عمران خان کی سندھ فتح کرنے کی ناکام کوشش

 قربان بلوچ

حکمران  خود پر کتنی ہی جبری پابندیاں کیوں نہ لگائے لیکن وہ بھی انسان ہے، اور چاہتے ہوئے بھی خود کو کنٹرول نہیں کرسکتا، اور دل کی بات کہہ ہی جاتا ہے، اس کی چھوٹی سی مثال تو ایک یہ ہے کہ جون کے آخر میں اچانک وزیراعظم غیر متوقع طور پر پارلیمنٹ ہاؤس آ پہنچے اور قومی اسمبلی سے لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے خطاب کیا، ان کے اندر کا انسان باہر آگیا جب انہوں نے اسامہ بن لادن کو شہید کا رتبہ دے دیا، حالانکہ جس نشست سے اٹھ کر وہ خطاب کر رہے تھے اسی نشست کے سامنے یوسف رضا گیلانی نے اسامہ کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور ان کی ہلاکت کا اعلان کیا۔

لیکن ہمارا موضوع اسامہ نہیں بلکہ خود وزیر اعظم ہیں، جنہیں اکثر اوقات اپنی زبان پر کنٹرول نہیں رہتا اور وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں ، جن کا انہیں نقصان اور ان کے مخالفین کو فائدہ ہوتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان جون کے کے تیسرے ہفتے کے ابتدائی دنوں میں سندھ کے دوروزہ دورے پر پہلے دن کراچی پہنچے اور اس کے بعد لاڑکانہ بھی گئے۔اس دورے کے حوالے سے تحریک انصاف سندھ کی تنظیم ابھی تک اس پریشانی میں مبتلا ہے کہ وزیر اعظم آئے تو آئے کیوں تھے ؟ اور ان کے دو دن کے دورے کا فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہی ہوا۔ کیوں کہ وزیراعظم کے دورے نے پی ٹی آئی سندھ کے کارکنان اور رہنماؤں کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کردیا ، وہ اپنے وزیر اعظم کا دفاع کس طرح کریں، کیوں کہ لاڑکانہ کا دورہ جس کے بھی کہنے پر انہوں نے کیا اس کے فائدے کے بجائے انہیں زبردست نقصان پہنچا۔حیدرآباد کے ایک کارکن  ذوالفقار ہالیپوتو نے برملا سوشل  میڈیا  پر   کہا  کہ وزیر اعظم  کے لاڑکانہ  دعوت  شرکت سے  بہتر تھا  وہ سندھ نہ آتے۔

وزیر  اعظم  اسلام  آباد سے  کراچی  پہنچے ۔ گورنر سندھ اور تحریک انصاف  کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی،  اس ملاقات کے بعد اپنے اتحادیوں جن میں  ایم کیو ایم  اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) شامل ہیں  کے رہنماؤں  سے ملاقات کی۔  اطلاعات کے  مطابق جی ڈی اے رہنماؤں سے ملاقات میں قوم  پرست  سوچ کے حامل کچھ رہنماؤں  نے شرکت نہیں  کی،جن  میں  ایاز لطیف  پلیجو  قابل ذکر ہیں ۔

 حکمران جماعت تحریک انصاف کے  اکثر رہنماوں کوبدقسمتی سے  منہ کا بواسیر  ورثے میں ملا ہے، اس لیے جب وہ بولتے ہیں تو انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کا نقصان کتنا ہوگا۔  قومی مالیاتی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے پیپلزپارٹی یا اس کی مخالف جتنی بھی سندھ میں جماعتیں ہیں وہ ایک ہی نقطے پر یکجا ہیں کہ ان میں کسی صورت ترمیم قبول نہیں۔  کیونکہ سندھ کے سیاسی لوگ یہ درست سمجھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار دیگر صوبوں کی طرح سندھ کو مالی اور انتظامی آزادی ملی ہے۔

وزیر اعظم  سے  حالیہ  دورے کے دوران  ملاقات  کرنے والے  مسلم  لیگ  فنکشنل کے رہنماؤں نے  وزیراعظم کے سامنے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا  اظہار  کیا کہ ان کی جماعت کے رہنما قومی مالیاتی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم پر بغیر سوچے سمجھے بات کرتے رہتے ہیں ، جس  سے  سب کو نقصان ہوتا  ہے۔

 انا اور  ضد  کے  گرداب  میں  دھنسے ہوئے وزیر اعظم  عمران خان  نے   دورہ  سندہ  کے  دوراں  وزیراعلیٰ سندھ مراد  علی شاہ سے  ملاقات نہیں کی۔ مراد علی شاہ کا دعویٰ ہے  کہ نہ فقظ  انہیں گورنر  ہاؤس کی طرف سے وزیر اعظم   کےاستقبال  کے دعوت  نہ دی  گئی بلکہ ان کے  کسی  اجلاس میں  شرکت  سے بھی روکا گیا۔ اگر ایک وزیراعظم کسی وحدت کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرے  تو اس رویے کا پیغام عام عوام تک کیا جائے گا؟ سیاست  میں  تو ذاتی رنجشیں  نہیں پالی  جاتی لیکن عمران مخالفین کا کہا یہ سچ ثابت  ہونے لگا ہے کہ عمران  خان سیاسی  آدمی  نہیں ہیں،کیونکہ سیاست   میں  تو مخالف کے  فاؤل  پلے سے فائدہ  اٹھایا جاتا ہے ، انہیں فائدہ نہیں دیا جاتا ۔میں نے اپنے  صحافتی  کیریئر  میں  یہ پہلا ایسا  وزیر اعظم   اور ان  کے پیروکار  دیکھے  ہیں جو  مخالفین کو فائدہ دینے  کیلئے  وقت بہ وقت  مواقع  پیدا کر تے   ہیں۔

  سندھ کے  دورے کے  دوسرے روز وزیر  اعظم عمران خان بھٹو خاندان  کے آبائی  شہر  لاڑکانہ پہنچے ،اس دورے کا بظاہر مقصد تو  احساس  پروگرام   مرکز کا  افتتاح  کرنا تھا، لیکن صوبے  کے باخبر  صحافیوں  اور  سوشل  میڈیا  کے   مطابق لاڑکانہ میں   عمران  خان نے اپنے ٹیم  کے  ساتھ ایک  مقامی ٹھیکیدار کی  دعوت  میں   شرکت  کی جس  پر  مبینہ  طور  پر  کرپشن   کے   بہت  سارے الزامات بتائے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کی رائے ہے کہ یہ ٹھیکدار  چڑھتے  سورج کی پوجا کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں اور  حکمرانوں  کیلیے اے ٹی  ایم  کا  بھی کام  کرتے  ہیں ۔  وزیراعظم  کے اعزاز  میں  اس ٹھیکدار نے ایک شاندار شا ہی دعوت کا اہتمام کیا اور کیا کیا پکوایا اور کھلایا  وہ تصاویر سوشل  میڈیا کی زینت  بن چکی ہیں، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ چیف  سیکرٹری  اور  انسپکٹر جنرل سندھ کو بھی اجلاس  کے نام پرلاڑکانہ بلایا گیا تھا، حالانکہ یہ اجلاس  گورنر   ہاؤس  کراچی میں بھی ہوسکتا تھا،لیکن سندھ حکومت کی  انتظامی مشینری کے اہم حکام کو  ایک طرف میزبان ٹھیکدار کو متعارف کروانا تھا،تو دوسری جانب مقامی سطح پر اس ٹھیکدار کے دبدبے میں اضافہ بھی کروانا تھا۔ اب جب وزیراعظم اس ٹھیکدار کو شرف میزبانی بخش چکے تو اس کے بدلے میں بدعنوانی کے سارے داغ بھی دھل گئے اور تو اور  اسے  مزید ٹھیکے بھی  پہلے  سے بڑے  ملیں  گے۔

اعلیٰ قیادت  کے اس عمل  پر   تحریک  انصاف  کے  سندہ سے  تعلق  رکھنے  والے  کارکن سیخ  پاہیں۔ کارکنان کی اکثریت نے سوشل  میڈیا  پر  اس حد تک رد عمل کا  اظہار کیا کہ اس  سے  بہتر  تھا  وزیر اعظم  سندھ  کا دورہ ہی نہ کرتے۔لیکن بات یہاں  ختم نہیں  ہوتی وزیر  اعظم  ٹھیکدار کی دعوت کے بعد واپس   کراچی  پہنچے اور  میڈیا   کے  ساتھ  بات  چیت کرتے  ہوئے  دو اہم   قومی  اہمیت  کے  حامل امور  پر    عدم  اعتماد  کرکے  صوبے  کے  دورے  کے ناکامی  پر  آخری  کیل  ٹھوک  دی۔

جو  دو  قومی  امور  حکمرانوں   کے  دل  میں  کانٹے  کی  طرح    چبھ  رہے ہیں  ان  میں ایک اٹھارویں  آئینی  ترمیم  اور دوسرا ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ہے۔ یہ ملکی تاریخ کا پہلا  مالیاتی  ایوارڈ  ہے جس  میں  چھوٹے  صوبوں کا   مستقبل  میں  مالی  حصہ  کم  نہ ہونے  کے  ساتھ معاشی   اور  انسانی  ترقی اور  انفراسٹرکچر سے  محروم   پسماندہ   صوبے   بلوچستان  کا   مالیاتی  حصہ   کسی  صورت  کم  نہ ہو نے  کے   آئینی ضمانت   دی گئی ہے۔

لیکن بدقسمتی  یہ  ہے  کہ وزیر اعظم  سے  لیکر  اسکے  اکابرین تک کی اکثریت پی پی پی  اور مسلم  لیگ ن  کے ماضی   کے   ہر  اس مثبت  عمل   خصوصا   ساتویں  این ایف  سی  ایوارڈ کو    ضد   اور کچھ  طاقتور  اداروں  کے  خواہش پر  رول بیک کرنا  چاہتے ہیں۔اب   سوال  یہ  اٹھتا   ہے  کہ کیا ساتویں  این  ایف  سی  ایوارڈ یا  اٹھارویں  آئینی  ترمیم  کو  رول بیک کرنے  کا  نقصان   فقظ  حکمران  جماعت  کے سیاسی   مخالف  جماعت  کے حکمرانی  کرنے  والے  صوبے کو  ہوگا  یا  سب   سے  زیادہ  نقصان  بلوچستان  اور پختونخوا کو  ہوگا؟

چلیں سندھ  کو  تھوڑی دیر کیلئے بھول جاتے ہیں ۔اگر ساتویں   این  ایف سی  ایوارڈ   اور اٹھارویں  آئینی  ترمیم کو رول بیک  جاتا ہےتو اسکا فوری  نقصان  پسماندہ  اور   شورش  زدہ   بلوچستان  کو  ہوگا ایک  تو   اسکا    مالی  حصہ کم  ہوجائیگا  جو   وسائل  کی ملٹی کرائٹیریا کے تقسیم  سے  بڑھ  گیا تھا ،دوسرا  نقصان   اسکے  حصے  میں  کسی  صورت  میں  کمی  نہ کرنے والی  ضمانت  ختم  ہوجائی  گی۔  نقصان  میں  تو  پختوانخواھ   کو بھی جانا   ہے  جس  میں ایک تو صوبے کا قابل  تقسیم  مالی  محاصل  سے ایک  فیصد  حصہ  ختم   ہوجائیگا  جو ساتویں   این ایف سی  ایوارڈ  میں  تین صوبوں   کے   اتفاق  رائے  سے  دہشت گردی   کے  خلاف جنگ کے نقصان  کے ازالے  کے طور پر دیا گیا۔کیونکہ  اب  ملک   سے  دہشتگردی کا  تقریبا خاتمہ  ہوچکا ہے  لیکن  پھر بھی  سندھ یا   کوئی   اور صوبہ اربوں  روپے کا    وہ   حصہ  ختم  کرنے  کی بات نہیں کر رہا  ہے۔

اب  ان ساری  صورتحال  کا  جائزہ  لیا   جائے   تو  بخوبی  اندازہ لگایا جا  سکتا  ہے  کہ این  ایف سی  ایوارڈ  اور  اٹھارویں   آئینی   ترمیم  کو چھیڑنے کا  نقصان کسی اور  کو  ہو   نہ  ہو  سندھ سے  زیادہ بلوچستان  اور  پختونخواہ  کو ہوگا  جہاں  تحریک  انصاف  اور  اتحادی  حکمراں ہیں ،جہاں  مخالف  سیاسی  جماعتیں  تو  چھوڑیں  اکثر حکومتی   اتحادی  جماعتیں  بھی  خان صاحب  کے  طرز  حکمرانی  سے  نالاں  ہیں اور  انکا  کہنا  ہے  کہ وہ  این  ایف  سی  اور  اٹھارویں   ترمیم رول  بیک  کرنے میں  خان  حکومت  کا  ساتھ  نہیں  دینگے جو بات   ایم  این   اے   شاہ زین بگٹی  اور اسلم بھوتانی  برملا کہ  چکے ہیں۔

اب سندھ  میں  یہ تاثر  زور پکڑ  رہا ہے  کہ  موجودہ   حالات  میں  بھی  عمران  خان   سندھ کو فتح  کرنے کیلئے  مسلسل  کوشاں  ہیں۔ لیکن  حقیقت  میں  سندھ فتح  کرنا  تو  درکنار تحریک  انصاف  کے  مرکز  اور تینوں  صوبوں   میں   طرز  حکمرانی   کی    نااہلی   نے سندھ میں   نہ صرف پی پی پی  کے کرپٹ   ہونے کے داغ دھو  دیئے  ہیں بلکہ  ماضی میں  کافی    حوالوں   سے بدنام جماعت کی  قیادت کو بھی ہیرو بنا دیا ہے،جس کی وجہ   لوگ اس کہاوت   کو  یاد  کر رہے  ہیں  کہ ماضی کے  حکمران  تو صرف کفن  چراتے تھے ، لیکن موجودہ حکمران تو کفن چرانے کے ساتھ ساتھ ڈنڈا بھی کرتے ہیں ۔

قربان بلوچ اسلام آباد  کے  سینئر صحافی ہیں، آبی معاملات ،وفاق اور صوبوں  کے درمیاں  مالی   وسائل اور  پارلیمانی امور  کو کور کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *