قیدی کا ورثہ

حبیب  شیخ

انتساب

سنہ1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام

میں قید میں تھا،  بہت ہی تاریک قید۔

اپنی قید میں رکھنے والی مجھے سارا دن ساتھ ساتھ اٹھائےپھرتی۔

پھر ایک رات کچھ فوجی آئے اور اُس کو ساتھ چلنے کے لئے کہا۔

اُس کو ایک عمارتی قید خانے میں بند کر دیا گیا۔

چند ہفتوں کے بعد میں  اُس کی قید سے باہر آگیا۔

میں نےاس نئے قید خانے میں پرورش پائی اور اسی کو اپنا گھر سمجھتا  رہا۔

مجھے ہر روز اُس کے ساتھ چند گھنٹے کے لئے کمرے سے باہر جانے کی اجازت تھی۔

یہ وقت بہت اچھا لگتا  اُس کی سہیلیاں مجھ سے کھیلتیں اور مجھ کو بے پناہ پیار کرتیں۔

جب میں پانچ سال کا ہوا تو مجھے اور اُس کو اِس عمارتی قید خانے سے چلے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

میں نے پہلی بار باہر کی دنیا کو دیکھا  سنا  محسوس کیا،  مجھے لگا کہ اب میں  بالکل آزاد تھا۔

جب میں کچھ بڑا ہوا  تو  پتا چلا کہ میں اب بھی  قیدی  ہی تھا۔

میں ایک بڑے علاقے میں رہتا تھا جس کو چاروں طرف سے فوج نے گھیرا ہوا تھا مجھے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے فوج کی اجازت چاہئے تھی۔

بعض دفعہ اجازت نہیں ملتی اور کئی مرتبہ گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا۔

تب مجھے شعور آیا کہ میں اب بھی ایک قیدی ہوں،   قید کتنی بری جگہ ہے،   اور آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔

تب مجھے شعور آیا کہ آزادی تحفے میں نہیں ملا کرتی،  آزادی کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے،  اور  وہ میرا وزن اٹھائے کیوں پھرتی تھی۔

جب اور بڑا ہوا تو میں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے اس بڑے قید خانے سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن مجھے روک دیا گیا۔

پھر میں کئی دن اور کئی راتیں سوچتا رہا۔

رشتے داروں اور دوستوں کی گفتگو کو سنتا رہا۔

پھر ایک صبح کاذب میں نے  فیصلہ کیا۔

میں وہی کام کرنے لگ گیا جو اُس نے کیا تھا۔

ایک رات کچھ فوجی آئے اور مجھے اس بڑے قید خانے سے ایک عمارتی  قید خانے میں لے گئے۔

مجھے اس قید خانے سے اپنائیت لگ رہی تھی۔  اس کے در و دیوار کھڑکیاں چھت سب جانی پہچانی تھیں۔

مجھے یہ قید خانہ اپنا گھر لگ رہا تھا،  یہ تو وہی جگہ تھی جہاں میں نے پرورش پائی تھی۔

پہلے میری ماں کی باری تھی اور اب میری باری ہے کہ میں یہاں کئی سال گزاروں۔

پھر میرے بچوں کی باری آئے گی۔

ان قید خانوں  میں زندگی اور ان کی صعوبتیں ہم فلسطینیوں کو وِرژے میں ملی ہیں۔

اب یہی وِرثہ میں اپنے بچوں کو دوں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *