ایک طوطے اور اس کے مالک کی کہانی

حسن مجتبیٰ

یہ ایک طوطے اور اسکے مالک کی کہانی ہے جسے ہم ماموں کہتے تھے۔ ماموں جو پیشے کے لحاظ سے نیوجرسی کے ایک ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹر تھے ۔ ڈاکٹر نیاز علی کل کورونا وائرس کے سبب انتقال کر گئے۔ کچھ سال پہلے ، میں ان پر اور ان کے طوطے سے متعلق یہ کالم لکھا تھا۔ جوُزمان حال میں ہے۔

۔۔۔

ماموں نیوجرسی میں برسوں سے بچوں کے ڈاکٹر ہیں۔ وہ اپنے اس طوطے کو پنچھی کہتے ہیں۔ ماموں اپنے ڈاکٹری کے کام کے بعد اپنے میں گم رہتے ہیں۔ عابدہ پروین، پٹھانے خان، استاد نصرت فتح علی خان ، اور محمد جمن کے عارفانہ کلام جسکی تان ماموں کو انیس سال کی عمر سے لگی ہوئی ہے جب وہ لاہور میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ وہ اب امریکہ میں باغات کی ریاست کہلانے والی ریاست نیوجرسی کے شمال میں ایک شہر میں رہتے ہیں جہاں ہم ان سے ملنے گئے۔

یہ شہر ،شہر سے زیادہ ایک جنگل لگا۔ ماموں کا بھی ایک جنگل ہے اور طوطا ۔یعنی پنچھی تو پھر آیا ہی ایک بڑے جنگل سے ہے ۔ جنوبی امریکہ میں دنیا کا ایک بڑا جنگل ایمازون اس طوطے کا وطن ہے جہاں سے شمالی امریکہ نقل وطنی کیلئے اسکو کسی پاسپورٹ ویزہ یا گرین کارڈ کی ضرورت نہیں پڑی۔ جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ طوطے کی عمر بڑی ہوتی ہے یعنی ستر ستر سال تک۔ وہ جب ماموں کے پاس آیا تب وہ چند ماہ کا بچہ تھا۔ اب وہ شاید اپنی ٹین ایج عبور کر آیا ہے۔

ماموں کے بڑے گھر میں جس میں ایک خوبصورت جھیل بھی ہے ، بے شمار درخت بھی ہیں اور درختوں میں گھرے اس گھر کے ایک بڑے لونگ روم میں بڑے سےپنجرے میں یہ طوطا قید ہے ۔ بلکہ محبت کا قیدی ہے۔ لیکن یہ پرندہ ہےجو قیدی ہوتے ہوئے بھی آزاد ہوتا ہے۔ جیسے میرے دوست اور شاعر افتی نسیم نے کہا تھا: ہم انساں ہیں جو قید جبر میں خاموش رہتے ہیں پرندوں کو اسیری میں بھی گانا یاد رہتا ہے۔

ماموں نے یہ برازیلی طوطا انٹرنیٹ پر ایک اشتہار دیکھ کر خریدا تھا۔ وہ اسے ہر شام باہر جنگل میں جاکر کھول دیتے اور پھر وہ اپنی اڑان کر کےواپس آجاتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پنچھی واپس نہیں آیا۔ یہ کہیں کوؤں کے نرغے میں آگیا جو اس چھوٹے پٹھے کو دوڑا کر اپنی مانوس فضا سے باہر دھکیل آئے اور پنچھی گھر کا رستہ بھول کر گم شدہ ہوگیا۔

ماموں نے پنچھی کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن پنچھی کا کوئی اتا پتہ نہیں، کہ اسے بھی گمشدگان کی طرح آسمان کھا گيا کہ زمین نگل گئی۔ لیکن ماموں نے اس پنچھی کی تلاش جاری رکھی۔ لیکن ہمیں خبر نہیں کہ ماموں اور پنچھی پر اسکے گم ہوجانے کی بعد کیا بیتی۔ لیکن ہوا یہ کہ پنچھی ’’اینیمل کنٹرول‘‘ محکمے والوں کے ہاتھ آ گیا جنہوں نے ظاہر ہے کہ اس طوطے کونہ ایڈریس نہ پاسپورٹ نہ شناختی کارڈ ہونے کی صورت میں لاوارث پرندے کے طور پر ’’پیٹس اسٹور‘‘ یا پالتو جانوروں کے اسٹور پر چھوڑ آئے۔

ماموں سے بچھڑنے کے بعد پنچھی کسی کو بھی اپنے نزدیک آنے نہیں دیتا ۔ جو بھی اسکے نزدیک آتا اسے اپنی چونچ سے مار مار کر لہو لہان کردیتا۔ نہ اینمیل کنٹرول والوں کو نہ ہی پیٹس اسٹور والوں کو پاس سے گزرنے دیتا۔ کئی ماہ و سال گزر گئے۔کئی موسم آئے اور آکر لد گئے۔ پھولوں سے لدی بہاریں آئیں ، پت جھڑ ، برف باری اور بارشیں، سردیاں، سینڈی طوفان لیکن پنچھی نہیں آیا۔

ماموں پہلے ہی مردم بیزار شخص اپنے عارفانہ کلاموں میں گم سم۔ ادھر جب کئی دن گزر گئے تو پیٹس اسٹور والوں نے ایسے لاوارث طوطے کو گود لینے کے خواہشمند افراد اور فیملیوں کی توجہ کیلئے اپنی ویب سائٹ پر اشتہار دیا تو اسے ایک فیملی لےگئی۔ لیکن جلد ہی وہ فیملی بیزار ہوکر اسے واپس پیٹ اسٹو ر لے آئی ۔ کہ پنچھی نہ تو کچھ کھاتا نہ پیتا ، کسی کے بھی قریب آنے پر اپنی چونچ سے حملہ کر دیتا۔ یہ برازیلی طوطا اپنی چونچ سے پنجرے پر لگا تالا اور پنجرے کا قفل بھی کھول دیتا۔یہ تو میں نے بھی دیکھا۔ میں نے ایسا برازیلی طوطا ایک دفعہ مرحوم پیر پگاڑو کے پاس دیکھا تھا۔ اس طوطے اور ستاروں کی چال اور ملک کے مستقبل کا حال بتانے والے پیر صاحب کا دور ختم ہوا۔ رہے نام سائیں کا۔

خیرتو پھر ہوا یوں کہ آخر ایک دن ماموں کے ایک دوست نے ماموں کو آکر یہ خوشخبری سنائی کہ انکے گمشدہ طوطے کی شکل کا ہو بہو طوطا انہوں نے اپنی ایک جاننے والی فیملی کے پاس دیکھا ہے۔ ماموں اور انکے دوست اس فیملی سےجب ملے تو انہوں نےطوطے کی تصویر دیکھ کر اندازے سے کہا کہ یہ طو طا انہوں نے پیٹس اسٹور والوں سے اپنانے کو لیا تھا لیکن چونچیں مار مار کر اس نے اہل خانہ کو زخمی کردیا تو اسے وہ واپس پیٹس اسٹور چھوڑ آئے، ماموں پیٹس اسٹور پہنچے تو پنچھی کو وہاں ایک پنجرے میں پایا اور ماموں کو دیکھ کر اس نے آسماں اپنے پروں پنجوں اور چونچ پر اٹھالیا۔

اب سوال یہ تھا کہ پیٹس اسٹور والے اور محکمے والے کیسے اعتبار کریں کہ یہ طوطا واقعی ماموں کا ہے۔ کیونکہ یہاں امریکہ میں انسان تو کیا جانوروں اور پرندوں کو بھی اپنانے کیلئے اچھا چال چلن اور مالی مضبوطی دیکھی جاتی ہے۔ ایسا نہیں کہ جیسے پچھلے دنوں لاہور میں ایک جانوروں کے ڈاکٹر نے میری دوست کے بلے کو مبینہ غفلت کی بنا پر دوران علاج مار ڈالا۔ یہاں نیویارک کے علاقے بروکلین میں تو بلی کو زندہ جلانے کا الزام ثابت ہونے پر ایک شخص کو چند ماہ قبل چھ سال کی سخت سزا سنائی گئی تھی۔

تو لوگو قصہ مختصر، آخر پیٹس اسٹور والے ماموں پر کیسے اعتبار کریں کہ یہ طوطا انہی کا ہے۔ طوطے کی تصویریں اپنی جگہ۔ ماموں نے پیٹس اسٹور والوں سے کہا جن کے عملے میں جانوروں کی نفسیات پر نظر رکھنے والے بھرتی کئے ہوتے ہیں۔ ماموں نے ان سے کہا کہ وہ طوطے کو پنجرے سے باہر نکالیں اگر وہ جارح رہا یا کاٹنے کو آیا یا کوئی اور شور شرابہ کیا تو جو بھی جرمانہ ان پر عائد کیا جائے گا وہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔ تو طوطے کو پیٹس اسٹور والوں نے اپنے پنجرے سے آزاد کیا اور وہ سیدھا جاکر بغیر کسی چوں چراں اور شور شرابے کے ماموں کے کاندھے پر جا بیٹھا اور ان کے گالوں کے اپنی چونچ سے بوسے لینے لگا ۔

جب ماموں مجھے اپنی اور طوطے کی محبت کی طوطا کہانی سنا رہے تھے تو میں نے کھڑکی سے باہر آسمان پر نظر کی جہاں پرندوں کی ایک ڈار اڑکر جارہی تھی ، مجھے شاہ لطیف بھٹائی کا شعر یاد آیا۔ ’’کہ ڈاریں بنائے اڑتے پھرتے ہیں آپس میں پریت نہیں توڑتے اے انسانوں پرندوں کی آپس میں تو سے زیادہ محبت تو دیکھو‘‘۔

میں نے دیکھا پنچھی اب بھی اپنی چونچ سے اپنے پر کھجلانے کے ساتھ ساتھ ماموں کے گالوں کے بوسے بھی لے رہا تھا۔ ماموں نے میری طرف دیکھا اور کہا آج جب ہم ایک دوسرے کو برا بھلاکہہ رہے ہیں کم از کم یہ پرندہ تو مجھے کچھ نہیں کہتا

Comments are closed.