ویری ویل ڈن، “کیرالہ”

عبدالرحمٰن عمر ایڈووکیٹ

ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالہ ایک مدت سے بیرونی دنیا کیلئے حیرانی کا باعث ہے۔ ساڑھے تین کروڑ آبادی پر مشتمل اس ریاست میں دنیا کی پہلی جمہوری طور پر منتخب کمیونسٹ حکومتوں میں سے ایک، 1960 میں برسر اقتدار آئی، اور پچھلے ساٹھ سال سے یہاں مسلسل بائیں بازو کی مارکسی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ہے۔ 1969ء میں ریاستی حکومت نے زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ تعلیم کے نظام میں بڑے پیمانے پر توسیع اور اصلاحات نافذ کیں۔ صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی گئی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ  آج ہر گاؤں میں سکول اور صحت کا مرکز قائم ہے۔

  ہندوستان میں کیرالہ 94 فی صد شرح خواندگی اور  سب سے زائد اوسط عمر 75 سال کے ساتھ سر فہرست ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروایا گیا۔ چودہ ڈسٹرکٹ پہ مشتمل صوبہ میں حکومتی نظام مقامی پنچایت اور گاؤں کی کونسلز کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

حالیہ کورونا وائرس کی وبا میں اصلاحات کے باعث ہونیوالی تعلیمی، سماجی اور صحت کے شعبہ کی ترقی نے اپنے ثمرات دکھائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کیرالہ کی ریاستی حکومت کے اقدامات کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ چین میں کورونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات ملتے ہی  کیرالہ حکومت نے اقدامات شروع کر دیئے۔ کیرالہ میں جنوری میں کوویڈ 19 سے پہلی موت کی خبر آئی ، لیکن ریاست نے مربوط انتظامات اور حکمت عملی کے ذریعے اموات اور انفیکشن کی شرح کو محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

جنوری میں ہی ، عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ پروٹوکول لاک ڈاؤن، ٹریسنگ، ٹیسٹنگ، مریضوں کو علیحدہ کرنا اور علاج فراہم کرنا، سختی سے نافذ کر دیئے گئے۔  بیرونی دنیا سے آنیوالے لوگوں کی ائیر پورٹ پر سخت اسکریننگ ہوئی۔ جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے افراد کے لئے ریلوے اسٹیشن، شہروں کے داخلی راستوں اور بس سٹینڈز پر سکریننگ اور ٹیسٹنگ کے انتظامات کئے گئے۔

 ریاستی اور ڈسٹرکٹ سطح پر انتظامیہ و ماہرین پر مشتمل کنٹرول رومز  اور رسپانس ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ مقامی پنچایت اور کونسلز کو مجوزہ اقدامات کے نفاذ کیلئے وسیع اختیارات دیئے گئے۔  علاقائی اور ریاستی سطح پر مختلف سرکاری اداروں کی کوششوں کو مربوط رکھنے کا پورا انتظام کیا گیا۔  ریاستی حکومت نے مشتبہ مریضوں کی کھوج کیلئے جی۔پی۔ایس ڈیٹا، موبائل فون معلومات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا  استعمال کیا۔

  ٹریس آؤٹ ہونیوالے افراد کو 28 دن تک کیلئے آئسولیٹ کر دیا گیا۔ ٹریسنگ انتظامات کی افادیت اس وقت واضح ہوئی۔ جب بیرون ملک سے آنیوالے ایک خاندان کے تین افراد غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایئرپورٹ سے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن ٹریسنگ کے انتظامات کے باعث اس خاندان اور انکے رابطہ میں آنیوالے تقریباً تین سو افراد کو کامیابی سے کھوج نکالا گیا۔ ہر ڈسٹرکٹ میں ٹیسٹنگ سہولیات اور کل پنتالیس سو بستروں پر مشتمل تین ہسپتال قائم کئے گئے۔ ذہنی صحت کیلئے ہیلپ لائن قائم کی گئی اور وبا کے باعث نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے والے افراد کیلئے علاج کی ضروری سہولیات کا انتظام کیا گیا۔

حکومت نے گھریلو زیادتیوں کے شکار افراد کے لئے واٹس ایپ ہیلپ لائن بھی قائم کی۔  یہ دونوں ہیلپ لائنیں دن میں 24 گھنٹے کام کرتی ہیں۔ شہروں میں پنچایت کمیٹیوں اور گاؤں کی کونسلوں نے اپنے مقامی علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے لئے، کھانے اور دیگر وسائل کا بھروسہ مند انتظام کیا، تاکہ عوام میں بے چینی نہ پھیلے۔ سول سوسائٹی اور طلبا کی طرف سے رضاکارانہ سروسز، عوامی آگاہی اور ہاتھوں کی صفائی کے حوالے سے مہمات بھی چلائی گئیں۔ جس کے خاطر خواہ نتائج بھی آئے۔ 

ریاستی حکمت عملی میں ٹریسنگ کو اولیت دی گئی تاکہ مشتبہ مریضوں کو علیحدہ کرتے ہوئے مقامی پھیلاؤ کو روکا جاسکے اور ٹیسٹنگ کٹس کی کمی کا مداوا بھی کیا جا سکے۔ اسی کامیاب پالیسی کا ثمر ہے کہ 14 جون کی سہ پہر کیرالہ کی صوبائی وزیر صحت نے لوکل ٹرانسمشن صفر ہونے کا خوش گوار اور حیرت انگیز اعلان کیا۔

 ریاست میں تادم تحریر 2460 کورونا وائرس کے مریض ہیں۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کیرالہ نے کوویڈ۔19 کے خلاف جنگ جیتلی ہے۔ آنیوالے مون سون کے موسم میں جاری وبا کے ساتھ ڈینگی اور ملیریا بخار سے متعلق خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔

 لیکن سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ ریاست نے درپیش صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کیا۔ مناسب اور بر وقت انتظامات سے عوام کو متحرک اور منظم رکھتے ہوئے وبا کے خلاف اقدامات اٹھائے۔

کیرالہ نہ صرف اس لئے کامیاب ہے کہ

 اس نے وبا کے خلاف فوری اقدامات کئے، بلکہ برسوں سے تعلیم، صحت اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی پر سرمایہ کاری نے مضبوط سماجی و انتظامی ڈھانچہ فراہم کیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کیرالہ کے ماڈل سے سیکھ کر اپنے انتظامات بہتر کر رہی ہے۔ جبکہ ہمیں ابھی تک خوفناک رفتار سے بڑھتی وبأ، عالمی ادارہ صحت اور ڈاکٹرز لازمی حفاظتی انتظامات پر ہی قائل نہیں کر پائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے حوالے سے پاکستان پہلے دس خطرناک ممالک میں شامل ہے۔ لیکن وبا کے حوالے سے انتظامات کے لئے ہم ابتدائی سو ممالک میں بھی شامل نہیں۔ وبا کے عروج کی خبر دینے والے حکام ہی، عارضی قرنطینہ مراکز کے خاتمے کا آرڈر جاری کر چکے ہیں۔ کروڑوں روپے کی مالیت سے بننے والے ان مراکز میں وزرا کی تصاویر کے علاؤہ کوئی دیگر قابل ذکر کام نہیں ہوسکا۔

ویری ویلڈن، کیرالہ کہتے ہوئے، ویری ویلڈن، پاکستان کہنے کی تمنا شدید تر ہے۔ اے کاش کہ وبا بڑھنے کی رفتار، ڈاکٹرز اور عالمی ادارہ صحت ہماری حکومت کو سنجیدگی پہ قائل کر لیں۔ اے کاش کہ دیر آید درست آیدکا مقولہ عملاً ہمیں بھی دیکھنے کو ملے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *