ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے نام خط

اٹھائیس جون 2020
آفس آف سپوکس پرسن
منسٹری آف فارن افئیرز
شاہراہُ دستور
جی فائیو ون، اسلام آباد 45710
اسلامی جمہوریہُ پاکستان

محترم بابر صاحب

جب سے میں ہیوسٹن سے قونصل جنرل کی ذمہ داریاں ادا کر کے واپس آئی ہوں اور ڈاکٹر فیصل سے چارج لیکر ترجمان دفتر خارجہ بنی ہوں تب سے میری شدید خواہش تھی کہ آپ سے ملاقات کر کے بی بی سی کی فرحت جاوید اور رائٹرز اور سی این این کے دیگر عالمی صحافیوں کی جانب سے پوچھے جانیوالے ان تندوتیز سوالات کی بابت دریافت کروں کہ کیا واقعی آپ نے ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق بیس ہزار پاکستانیوں کو بغیر کسی اختیار کے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیف ہاوُسز میں غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور ایف سی پاک ایران بارڈر پر تیل اور الیکٹرانکس کے علاوہ شراب کی سمگلنگ کا نیٹ ورک بھی چلا رہی ہے ۔

کیونکہ اگر ان باتوں میں رتی برابر بھی سچائی ہے تو آپ کا ادارہ عالمی سطح پر پرائم منسٹر خان کے بعد پاکستان کی مزید جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔پھر میں نے جب اپنا ہوم ورک کیا تو یہ تمام الزامات درست ثابت ہوئے۔حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر جیسے سانپوں کو پال کر آپ نے پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کروا دیا اور سننی ہمیں پڑتی ہیں۔

ابھی اس ملاقات کے خدوخال ذہن میں وضع کرنے میں مصروف ہی تھی کہ آپ کا تازہ بیان نظر سے گزرا کہ مودی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔میں تو چکرا کر رہ گئی کیونکہ یہ میری جاب ڈسکریپشن ہے اینڈ یو آر ناٹ سپوزڈ ٹو کراس یور ڈومین۔ہو دا ہیل آر یو ٹو کمنٹ آن فارن افئیرز۔میرے پیارے ایف اے پاس افسر صاحب یہ کام فوج کے ترجمان کا نہیں ہے کہ وہ عالمی امور پہ رائے زنی کا زنا کرے کیونکہ جس کا کام اسی کو ساجھے اور کرے تو ٹھینگا باجے۔میں نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز کر کے سی ایس ایس کرنے کے بعد سول سروسز اکیڈمی میں ٹریننگ لیکر سپیشلائزڈ کورسز بھی کیے اور پچیس سال سفارت کاری کی پرپیچ راہداریوں میں گزارے اور آپ ٹائروں میں سے گھس کر رسیاں اور درخت پھلانگ پھلانگ کے پاس آوُٹ ہوئے۔

قدیم کہاوت ہے کہ جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہوتا ہے اسے ہر مسئلہ کیل ہی نظر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ اور آپ کا احمق چیف باجوہ آئے دن بھارت کو للکار کر لاہور امرتسر ٹریڈ پوٹینشل کو زک پہنچاتے ہیں۔اپنے باس تک بھی میرا یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ وہ فارن آفس کی پرائیر پرمیشن کے بغیر افغانستان،سعودی عرب اور چین سمیت کسی بھی ملک کا دورہ نہیں کرینگے اور اگر مجھے پتہ چلا کہ آپ نے میری سٹینڈنگ انسٹرکشنز کو ڈیفائی کیا ہے تو میں آپ کو بھی آصف غفور کی طرح اوکاڑہ جیسی کوئی اوبسکیور پوسٹنگ پر تعینات کروا دونگی۔

غضب خدا کا پہلے ہم چوکیدار کو بتایا کرتے تھے کہ ہم نے کس سے ملنا ہے اور اب چوکیدار ہمیں بتائے گا کہ کس سے ملنا ہے اور کس سے نہیں؟ فرام ناوُ آن کرتارپور کوریڈور ہو یا سی پیک یا پاک امیریکا ریلیشنز آپ کے منہ سے فارن افئیرز پر اگر ایک بھی لفظ نکلا تو آپ کے خلاف سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آف فارن افئیرز میں میں خود کیس پلیڈ کرونگی۔انف از انف۔میں نے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک اونکلیو میں تعینات تمام سفیروں کے علاوہ امریکی خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کو بھی میسج کنوے کر دیا ہے کہ پاکستان میں سٹیٹ ود ان سٹیٹ ختم ہو چکی ہے اور آئندہ انھیں پاکستان آرمی سے کوئی بھی کام ہو تو ایسی تمام ریکوئیسٹس فارن آفس کو ڈائریکٹ کی جائیں۔

منسٹر قریشی نے پاکستان آرمی کا قطر میں ہونیوالے فیفا ورلڈ کپ کی سیکیورٹی کا ٹھیکہ بھی منسوخ کر دیا ہے کیونکہ آپ پبلک سرونٹ ہیں جن کہ سیلری پبلک منی سے جاتی ہے اور آپ اس طرح کے بزنس وینچرز قانونی طور پر نہیں کر سکتے۔میری آئی ایس آئی یا ایم آئی کے پاس کوئی ویڈیو بھی نہیں ہے نہ ہی میرا کبھی رات کی تاریکی میں ہار گما ہے اس لیے میں اس خط کو ڈان،دی نیوز،ڈیلی ٹائمز،نوائے وقت،دنیا،جنگ اور دیگر اخباروں کو بھی بھیج رہی ہوں تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔آپ جب بھی اسلام آباد آئیں ڈو لیٹ می نو مجھے آپ کو ڈیوڈوف کافی پلا کر خوشی ہو گی۔

آپ کے تعاون کی پیشگی شکرگزار
عائشہ فاروقی

3 Comments

  1. respected ,
    ap k comments apnni jaga , apka point of view apni jga but aramay k khilaaf is trh k comment krna mery khayal mn koi munasib kam nahein ha,

  2. I salute Ayesha Farooqi for her courage and an excellent example of patriotism that over 99% of all Pakistanis are lacking. I hope people of Pakistan wake up one day and send this Military Mafia packing. Our jawans are dedicated and upto brigadier levell things go well but they are directed, brain washed and bribed in a way that first priority is the governance of this Mafia and if this mafia has the control only then Pakistan will survive. It is without any doubt a Super Government within an inferior slave engineered government exists for over 70 year. People like Asma Jahangir (RIP), Ayesha Siddiqa and now as I see Ayesha Farooqi along with about 0.01% so called terrorists and ‘Wattan Dushmans’ are real PATRIOTS who can speak out without any fear of consequences. Please speak out before we see another ‘east pakistan’.

  3. Aamer Hayat says:

    It’s a joke…
    Civil and Military bureaucrats are currently working togethers as a team. Their is a hierarchy and official norms all officers have to follow. A responsible senior officer like Madam Ayesha can’t issue any such letter to newspapers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *