کیا سنتھیارچی کے الزامات کووڈ19 سے زیادہ اہم ہیں؟

عائشہ صدیقہ

بدترین معاشی صورتحال سے دوچار پاکستان، جس سے کووڈ 19 سے پیدا شدہ صورتحال بھی سنبھالی نہیں جارہی ، عمران خان کی حکومت اور پاکستان آرمی عوام کی توجہ اس بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے دہائیوں پرانے طریقے استعمال کر رہی ہے۔

بھارتی میڈیا چین کے ساتھ جاری مخاصمت پر زور لگائے ہوئے ہے جبکہ پاکستانی میڈیا سنتھیا رچی کے سحر سے باہر نہیں نکل رہا۔ سنتھیا رچی جو کہ امریکی شہری ہے نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر اپنے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے ۔ الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک سنتھیا رچی ہر جگہ خبروں اور تجزیوں کا موضوع بنی ہوئی ہےجبکہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ ہے کون؟

پاکستانی میڈیا ،جس پر ریاست کا سخت کنٹرول ہے، میں ایک امریکی خاتون سے جنسی زیادتی کے واقعات کی خبریں اورتجزیے خاص کر ریاست کے ان اینکر پرسن کی طرف سے جو ریاست کے نقطہ نظر کو فروغ دیتے ہیں ، حیران کن ہیں۔شاید اس کی کہانیوں میں کوئی سچائی ہو مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ نو سال خاموش کیوں رہی اور اس کو اپنی داستان اتنی سنسنی سے بتانے کی اب کیا ضرورت پیش آئی۔ سنتھیا کی کہانی کی تحقیق ہونی چاہیے مگر ساتھ میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کے یہ داستان چند جاگیردارانہ حرکتیں کرنے والے طاقتور لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہونے والی عورت کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کا مقصد ایک تحریک اور ایک خاص سیاسی پارٹی کو رسوا کرنے کا ہے۔ مزید یہ کہ کہانی اتنی چٹپٹی ہے کہ عوام کا ذہن عمران خان کی حکومت کی ناکامی سے ہٹا رہے۔

سنتھیارچی کی جانب سے پیپلز پارٹی کے تین رہنماؤں، رحمان ملک، شہاب الدین اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر ریپ اور جنسی ہراسگی کا الزام کوئی ناقابل یقین نہیں۔ لیکن کہانی میں بہت سا جھول بھی ہے جس پر توجہ دینی چاہئے۔ مثلاً وہ کون سا جذبہ تھا جس کی وجہ سے سنتھیا ریپ ہونے کہ باوجود بار بار پاکستان آتی ہے اور ملک کی تعریف کرنے سے نہیں رکتی۔ وہ اپنے وی لاگ میں پاکستان کو نہایت محفوظ ملک کہتی ہے۔ پھر وہ اپنے ایک انٹرویو میں بتاتی ہے کہ  رحمان ملک نے ریپ کرنے کے بعد اسے دوہزار پونڈدیے تھے، وہ پیسے نہیں لینا چاہتی تھی لیکن پھر لے لیے۔ جس کا مطلب ہے کہ گو کہ اس عمل میں اس کی رضامندی شامل نہیں تھی لیکن اس نے بعد میں زنا بالجبر کی قیمت وصول کر لی اور پاکستان آتی رہی اور نو سال تک خاموش رہی۔

سوال یہ ہے کہ اس کو اب یہ بات بتانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟

سنھتیا کون ہے؟

شاید ہی کسی کو علم ہو کہ سنتھیا کا پاکستان میں بزنس ویزا کس نے سپانسر کیا یا وہ 2010 سے پاکستان میں کیا کررہی ہے۔ ایک خاتون جس کی سنتھیا تین دن تک مہمان رہی اس کا کہنا ہے کہ وہ اس امریکن عورت کو نہیں جانتی تھی لیکن اس کے گھر پر ۲۰۰۹ یا ۲۰۱۰ میں سنتھیا کو اعظم سواتی نے ٹھہرایا تھا۔ اس وقت اعظم سواتی پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوا تھا بلکہ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی میں تھا۔ سنتھیا غالباً سواتی کے بھائی کی دوست تھی اور جب وہ وال مارٹ نامی ایک امریکن سٹور سے نکالی گئی تو اعظم سواتی نے اس کو یورپ گھمانے کا بندوبست کیا اور اس سفر کے سارے پیسے ادا کیے۔

حلیے سے تو خاتون ویسی لگتی ہیں جن کو کسی نے اپنی سچی یا جھوٹی کہانی سنا کر پیپلز پارٹی کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا کہا ہو۔ ٹی وی سکرین پر آنسو بہاتی ہوئی ایک امریکی عورت جو کہ پاکستان کے گن گاتی ہو کس کا دل نہیں پسیجے گا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ اس کی کہانی ساری جھوٹی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کو اتنے عرصہ میں صرف انہی مردوں کو بھگتنا پڑا اور کیا وجہ ہے کہ یہ صرف یہی کہانی سنا رہی ہے؟

اس بات پر تو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا نشانہ پی پی پی ہے۔ اس نے جنوری 2020  میں بے نظیر بھٹوکی بیٹی بختاور بھٹو پر الزام تراشی کی اور پھر مئی میں بے نظیر بھٹو پر غلیظ الزامات لگائے۔ جن کے بعد سنتھیا رچی اور پیپلز پارٹی کے میڈیا ونگ کے درمیان تکرار ہوئی جو بڑھ کر اس معاملے تک پہنچیدلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہبی شناخت کو اہمیت دی جاتی ہے وہاں کے ٹی وی چینلز پر کسی سنسرشپ کے بغیر اسےنہایت فوش بات کہنے کی اجازت دی گئی۔ کیا پاکستان کی اپنی بیٹیاں جو زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہیں کیا انکے بارے میں بھی ایسی بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے جو سنتھیا نے محمد مالک کے پروگرام میں کی؟ ۔

سنتھیا رچی کا دعوی ہے کہ وہ دس سال پہلے پاکستان آئی تھی۔لیکن دو تین سال پہلے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر، جنرل آصف غفور کے دور میں وہ سوشل میڈیا پر مشہور ہوئی۔ وہ سوشل میڈیا میں پاکستان کا مثبت امیج پروموٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ متنازعہ بیانات بھی دینا شروع ہوگئی۔ میں نے اسے اس وقت بلاک کردیا جب وہ آئی ایس پی آر کے ٹرولز کے ساتھ مل کر ٹویٹ کر رہی تھی اور بہت مکاری سے انہیں میرے خلاف اکسارہی تھی۔سنتھیا رچی جنرل آصف غفور کے ذہنی معیار اور میڈیا سٹائل پر پورا اترتی تھی جو گفتگو کے دوران ایک علمی سکالرشپ کو فحاشی سے تشبیہ دیتا تھا یعنی کہ دونوں استاد اور شاگرد یعنی کہ جنرل اور سنتھیا ایک ہی طرح کی زبان بولتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی سوشل میڈیا ٹیم کا سنتھیاکے ساتھ فطری تعلق بنا کیونکہ اس سے پاکستان کے امیج کو مثبت طور پر یا ریاستی نقطہ نظر کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ سنتھیاکو لے کر شاید نیا تجربہ کیا گیاکیونکہ ماضی میں بھی کئی خواتین کو پاکستان کے مثبت امیج کو پیش کرنے اور فوج کا نقطہ نظر پیش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا لیکن جن کا تعلق پاکستان سے تھا۔ ویسی خواتین اب بھی موجود ہیں جو کہ بین الاقوامی کانفرنسز میں مقالے پڑھنا سے لے کر غیر ملکی صحافیوں یا ڈپلومیٹس کا پھنسانے کے کام آتی ہیں۔

پرانی شراب نئی بوتل میں

کوئی 2009۔10میں پاکستان کی بین الاقوامی پبلسٹی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ صحافی پلٹ ڈپلومیٹ ملیحہ لودھی نے ایک کتاب لکھی 

Pakistan: Beyond a Crisis State

جس میں انھوں نے دنیا میں پاکستان کے مثبت امیج کی ضرورت پر زور دیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے اس آئیڈیا کوبے ہنگم اور ظالمانہ طریقے سے استعمال کرنا شروع کیا۔ دسمبر 2016 میں جنرل آصف غفور نے آئی ایس پی آر کا چارج سنبھالاتو ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج تھا کہ ہندوستان کا دعویٰ کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہو چکا ہے کہ تاثر کو کیسے تبدیل کیا جائے۔ بھارتی حکومت نے اپنی سفارت کاری کے بل پر پاکستان کو دنیا میں سفارتی طور پر تنہا کرنے کا کام شروع کر دیاجس میں نریندر مودی کی حکومت ناکام ہوئی۔

آئی ایس پی آر سنتھیا رچی کو اپنی پبلسٹی کے لیے ایک نئے ورژن کے طور پر سامنے لائی۔ سنہ 70 کی دہائی سے آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے گوری خواتین اور حضرات کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان آرمی اور ملک کا مثبت امیج بنائیں۔ عمومی طور پر پاک آرمی پاکستانی سکالرز پر اعتبار نہیں کرتی اور نہ ان کے ساتھ ایسا ڈیٹا شئیر کرتی ہے جو کہ تحقیق کے کام آ سکے۔ لیکن بہت سے ایسے برطانوی اور امریکی نژاد ہیں جن کہ آگے سب کچھ کھول کر رکھ دیا جاتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ۲۰۰۴ میں ایک امریکی سفارتکار نے باتوں باتوں میں یہ بتایا کہ اس سے مشرف نے ایسی چند باتیں کی ہیں جو کہ نیوکلیر پروگرام کے متعلق ہیں جو کہ وہ اگر کسی پاکستانی کو بتا دے تو ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا۔

پاکستان کی ریاست کی ایسی سوچ تحقیق میں ملک کی پسماندگی کا مؤجب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مسائل پر کوئی ٹھوس تحقیقی مواد دستیاب نہیں۔مثال کے طور پر آپ کو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی معیاری مواد شاید ہی ملے۔ امور خارجہ سے متعلق تفصیلات تو دور کی بات آپ کو ریٹائرڈ ڈپلومیٹس کی فہرست بھی دستیاب نہیں۔

غیر ملکی خاص کر گوروں کو پاکستانیوں پر ترجیح دینے کی حکمت عملی برابر جاری ہے باوجوداس کے کہ ایسٹبلشمنٹ کو کئی دفعہ خفت اٹھانا پڑی۔ خیال یہ ہے کہ میڈیا کے ساتھ تعلق رکھنے والوں، لکھاریوں، محقق یا سنتھیا جیسے بیکار لوگوں کو  معلومات فراہم کرنے ، پیسہ اور دوسری سہولیات دینے سے ملکی اور غیر ملکی سطح پر اچھے نتائج حاصل ہوں گے۔

سنتھیا جیسے لوگوں کی بدولت (کیونکہ وہ نا ہی بہت پڑھی لکھی ہے نہ ہی امریکہ میں اسکا نام ہے) باہر تو کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑا لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے پاکستان کی اپنی پڑھی لکھی مڈل کلاس شاید مرعوب ہو جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ لوگ جوک در جوک پاکستان آئیں گے۔ یہ اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جو کہ ہمیں اپنے ہاں صابن یا شیمپو کے اشتہاروں میں نظر آتی ہے ۔ کسی بھی گوری چمڑی کو کھڑا کر دو اور لوگ مرعوب ہو جائیں گے۔ سنتھیا جیسے لوگوں کا استعمال شاید اسلئے بھی ضروری ہے کہ ماضی کہ مقابلے میں آئی ایس پی آر اپنے پراپیگنڈے کے لیے تمام زبانوں کے میڈیا کو استعمال کر رہی ہے۔ وہ زمانہ گیا جب صرف اردو اخبارات کو قابل توجہ سمجھا جاتا تھا۔

آئینی ترمیم جسے پاکستان آرمی پسند نہیں کرتی

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان آرمی کی طرح سنتھیا رچی بھی ،پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایماور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف نفرت کو میڈیا میں شئیر کرتی ہے۔ پی ٹی ایم اور پی پی پی دونوں کو وہ تقریباً ایک سال سے تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ پی ٹی ایم کو پاکستان آرمی کی طرف سے قومی اور بین الاقوامی فورمز پر سخت مخالفت کا سامنا ہے اور اب اس میں پی پی پی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ پاکستان آرمی کی جانب سے پیپلز پارٹی کی نفرت کوئی تازہ نہیں بلکہ سنہ 70 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اب یہ پارٹی سیکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ۔ تازہ مخالفت کی وجہ پی پی پی کی طرف سے  73 کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کا اضافہ ہے۔ اس ترمیم کی رو سے صوبوں کو مالی وسائل کے حوالے سے نہ صرف خودمختارکرنا ہے بلکہ بتدریج صوبوں کے مالی وسائل پر مرکز کا انحصار ختم کرنا بھی ہے۔اور اس ترمیم کا براہ راست اثر پاکستان آرمی کے مالی وسائل پر پڑتا ہے خاص کر کرونا وائرس کی وبا کے بعد۔

سنہ2019 کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے اٹھارویں ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے اسے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات سے تعبیر کیا، جن کے بارے میں جی ایچ کیو سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان ٹوٹنے کی وجہ بنے۔ پی پی پی اس ترمیم کو واپس نہیں لینا چاہتی۔ پیپلز پارٹی میں بہت سی کمزوریاں ہیں لیکن وہ اس سلسلےمیں کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتی جس کی وجہ سے اسے سندھ میں اپنی مقبولیت کو کھونا پڑے۔

ادھر تم ادھر ہم

جب آرمی نے دیکھا کہ اٹھارویں ترمیم تو واپس نہیں ہو سکتی تو وسائل پر کنٹرول کرنے کے لیے این ایف سی نیشنل فنانس کمیشنایوارڈ کو تبدیل کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔این ایف سی ایوارڈ مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی تقیسم کا معاہدہ ہے جس کا فارمولا آئین میں درج ہے۔

عمران خان حکومت نے متنازعہ تجویز پیش کی ہے کہ دسویں این ایف سی ایوارڈ کی ٹرمز آف ریفرنس(ٹی او آر)کیا ہونے چاہییں۔ یعنی صوبائی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے اخراجات بھی ادا کریں جس کا مطلب یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی بھی دی جائے۔

اس تمام عمل کا مقصد یہ ہے کہ مرکزی حکومت کی مالی وسائل پر دسترس حاصل ہو سکے جب کہ اس کے دور رس سیاسی اثرات ہوں گے۔ کیونکہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کو ابھی تک آزاد علاقے سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان علاقوں کو پاکستان میں شامل کرنے کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو تسلیم کر لیا ہے اور جس کا مطلب یہی ہے کہ ادھر تم ادھر ہم۔ 

جن ماہرین سے میری بات ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلقہ بحث کو فی الحال کئی ماہ تک موخر کر دیا گیا ہے اور پاکستان آرمی ابھی اس تجویز پر اس طرح عمل نہ کرے۔لیکن اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان آرمی وسائل کی شدید کمی سے دوچار ہے جب کہ وہ اپنے اخراجات بتانے پر بھی راضی نہیں۔اور وہ مزید مایوس ہوکر سنتھیا رچی کے ذریعے قومی سطح پر شورو غوغا کرتی رہے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان کے 2010-21 کے نئے بجٹ میں صوبوں کا حصہ مشورہ کے بغیر ہی کم کر دیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ سنتھیا کو جون کی تیس تاریخ جبکہ اسکا ویزہ ختم ہو جائے گا اسکو ملک سے بھیجنے کے بجائے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اسے مزید گلے لگا لے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *