یہ دنیا کیسےچلتی ہے؟

بیرسٹرحمید باشانی

خوش امیدی لازم ہے۔زندگی کےدردناک مسائل کا مقابلہ رجائیت پسندی کے بغیرممکن نہیں۔  مگرحقائق مقدس ہوتے ہیں، اورزمینی حقائق سے چشم پوشی کرکہ خوش امیدی خودکشی ہے۔

کورونا کے خلاف لڑائی کےآغازمیں یہ تاثرکافی پختہ ہوگیا تھا کہ اس خوفناک تباہی سے دنیا بڑےاہم سبق سیکھے گی۔  انسان کااندازفکربدل جائے گا۔  سوچ کی تبدیلی کے نتیجے میں مستقبل میں جوبجٹ بنیں گے،  وہ بہت مختلف ہوں گے۔  دنیا کے مختلف ممالک کی پارلیمان میں جونئے بجٹ پیش کیے جائیں گے ان میں نظام صحت پہلی ترجیح ہوگی۔  صحت کی مد میں خطیررقوم رکھی جائیں گی۔  نظام صحت کوجدید خطوط پراستوارکیا جائےگا۔  میڈیکل سکولوں اورہسپتالوں کی حالت زاربدل جائے گی۔  نئے ہسپتال تعمیرہوں گے۔  ڈاکٹروں اورنرسوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔  جدید میڈیکل آلات اورحفاظتی سازو سامان خریدا جائے گا۔  ہنگامی بنیادوں پراس بات کی تیاری کی جائے گی کہ اگرکورونا دوبارہ حملہ آورہو، یا کوئی نیا وائرس آئے تو ہم پہلے کی طرح بے دست وپا نہ ہو جائیں، اورمجبورمحض بن کرنہ بیٹھ جائیں۔

 کورونا کے ابتدائی دنوں میں یہ تاثربھی ابھرا تھا کہ انسان ما بعد الکرونا دوسروں کے بارے میں پہلے کی نسبت زیادہ ہمدردی سے سوچے گا۔  دنیا میں غربت اورعدم مساوات جیسے مسائل کوبھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ مگراس باب میں بھی انسانی طرزعمل میں چنداں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی کورونا کے تجربے نے یہ امر بھی واضح کر دیا تھا کہ دنیا ایک گلوبل ولیج ہے۔  دنیا کی بقا اوربھلائی الگ تھلگ رہنے میں نہیں،  بلکہ مل جل کررہنے میں ہے۔ کوئی ملک و قوم اپنے آپ کو اپنی سرحدوں کے اندرمحدود کرکہ محفوظ نہیں ہو سکتی۔

  اس سے یہ تاثرابھرا تھا کہ دنیا میں تنگ نظرقوم پرستی کے رحجانات کم ہوں گے۔  لیکن آثاراس کے برعکس نظر آتے ہیں۔  تنگ نظرقوم پرستی اب بھی پاپولسٹ لیڈروں کے لیے ایک نفع بخش کاروبارہے، جوپہلے کی طرح جاری ہے۔  سب معاملات زندگی حسب سابق ہیں۔  نہ طرزفکربدلا، نہ ہی طرزعمل میں کوئی تبدیلی آئی۔  سیاست پرانی ڈگرپررواں ہے۔  وہی نعرے ہیں، وہی دعوے ہیں۔ اوروہی پرانے بجٹ ہیں۔  بجٹ پروہی گھسی پٹی تقاریرہیں۔  تقاریرمیں وہی پرانےاورفرسودہ دلائل ہیں۔

یہ صورت حال دیکھ کرکچھ لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ عالمی اشرافیہ نے برسوں سےدنیا کوجس ڈگرپرچلانے کا فیصلہ کیا ہوا ہے،اس میں تبدیلی اتنی آسان نہیں۔  یہ تبدیلی ممکن ضرورہے، مگراس کے لیے ایک طویل ،منظم اور شعوری جہدوجہد کی ضرورت ہے۔

عالمی اشرافیہ اس دنیا کو کیسے چلاتی ہے؟ یہ اب کوئی پہیلی نہیں ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ بہت ادب تخلیق ہوچکا ہے۔ اس موضوع پرسینکڑوں کتب چھپ چکی ہیں۔  کچھ عرصہ پہلے ایک کتاب ونرزٹیک آلیعنی جیتنے والا سب کچھ لے جاتا ہے، میری نظرسے گزری تھی۔

  اس کتاب میں آنند گری دھارن نے یہ پہیلی بوجھنے کی کوشش کی ہے کہ اشرافیہ دنیا کو کیسے چلاتی ہے، اور ہمارے عہد کے طبقاتی تضادات کوآسان اندازمیں پیش کیا ہے۔  اس نے ان عناصراورطبقات کی بطورخاص نشاندھی کی ہے، جوبظاہرتبدیلی کے خواں ہیں۔ غریب طبقات کے ہمدرد ہیں، مگردرحقیقت وہ عالمی اشرافیہ کے راج اور طاقت کو قائم رکھنے میں ان کے اصل مدد گار ہیں۔

 مصنف پبلک اٹلیکچوئیلز کی مثال دیتا ہے۔ اس کے خیال میں یہ لوگ اخبارات اورکتابوں کے زریعے ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں۔  لیکن وہ بات اس طرح پیش کرتے ہیں کہ اس میں تنقید کی گنجائش نہیں ہوتی۔  وہ اشرافیہ کو چیلنج نہیں کرتے۔  وہ اس بیمارنظام کے خلاف بات نہیں کرتے۔ بلکہ وہ اس پر نرم سی گفتگوکرتے ہیں۔  وہ مسائل کو واٹرڈاون”  کرتے ہیں۔  اس لیے یہ لوگ کسی مسئلے کا حل نہیں، مسئلے کا حصہ ہیں۔

 عالمی اشرافیہ کے معاونین میں کچھ ارب پتی اورکھرب پتی بھی شامل ہیں، جو گاہے انسانی ہمدردی کے جذبات کااظہار کرتے رہتے ہیں۔ اوراپنی دولت سے تھوڑی بہت خیرات کرتے رہتے ہیں۔  گزشتہ کچھ عرصے سے ہماری دنیا کے دولت مند ترین لوگوں کیچیریٹی”  یعنی خیرات کے بڑے چرچے ہیں۔  یہ کوئی نیا رحجان نہیں ہے۔  ہردورمیں کچھ صاحب ثروت لوگ اپنے اپنے طریقوں سےکم خوش قسمت لوگوں کی مدد کرتے رہے۔   

مگرچونکہ ہمارادورابلاغ کا دورہے۔  اس دورمیں بات دورتک اورتیزی سے پھیلتی ہے۔  اگرامریکہ میں ایک ارب پتی کوئی موٹی رقم خیرات میں دیتا ہے تویہ بات اسی وقت پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔  ان خبروں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ دولت مند لوگ درد دل بھی رکھتے ہیں، اوراپنی دولت کا کچھ حصہ عام لوگوں پر خرچ کر سکتے ہیں، اورعام لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔    مگرمصنف نے اس خیال کی تردید کی کہ امیراشرافیہ اس دنیا کےمسئلے حل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔  اس کے برعکس اس کے نزدیک یہ لوگ غربت کے مسئلے کا حل نہیں، بلکہ خود ایک مسئلہ ہیں۔

  طاقت وراشرافیہ نے دنیا میں جومضبوط گرفت قائم کی ہوئی ہے وہ پلوٹوکریسی ہے، جس کے لیے سنسکرت زبان کا لفظدھن راجبہت مناسب ہے۔  دنیا میں جوکچھ بھی ہو رہا ہو۔  کوئی معاشی یا سیاسی بحران ہو۔  کوئی وبا یا بیماری چل رہی ہو۔  کوئی قدرتی آفت گزررہی ہو۔ اس سے ان لوگوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ الٹا وہ اس سے کوئی نہ کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں۔مصنف نے بے شمارمثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح دنیا میں کل آبادی کے ایک فیصد پرمشتمل اشرافیہ دنیا میں ایک ایسا نظام ترتیب دے چکی ہے، جوہرحالت میں صرف اس ایک فیصد کے فائدے کے لیےہی کام کرتا ہے۔

مصنف نے ڈیوس کا ایک واقعہ بیان کیا۔  ڈیوس میں دنیا کےامیرترین اور طاقتورترین لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ان میں حکمرانوں کےعلاوہ ارب پتی اورکھرب پتی ہوتے ہیں، جوذاتی طیاروں میں بیٹھ کرڈیوس آتے ہیں۔  یہاں پر دنیا کےغریبوں کے بارے میں سوچا جاتا ہے، ان کے مقدرکے بارے میں بڑے بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ غربت، عدم مساوات اورماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں مباحثے ہوتے ہیں، اورمنصوبے بنائے جاتے ہیں۔

ڈیوس میں ڈیجیٹل دنیا کے موضوع پرہونے والی اسی طرح کی ایک کانفرنس میں کمپیوٹرآئی کون مائیکل ڈل بھی شامل تھا۔  بات ٹیکسوں کی چلی توایک ماہرمعاشیات نےخیال ظاہرکیا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت اورطبقاتی ناہمواریوں کے خاتمے کا ایک موثرحل یہ ہوسکتا ہے کہ دس ملین ڈالرسے زائد آمدنی پرسترفیصد ٹیکس لگایا جائے۔ اس پر ڈل کی رائے پوچھی گئی۔  ڈل کا جواب یہ تھا کہ وہ ٹیکس کے بجائے خیرات پریقین رکھتا ہے۔  وہ اوراس کی بیوی باقاعدگی سےخیرات کرتے ہیں۔اپنی دولت حکومت کودینے کے بجائے اس کی مناسب تقسیم کے لیے ہمیں اپنی صلاحیتوں پرحکومت سےزیادہ اعتماد ہے۔

ڈل جواس وقت دنیا کے چالیس امیرترین لوگوں میں شامل تھا دوسرے الفاظ میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ ایک منتخب جمہوری حکومت سے زیادہ جانتا ہے کہ غریبوں کی کیا کیا ضروریات ہیں، اورانہیں کیسے پوراکیا جا سکتا ہے۔  اس کے خیال میں حکومت کوسترفیصد ٹیکس دینےسے امریکی معیشت کی ترقی میں مدد نہیں مل سکتی۔  اس نے چیلنج کیا کہ آپ کسی ایک ملک کا نام بتا دیں،  جہاں پریہ پالیسی کامیاب رہی ہو۔

کانفرنس میں موجود کئی لوگ جانتے تھے کہ بھاری ٹیکسوں کی پالیسی کئی ممالک میں کامیاب رہی ہے۔  سویڈن ، ناروے، اورفن لینڈ جیسے ملکوں میں بھاری ٹیکس کے ذریعے سماج میں موجود نا ہمواریوں کوکافی حد تک کم کیا گیا۔  سوشلسٹ ممالک کی مثال ایسے فورم پرپسند نہیں کی جاتی؛ چنانچہ ڈل کوخود امریکہ کی مثال دی گئی، جہاں1930 سے لیکر1960 کے دوران ٹیکس ریٹ بہت زیادہ تھا، اوران ہی تیس برسوں میں امریکہ کی تاریخ میں تیزترین ترقی ہوئی۔ اس عرصے میں امریکی سماج میں غربت، عدم مساوات، اورطبقاتی تضادات میں بھی نسبتا کمی آئی تھی۔

سنہ1970کے بعد اس باب میں قدامت پرست پالیسیوں کے بعد عدم مساوات میں بے تحاشا اضافہ اورترقی کی رفتارمیں نمایاں کمی ہوئی ہے۔  ریگن ازم  اورٹیکس میں بے تحاشا کمی کی پالیسیوں کے نتیجے صرف اشرافیہ خوشحال ہوئی ہے، جبکہ ننانوے فیصد غریبوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔  پیدوار، ایجادات اورترقی ضرورہوئی،  لیکن اس سے صرف گنےچنےلوگوں کو فائدہ ہوا۔

عالمی اشرافیہ کے مفادات اوراس کے معاونین کو بے نقاب کرتے ہوئے یہ کتاب بنیادی طورپرسٹیٹس کوپرسوالات اٹھاتی ہے، اوران سوالات میں بصیرت، حقائق اوراعدادوشمارہیں۔  یہ کتاب قاری کو بھی خود سے کئی سوال پوچھنے پراکساتی ہے۔ انسان کو خیرات ، عالمی کانفرنسوں، تھینک ٹینکس کے بارے میں سوچنے پرمجبور کرتی ہے۔  اوریہ سوچنے پرمجبورکرتی ہے کہ یہ سب کیا مئسلے کا حل ہیں، یا خودمسئلہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *