سید منور حسن،میاں طفیل، قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی

لیاقت علی

سید منور حسن ثابت قدمی سے جماعت کے ساتھ وابستہ رہے اوران کا شمارایسے سیاسی اورمذہبی افراد میں کیا جاسکتا ہے جو اپنے کٹر پنتھی عقائد میں اپنی فکری بقا اورمقبولیت تلاش کرتے ہیں اورایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جو عمومی طورپرسماج کوقابل قبول نہ ہوں۔منورحسن نے ایک سے زائد مرتبہ سیاسی و سماجی مسائل کے حوالے سے ایسے ہی نقطہ نظر کا اظہارکیاتھا۔

منورحسن ایمانداری سے اپنے خیالات کو بیان کرتے تھے اوراس میں کسی قسم کی فکری ملاوٹ کے قائل نہیں تھے۔وہ کوئی عہد ساز شخصیت کے حامل نہیں تھے۔ وہ روٹین کی بھرتی تھے جنھیں کسی میرٹ کی بجائے ان کی عمررسیدگی اور کراچی کی اردو سپیکنگ جماعت کی خوشنودی کے لئے اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔

جماعت اسلامی ابتدائی طورپر مولانا مودودی سے متاثر افراد کے حلقے نے قائم کی تھی۔مودودی قدرتی طورپراس حلقہ متاثرین کے امیر قرارپائے تھے۔قیام پاکستان سے قبل جماعت سیاسی سے زیادہ فکری تحریک کا نام تھا۔ مولانا مودودی فکری انقلاب برپا کرنے کے داعی تھے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد انھوں نے جماعت اسلامی کے لئے سیاسی میدان کا انتخاب کیاتھا۔

پاکستان کو جسے وہ مسلمانوں کی نیشن سٹیٹ قرار دیتے تھے،اسلامی ریاست میں بدلنے کے پروگرام کا اعلان کیا لیکن ابھی تک انھوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا کوئی منصوبہ نہیں دیا تھا کیونکہ وہ الیکشن کو باطل اورکفرقراردیتے تھے۔لیکن چند سالوں کے اندزاندر انھوں نے نہ صرف الیکشن کو جماعت اسلامی کا مطمع نظرقراردیا بلکہ جماعت پر اپنی تنظیمی گرفت کو مضبوط کرتے ہوئے اپنے پوٹیشنل نظریاتی مخالفین ( امین احسن اصلاحی و ڈاکٹر اسرار احمد وغیرہ ) کو جماعت سے نکال باہرکیا۔

مولانا مودودی کے زیر سایہ جماعت میں ان کے فکری متاثرین تو تھے لیکن کوئی ایسی شخصیت نہیں تھی جوان کے لئے کسی سطح پر چیلنج بن سکے جو تھے وہ بتدریج نظری اختلاف اورمولانا مودودی کی فکری اور تنظیمی آمریت کی بنا پر علیحدہ ہوگئے یا انھیں نکال دیا گیا تھا۔

سنہ1970 کے الیکشن میں جماعت کی عبرت ناک شکست کے بعد مولانا مودودی نے اپنے ایک پیروکارمیاں طفیل محمد کوجماعت کی عنان اقتدار سونپ دی تھی۔ میاں صاحب مولا نا مودودی کے کولیگ سے زیادہ ان کے شاگرد تھے۔ وہ سیدھے سادے دیہاتی پس منظر کی حامل شخصت تھے جن کا کل فکری اثاثہ مولانا موددودی کی تحریروں کا مطالعہ تھا۔

میاں طفیل محمد کے عہد امارت میں جماعت اور فوجی اشرافیہ کے مابین اپنے اپنے مفادات کے پیش نظراتحاد واشترا ک کا عمل شروع ہوا جو روز بروزمضبوط اور مستحکم ہوتا چلا گیا اورجماعت اسلامی ریاست پاکستان کی نظریاتی ترجمان بن گئی۔ یہی وہ دور تھا جب جماعت اسلامی کے اثاثوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔افغان جہاد کے دوران جماعت جب آئی۔ایس۔آئی اورسی۔آئی۔اے کی پارٹنر بنی تو جماعت کی اہمیت پاکستانی سیاست اورسماج میں دوچند ہوگئی۔ جماعت سیاسی طور پر تو نمایاں ضرور ہوگئی لیکن اس کا فکری بانجھ پن روز بروز واضح اور نمایاں ہوتا چلا گیا۔

اب جماعت کسی فکری انقلاب کی داعی کی بجائے فوجی اشرافیہ کا ہتھیار بن گئی جس سے وہ پاکستان میں اختلافی آوازوں کو دبانے کا کام لینے لگی۔ جماعت اسلامی افغان اور کشمیر جہا د کے نام پر فوجی کمپنی کا ہتھ ٹھوکا بن کررہ گئی۔جماعت اسلامی میں امیر کارکنوں کی مرضی سے نہیں انٹیلی جنس اداروں کی مرضی اور خواہش سے مقرر ہونے لگے تھے۔ قاضی حسین احمد، منور حسن اور سراج الحق جماعت پر قابض کارٹل اور فوجی کمپنی کے باہمی تال میل کا نتیجہ تھے۔

مولانا مودودی کے بعد جماعت اسلامی کے امرا میں سے قاضی حسین احمد کو سیاسی طور پر متحرک شخصیت کہا جاسکتا ہے اوران کے تحرک کی وجہ بھی افغانستان میں جاری امریکہ سپانسرڈ جہاد تھا جس کے لئے جماعت اسلامی آئی،آیس۔آئی۔آئی اور سی۔آئی۔آے کے ساتھ ایک ہی پیچ پرتھی۔افغان جہاد کا تھیٹرکیونکہ پشتون علاقہ تھا اس لئے جماعت کے لئے ایک پختون امیر تلاش کیا گیا اور تلاش کا سہرا گورنر سرحد جنرل فضل حق کے سر تھا۔

یہ جنرل فضل حق ہی تھے جنھوں نے قاضی کو سینٹر منتخب کرایا تھا۔جہادی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئےقاضی حسین احمد کی میڈیامیں شخصیت سازی کی گئی تھی اور جب افغان جہاد کا ڈرامہ ختم ہوا اور سٹیج پر پردہ گرگیا تو قاضی حسین احمد اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ مقام حاصل کرنے میں ناکام رہے جو انھیں کمپنی نے اپنی ضرورتوں کے تحت دلایا تھا۔۔

جماعت اسلامی اب اپنی طبعی سیاسی زندگی پوری کرچکی ہے۔ یہ نظریاتی بانجھ پن اورسیاسی افلاس کا شکار ہے اور جہاں تک عوامی حمایت کا تعلق ہے وہ اسے کبھی بھی حاصل نہیں رہی یہ جب بھی کسی کولیشن کا حصہ بنی ایسا کمپنی کی سفارش،ایما اورتعاون سے ہی ممکن ہوا تھا۔مستقبل میں جماعت اسلامی اگر زندہ رہی تو وہ اپنی سیاست کی بجائے اپنے اثاثوں کے سہارے زندہ رہے گی۔

جماعت پر قابض کارٹل کے معاشی مفادات کا تقاضا ہے کہ جماعت اسلامی سیاسی میدان میں خواہ محدود ہی سہی متحرک رہے تاکہ جماعت کےاثاثوں پر ان کے قبضے کا جواز موجود رہےاور اس کے لیے جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کی ضرورت رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *