سرایڈورڈ ڈگلس میکلیگن، علامہ اقبال اور سر کا خطاب

لیاقت علی

پرانی انارکلی چوک(لاہور) سے نابھہ روڈ سے گذرتے ہوئے کسٹم ہاوس کے قریب جو چوک ہے وہ اے۔جی آفس چوک کہلاتا ہے۔ اس چوک سے دائیں ہاتھ جو سڑک جین مندر کو جاتی ہے وہ ایک وقت میں ایڈورڈ روڈ کہلاتی تھی لیکن سڑکوں اور شہروں کے نام بدلنے کاجو چلن شروع ہوا تو اس کا اسلامی نام موج دریا روڈ رکھ دیاگیا۔اگر اسی اے۔جی۔آفس چوک سے بائیں ہاتھ مڑ جائیں تو یہ سڑک میکلیگن روڈ کہلاتی ہے۔

یہ ایڈورڈ اور میکلیگن جیسا کہ ناموں سے ظاہر ہوتا ہے برطانوی تھے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تعلق برطانوی عہد کی افسر شاہی سے تھا۔ لیکن ایک سوال اور بھی ہے کیا یہ ایک ہی شخص تھا یا یہ دو مختلف افراد تھے جن پر ان سڑکوں کے نام رکھے گئے تھے۔ میگلیگن انگریز تھا اور انڈین سول سروس کا اہم رکن۔ اس کا پورا نام تھا سر ایڈورڈ ڈگلس میکلیگن۔ اس نام سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ ایک شخص تھا جس کے نام کے دو حصوں پر ان دو سڑکوں کے نام رکھے گئے تھے۔

میکلیگن برطانوی عہد میں نہ صرف متعدد اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز رہا تھا بلکہ پنجاب کی تاریخ کے اہم ترین دور میں تین سال تک پنجاب کا گورنر بھی مقرر ہواتھا۔ میکلیگن کی شخصیت کا ایک اور حوالہ جسے ہمارے ہاں اگر بھلایا نہیں گیا تو نظر انداز ضرور کردیا گیا ہے وہ ہے علامہ اقبال سے اس کا تعلق اور انگریز سرکار کی طرف سے علامہ کو ملنے والا سرکے خطاب میں اس کا کردار۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم علامہ اقبال کو ملنے والے سر کے خطاب میں میکلیگن کے رول کی بابت کچھ بات کریں ضروری ہے کہ میکلیگن کی شخصیت اور بطور سول سرونٹ اس کے کئیریر کا تعارف کرادیا جائے۔

سر ایڈورڈ ڈگلس میکلیگن ((1864-1952کا تعلق برطانونی سرکاری افسروں کی اس نسل سے تھا جو برطانیہ کی بجائے ہندوستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی تھی۔ یہ وہ نسل تھی جس کے والدین برطانوی فوج یا سول سروس میں ملازمت کی بدولت سالہا سال سے ہندوستان میں مقیم تھے۔ایڈورڈ گلس میکلیگن بھی رائل انجیئنرنگ سروس میں تعینات جنرل میکلیگن کے ہاں 1864 میں پیدا ہوا تھا۔ جنرل میکلیگن کی پنجاب میں تعیناتی کی بدولت ایڈورڈ کا بچپن پنجاب میں گذرا تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اس نے ونچسٹر کالج اورنیو کالج آکسفورڈ سے تعلیم مکمل کرکے 1883میں انڈین سول سروس کا امتحان پاس کیا تھا۔

سنہ1881میں ہونے والی پہلی مردم شماری سرایڈورڈ ڈگلس میکلیگن کی زیر نگرانی مکمل ہوئی تھی۔ ڈگلس نے پنجاب کی ذاتوں اور قبیلوں پر ایک مبسوط کتاب مرتب کی تھی جس میں اس نے سر ڈینزل ابسن کی اس موضوع پر لکھی کتاب سے بھی استفادہ کیا تھا۔ 1906 میں وہ پنجاب کا چیف سیکرٹری اور1910 میں مرکزی حکومت کا سیکرٹری ایجوکیشن اور بعد ازاں سیکرٹری ریونیو مقرر ہوا تھا۔ میکلیگن کو 1919 میں مائیکل او ڈوائیر کی جگہ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب مقرر کیا گیا تھا۔

پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈوائر جلیانوالہ باغ کے اندوہناک واقعہ کا ذمہ دار تھا کیونکہ اس واقعہ کی منصوبہ بندی لاہور کے گورنر ہاوس میں ا سی کی زیرنگرانی کی گئی تھی۔ میکلیگن جب گورنر پنجاب مقرر ہوا اس وقت پنجاب میں سیاسی بے چینی شدید تھی۔ جلیانوالا باغ کے قتل عام کی بنا پر پنجاب بھر میں غم و غصے کی زبردست لہر دوڑ چکی تھی اور لوگوں کی ناراضی دور کرنے کے لئے ہی مائیکل ا و ڈوائیر کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹاکر میکلیگن کو مقرر کیا گیا تھا۔

میکلیگن بطور گورنر پنجاب یونینسٹ پارٹی قائم کرنے میں سر فضل حسین کی مدد و تعاون فراہم کیا تھا۔ یونینسٹ پارٹی پنجاب کے جاگیرداروں کی ایسی سیکولر پارٹی تھی جس میں مسلمان، ہندو اور سکھ جاگیردار شامل تھے۔ کسانوں اور دیہی عوام کے مفادات کے تحفظ کے نام پر تشکیل پانے والی یونینسٹ پارٹی دراصل جاگیرداروں کے تحفظ کے لئے بنائی گئی تھی۔ میکلگین کے عہد گورنری ہی میں پنجاب میں محدود الیکشن ہوئے اور پہلی مرتبہ دو وزرا پر مشتمل کابینہ بنائی گئی تھی۔ اس کابینہ میں سر فضل حسین وزیر تعلیم اور سر کشن لعل وزیر زراعت مقرر ہوئے تھے۔

سر ایڈورڈ ڈگلس میکلیگن نے بطور گورنر لاہور میں دو ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جو نہ صرف آج بھی قائم ہیں بلکہ دونوں اب یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔ 1923میں میکلیگن نے مغل پو ر ہ ٹیکنیکل کالج کی بنیاد رکھی جس کو بعد ازاں میکلیگن انجنیئرنگ کالج کا نا م دیا گیا تھا۔ آج ہم اسے یونیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی میکلیگن کالج کا ایک حصہ پنجاب انجئینرنگ کالج کے نام بھارتی پنجاب کے دارالحکومت چند ی گڑھ میں قائم ہے۔1924 میں بطور گورنر اپنی سبک دوشی سے قبل میکلیگن نے لاہور کالج فار ویمن کی بنیاد رکھی جو آج یونیورسٹی بن چکی ہے۔ یہ دونوں تعلیمی ادارے میکلیگن کو یاد رکھنے کے لئے کافی ہیں۔

اب علامہ اقبال،ان کو ملنے والا سر کا خطاب اور گورنر میکلیگن کے تعلق کا کچھ ذکر۔جس دور میں علامہ اقبال کو سر کا خطاب ملا اس دور میں ہندوستان کی سیاست میں انقلابی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوچکی تھیں۔اس دور میں ہندوستان کے مسلمانوں کی دو اہم تحریکیں تحریک خلافت اور تحریک ترک موالات ہندوستان کے سیاسی منظر نامے پر ابھر چکی تھیں۔ تحریک ترک موالات نے لوگوں زور دیا تھا کہ وہ برطانوی سرکار کے عطا کردہ خطابات اور اعزازی عہدوں کو واپس اور تمام سرکاری اور نیم سرکاری تقریبات میں شرکت کرنے سے انکار کریں۔

یہی وہ دور تھا جب رابندر نگار ٹیگور نے سر کا خطاب یہ کہہ کر واپس کردیا تھا کہ وہ اس خطاب کے بغیر اپنے ہم وطنوں میں زندہ رہنا پسند کرتا ہیں۔ لیکن عین اسی زمانے میں انگریز سرکار نے علامہ اقبال کو نائٹ ہڈ(سر) دینے کا فیصلہ کیا۔ سر کے خطاب سے پہلے علامہ اقبال کو پنجاب کورٹ کے چیف جج جسٹس شادی لعل کے ذریعے خان بہادر کے خطاب کی پیش کی جسے علامہ اقبال نے اپنے مقام سے کم تر خیال کرتے ہوئے ٹھکرادیا تھا۔

بعد ازاں انھیں پنجاب کے گورنر سر ایڈورڈ میکلیگن نے گورنر ہاوس میں مدعو جہاں انھیں لندن ٹائمز کے ایک صحافی سے ملوایا جس نے اقبال کی کتاب اسرار خودی کا انگریزی ترجمہ پڑھا تھا۔ مذکورہ صحافی سے گفتگو کے بعد جب علامہ اقبال رخصت ہونے لگے توانھیں گورنر کی طرف سے پیغام ملا کہ وہ جانے سے قبل گورنر سے مل لیں۔جب اقبال گورنر سے ملے تو اس نے کہا کہ میں آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کے لئے نائٹ ہڈ (سر) کے خطاب کی سفارش کرنا چاہتا ہوں آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے جس پر اقبال نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔

علامہ اقبال کو سر کا خطاب ملنے کے بعد 17 جنوری 1923 کو مقبرہ جہانگیر میں تقریب پذیرائی منعقد ہوئی تھی جس کا دعوت نامہ گورنر میکلیگن کی انتظامی کونسل کے اراکین جان مینارڈ، میاں فضل حسین،لالہ ہرکشن لعل، نواب سر ذوالفقار علی خان نواب سر فتح علی خان قزلباش،چودھری سر شہاب الدین اور میاں احمد یار خاں دولتانہ جیسے سرکار پرستوں کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔اس جلسے کی صدارت گورنر پنجاب سر ایڈورڈ ڈگلس میکلیگن نے کی تھی۔ تقریب پذیرائی کے رسمی میزبان تو سر ذوالفقار علی خان تھے لیکن اس کو کامیاب بنانے کا سہرا وزیر تعلیم سر فضل حسین تھا جنھوں نے لاہور کے تمام سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ اور طالب علموں کی حاضری یقینی بنائی تھی۔

تقریب کا آغاز میزبان سر ذوالفقار علی خان کی تقریر سے ہوا اور ان کے جواب میں علامہ اقبال نے تقریر کی جس میں انھوں نے کہا کہ گورنمنٹ نے انھیں خطاب دے کر اردو اورفارسی کے ادیبوں کی عزت افزائی کی ہے۔ دل چسپ امر ہے کہ تقریب کی شرکا ء میں اکثریت مقامی افراد کی تھی لیکن اس کے باوجود علامہ اقبال اور سر ذوالفقار علی خان نے اردو کی بجائے انگریزی میں تقریریں کی تھیں۔

اس تقریب کی ایک عجیب بات یہ تھی کہ صدر تقریب گورنر میکلیگن نے کوئی تقریر نہیں کی تھی تقریب کے اختتام پر ایک فوٹو لیا گیا جس میں سر محمد اقبال،سر ایڈورڈ میکلیگن، سرجان مینارڈ، سر ذوالفقار علی خان،راجہ نریندر ناتھ اور دیوان کشن شریک ہوئے تھے۔

علامہ اقبال کو سر کا خطاب ملنے پر ان کے ایک عقیدت مند مولانا ظفر علی خان نے لکھا:۔


سرفروشوں کے ہیں ہم سر، آپ ہیں سرکار کے
آپ کا منصب ہے سرکاری،ہمارا خانگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *