ہتھیار تھے تو استعمال کیوں نہ کیے؟

چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں 20  بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور 76 دیگر کے زخمی ہوجانے کے بعد بھارت میں یہ بحث شدت اختیار کرگئی ہے کہ اگر بھارتی فوج کے پاس ہتھیار تھے تو اس کا استعمال کیوں نہیں کیا؟

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے حکومت سے سوال کیا کہہمارے نہتے سپاہیوں کو مارنے کی چین کی ہمت کیسے ہوئی۔ ہمارے نہتے سپاہیوں کو شہید ہونے کے لیے کیوں بھیجا گیا تھا؟‘۔

ذرائع کے مطابق حقیقی کنٹرول لائن پر جھڑپ کے دوران چینی فوجیوں نے لوہے کی سلاخوں، کٹیلے تاروں اور لوہے کی کیلوں سے لپٹے ہوئے ڈنڈوں سے بھارتی فوجیوں پرحملے کیے۔ جس میں ایک کرنل سمیت بیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے اور 76دیگر زخمی ہوئے،جن کا مختلف فوجی ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے مودی حکومت سے یہی سوال پوچھا کہ ”جب کرنل سنتوش بابو پر حملہ ہوا تو باقی جوانوں نے گولیاں کیوں نہیں چلائیں؟  جب دھوکے باز‘ چین کی طرف سے گولیاں چلائی گئیں تو ہمارے افسران کو بھی گولی چلانے کا آرڈر دینا چاہیے تھا۔ اور اگر وہ وہاں ہوتے تو فوراً شوٹ کا آرڈر دیتے۔

کیپٹن امریندر سنگھ کا کہنا تھا ”وہ یہ بات ایک سیاسی لیڈر کے طور پر نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے طور پر کہہ رہے ہیں جو فوج میں رہ چکا ہے۔ان کا کہنا تھا،’’ حکومت نے پہلے بتایا تھا کہ ہمارے فوجی نہتے تھے بعد میں کہا کہ وہ ہتھیار لے کر گئے تھے۔ اگر ان کے پاس ہتھیار تھے تو پھر گولیاں کیوں نہیں چلائی گئیں۔ یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ وہ کون تھا جو اپنا کام کرنے میں ناکام رہا‘‘۔

اس سے قبل سابق آرمی افسر لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے بھی ہتھیاروں کے استعمال نہیں کرنے پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی جوانوں کو ہتھیاروں کے بغیر کیوں بھیجا گیا؟  لیفٹننٹ جنرل پناگ کا کہنا تھا کہ 200 سال کی تاریخ میں بھارتی فوج کی ایسی توہین کبھی نہیں ہوئی۔انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ آرمی کے جوان اوپر کے احکامات کی وجہ سے ہی ہتھیار کے بغیر گئے تھے اور وہاں انہیں قتل کردیا گیا۔ راہول گاندھی نے پناگ کے اسی ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال پوچھا تھا۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا ’سرحد پر فوجی ہمیشہ ہتھیار کے ساتھ تعینات رہتے ہیں۔ خاص کر چوکی چھوڑتے وقت۔ 15 جون کو گلوان میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ 1996ء اور 2005 ء کے معاہدوں کی وجہ سے ہم آمنے سامنے ہونے پر ہتھیاروں کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ کی وضاحت کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔  پہلی بات تو یہ کہ اتنے اہم معاملے پر ایسی کوئی وضاحت وزیر دفاع کی طرف سے آنی چاہیے۔ سوشل میڈیا میں ایسے سوالوں کی بوچھاڑ ہو گئی کہ چین کی فوج نے بھارتی جوانوں کو اتنی بے رحمی سے قتل کیا اس کے باوجود بھارت کے جوانوں نے اپنے دفاع میں ہتھیارں کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ یہ کیسا معاہدہ ہے جو ایک شخص کو اپنی دفاع سے بھی روکتا ہے؟

شمالی کمان اور وسطی کمان کے سابق جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ایچ ایس پناگ کا کہنا ہے کہ سن 1996کے جس معاہدے کا وزیر خارجہ نے ذکر کیا ہے اس کی دفعہ چھ کا تعلق حقیقی کنٹرول لائن پر اعتماد سازی کے اقدامات سے ہے۔ فوجی بحران کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر کسی موقع یا پیش قدمی کی وجہ سے ان کی جان خطرے میں ہے تو وہ اپنے دفاع کے لیے تمام طرح کے ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل وی پی ملک کا کہنا تھا کہ 1996ء کے معاہدے میں یہ درج ہے کہ جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوں تو ایک دوسرے پر گولی نہیں چلائیں گی اور تحمل سے کام لیں گی تاکہ صورت حال مزید خراب نہ ہونے پائے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ یہ معاہدہ اس وقت بے معنی ہوجاتا ہے جب حقیقی کنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہے،’’آپ یہ کیسے فیصلہ کریں گے کہ حقیقی کنٹرول لائن کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔‘‘

شمالی کمان کے سابق آرمی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بی ایس جسوال نے گلوان جیسی سنگین صورت حال میں ہتھیاروں کے استعمال کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا، ”پہلی بات تو یہ کہ وہ دراندازی کر کے ہمارے علاقے میں داخل ہو گئے اور اس کے بعد ہمارے جوانوں پر انتہائی بربریت کے ساتھ حملے کردیے۔ میں تو ہتھیاروں کے استعمال کی مکمل حمایت کرتا۔

دریں اثنا چین کے ساتھ عسکری کشیدگی میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت  پر ہر جانب سے نکتہ چینی ہورہی ہے۔ اس صورت حال کے مدنظر آج جمعہ 19جون کی شام کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کل جماعتی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے، حالانکہ بعض سیاسی جماعتوں کو مدعو نہیں کیے جانے کی وجہ سے یہ میٹنگ پہلے ہی تنازعےکا شکار ہوگئی ہے۔

DW.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *