کہ کیا واقعی نیشنل پارٹی کے قا ئدین نے اہل کوفہ کا کردار ادا کیا یا نہیں ؟ یا میر غوث بخش بزنجو یو ٹرن کی سیاست کی یا نہیں ۔۔۔۔ نیشنل پارٹی کے اپنے راہنماء طاہر بزنجو کی کتاب “بلوچستان کیا ہوا کیا ہوگا “ سے اقتباسات کے صورت میں پیش کروں گا تاکہ تاریخ کی واضح سمت آج کے نوجوانوں کے سامنے ہو ۔

بلوچ سیاسی تاریخ میں نیشنل پارٹی کا اہل کوفہ والا کردار ۔۔۔۔۔ اس طرح جب 1947میں بلوچستان کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی بات چلی تو اس وقت کے نوجوان اپوزیشن لیڈر29 سالہ میر غوث بخش بزنجو نے سولہ دسمبر1947 کو دارالعوام میں الحاق کی شدید مخالفت کرتے ہوۓ فرمایا “ ایران اور افغانستان کی طرح ہماری بھی اپنی ایک مخصوص ثقافت ہے صرف اس لیے کہ ہم مسلمان ہیں پاکستان کے ساتھ الحاق کریں تو ایران اور افغانستان کو بھی پاکستان میں شامل کرنا چاہیے ۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم اس ایٹمی دور میں اپنا دفاع نہیں کر سکیں گے ۔ تو پھر کیا ایران ، افغانستان اور خود پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اپنا دفاع کرسکے اگر ہم اپنی حفاظت نہیں کرسکتے تو ایسےکئی اور ممالک بھی اپنی حفاظت نہیں کرسکتے ۔ وہ ہم سے کہتے ہیں کہ معاشی وجوہات کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہوں ۔ہمارے پاس معدنیات ہے ، پٹرول ہے ، بندرگاہیں ہیں ۔ ہمیں غلام بنانے کے لیے معاشی وجہ دریافت نہیں کرنی چاہیے ۔ برابری کی بنیاد پر ہم پاکستان کے ساتھ دوستی کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم تاریخ میں اس جرم کا ارتکاب نہیں کرسکتے کہ بلوچ علاقے کو کسی اور علاقے میں شامل کریں ۔ اگر پاکستان ہمیں اک آزاد اور خودمختار ملک تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور تمام جمہوری اصولوں کو پامال کرنا چاہتا ہے تو ہر بلوچ اپنی آزادی کی خاطر اپنے سروں کا نذرانہ پیش کرنے سے نہیں ہچکچاہیں گے “ ۔

اب یو ٹرن ملا حظہ ہو ہمارے نزدیک پاکستان اک کثیر الاقوامی ریاست ہے جہاں چار بڑی قومیتیں آباد ہیں یعنی بلوچ ، پشتون سندھی اور پنجابی بقول میر غوث بخش بزنجو “ان قومیتوں کے وجود سے انکار پاکستان اور پاکستانی قوم کے وجود سے انکار کے مترادف ہے اور پاکستان میں انتشار اور بد اعتمادی پیدا کرنا ہے صرف یہ نہیں یہ قومیتیں پاکستان کو وجود میں لانے کی ذمہ دار تھیں بلکہ یہی قومیتیں مملکت پاکستان کی بقاء اور تحفظ کا ضامن ہیں ۔ان مختلف قومیتوں کو ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار کرکے ان میں بددلی اور بد اعتمادی پیدا کرنا یا ان کے حقوق سے انکار کرکے ان قومیتوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد اور جنگ پہ مجبور کرنا پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کے واضح سازش سے کمتر نہیں “۔

نیشنل پارٹی کی موجودہ لیڈرشپ پہ طاہر بزنجو کا موقف “کل تک آزاد بلوچستان “انقلاب” گوریلا جنگ کی باتیں کرنے والے اور اسمبلیوں میں بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے والوں کو پاکستان اور پنجاب کا ایجنٹ کہنے والے یکایک بدل کیسے گئے ان کو اسمبلیوں اور ایوانوں تک پہنچنے کا شوق کیسے پیدا ہوا ، انقلاب کی بات کرنے والوں کا مسکن تو پہاڑوں کی چوٹیاں ہوتی ہیں یہ اسمبلی میں کیسے پہنچ گئے“؟ “۔

اب جب کہ آزاد بلوچستان کے گوریلے چلتن کی چوٹیوں سے اتر کر بلوچستان اسمبلی میں داخل ہو چکے ہیں سرداروں ،جاگیرداروں اور ملاؤں جیسے رجعت پسندوں اور عوام دشمنوں کے ازلی دشمن انقلابی اور قوم پرست انہی رجعت پسندوں کے ساتھ مل کر وزارتیں آپس میں تقسیم کرچکے ہیں امید ہے کہ وہ اب آزاد بلوچستان کے نام پر بزنجو صاحب کو نا شائستہ اور نازیبا گالیاں دینے کے بجاۓ اس حقیقت سے سمجھوتہ کریں گے انہوں نے جس مقصد کیلئے پی این پی اور بزنجو صاحب کی ذات کی مخالفت کی تھی وہ مقصد حاصل ہوگیاہے۔ بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کے سب سے بڑے انقلابی صوبائی وزیر بن چکے ہیں “۔ “

اس نازک پیچیدہ اور گھمبیر حالات میں جبکہ تمام نام نہاد انقلابی ، موقع پرست ، اصلاح پسند ، رجعت پسند ، عوام دشمن اور قوم دشمن بلوچستان کے استحصالی قوتوں یعنی سرداروں اور نوابوں نے بلوچستان کے مظلوم اور محکوم عوام کی قومی ، جمہوری ، ترقی پسند اور سامراج دشمن سیاست کے خلاف اک محاذ قائم کیا ہے اور اس کو کمزور نیست و نابود کرنے کے لیے پنجاب کے استحصالی قوتوں اور پنجابی شاوہنزم کے ترجمان نواز شریف اور انقلاب ثور دشمن ملاؤں کے ساتھ مل کر سازشوں میں مصروف ہیں ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کے تمام ترقی پسند اور عوام دوست دانشور چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی اور تنظیم سے کیوں نہ ہو عوام کو متحرک اور منظم کرنے کے لیے اپنا قلم کا استعمال کرکے بلوچستان کے عوام کو اردگرد کی گندگی ،سیاسی پیدا گری اور منافقت سے آگاہ کریں “ “جہاں ایک طرف بلوچستان کی مسلح مہم جوئی کے بڑے بڑے کردار بلوچستان کی سرزمین کو چھوڑ کر دیار غیر میں جا بسے وہاں منظور گچگی ڈاکٹر عبدالحئ اور اس کے ساتھیوں نے میر بزنجو کی ہر سطح پر مخالفت شروع کردی وہ خود تو کسی صورت میں بلوچستان کی عملی سیاست میں حصہ لینے کو تیار نہیں ہوۓ لیکن ہر اس شخص کی مخالفت کرتے تھے جو بلوچستان میں ایک مثبت اور معقول رویے کی بات کرتا تھا ۔

ان اشخاص نے شروع میں در پردہ رہ کر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پر اپنا جال پھیلانا شروع کیا اور بلوچ طلباء کو سرخ انقلاب ، بلوچستان کی آزادی اور حق خود اختیاری ، قومی حقوق اور ان کے حصول کے لیے مسلح جد و جہد کا درس دیتے رہے نیز اس نوجوان نسل کو باور کروایا کہ جو بھی پاکستان میں رہتے ہوۓ آئینی ذرا ئع سے صوبائی خود مختاری اور جمہوری سیاست کی کرتا ہے وہ پنجابیوں کا ایجنٹ ہے “۔

انقلاب ثور کے فتح یاب ہونے کے بعد بلوچ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے مطالعہ کی کمی ، سیاسی اور طبقاتی شعور کےفقدان ، سوشل ازم کی اصل روح اور فلسفہ سے نآشنائی کی بناء پر بری طرح انتہاء پسندی اور مہم جوئی کی دلدل میں پھنس گئے۔ سوشلسٹ بلوچستان کا نعرہ لگایا گیا نوجوان طوطے کی طرح اپنی تقریروں میں مارکس اور لینن کے اقوال رٹتے رہے۔ نوجوانوں کے کنونشنوں اور مختلف پروگراموں کو دیکھ کر ایسا لگتا گویا سویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی کوئی کانگریس ہورہی ہے۔ بہر حال نوجوانوں کے موقع پرست لیڈروں نے انہیں سمجھایا کہ چونکہ وہ مارکسسٹ ہیں ، ترقی پسند ہیں سوشل ازم کے حامی اور کمیونزم پہ یقین رکھتے ہیں اس لیے اب سوویت یونین افغانستان کی انقلابی حکومت کے توسط سے بلوچستان کو فتح کرکے سیاسی اقتدار ان کی سپرد کریگی “

اقتباسات از” بلوچستان کیا ہوا کیا ہوگا” مصنف نیشنل پارٹی کے عظیم راہنماء طاہر بزنجو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *