لیاری کے ڈان : شیرک دادل سے عزیر بلوچ تک۔قسط دوم

حسن مجتبیٰ

لیاری اور کراچی کے اس سے ملحقہ علاقوں میں دادل اور شیرک کی یہ دہشت اور ان کے سرپرستوں ہارونوں کا ٹیکہ ذوالفقار علی بھٹو نے آکر توڑا جب اسے رحیم بخش آزاد جیسے لوگ لیاری میں لائے۔ کبھی ہارونوں کی طرح فاطمہ جناح کی مخالفت کرنے والا بھٹو اب ایوب خان کی وزارت سے الگ ہو چکا تھا اور اس نے اپنی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی بنائی تو اس نے لیاری سے رجوع کیا۔

لیاری میں پی پی پی کا پہلا دفتر بھی رحیم بخش آزاد بلوچ نے کھولا اور بھٹو کا پہلا جلسہ عام بھی ہوا۔ لیاری میں اسی جلسے میں بھٹو نے ہارونوں کے خوب لتے لیتے کے ہوئے کہا تھا “ میں شیرک دادل سے بھی بڑا بدمعاش ہوں” لیاری والوں سے لیاری والوں کی اپنی لیکن ٹوٹی پھوٹی زبان میں بات کرنے والے بھٹو نے لیاری والوں کا دل جیت لیا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب تب بھی نام نہاد قومی پریس کا رویہ لیاری والوں کیساتھ وہی تھا جو آج ہے۔ حاجی چارو اور یعقوب گنگ کی ان انسانی اسمگلنگ اور کچی شراب کی اسٹوریاں بڑے طمطراق سے شائع ہوا کرتی تھیں جیسےکہ گویا پوار لیاری گھر گھر کچی شراب کی بھٹی اور انسانی اسمگلر چھپے ہوں۔ بعد میں بھٹو کی نئی پارٹی میں عبداللہ بلوچ (جسکا تعلق پرانے گولیمار سے تھا) اور لیاری سے عبدالستار گبول پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔

یہی لیاری تھی جہاں کے ککری میدان میں اپنے ایک جلسے سے خطاب میں بھٹو نے کہا تھا کہ اگر اسکی پارٹی انتخابات جیت کر اقتدار میں آئی تو اسکے وزیر لیاری کی گلیوں میں جھاڑو دیں گے۔” بھٹو نے لیاری سے ہارونوں اور انکے داداگیر ڈانز شیرک دادل کا بستر گول کردیا تھا۔ اب سلیمان بروہی جیسے لوگوں کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ سلیمان بروہی اصل میں بھٹو کے سوہنے منڈے اورر اہم پارٹی لیڈر عبدالحفیظ پیرزادہ اور جام صادق علی کے قریب تھا۔

یہ بھی کہاجا تا ہے یہ بھی سلیمان بروہی تھا جس نے بھٹو کے ساتھی اور اسکی پارٹی کے فاؤنڈیشن پیپر یا بنیادی دستاویز لکھنے والے جے اے رحیم کے بھٹو کے ساتھ اختلافات ہونے کی پاداش میں پولیس لاک اپ میں اسکے بیٹوں کے ساتھ ریپ کیا تھا۔ بہرحال اپنے اقتدار میں آنے پر بھٹو نے لیاری کے لوگوں کے شب و روز یوں بدل دیے تھے کہ اس نے پاسپورٹ کے حصول میں بہت آسانی کی پالیسی بنائی اور ان دنوں گلف میں تیل او ر تعمیرات میں لیاری سمیت ساحلی بلوچستان کے بلوچ جن میں کئی ایک کے پہلے سے رشتے خلیجی ممالک سے تھے ایک بڑی تعداد میں ان ممالک اور ریاستوں میں روزگار کرنے گئے۔بلوچوں کے گلف ممالک میں ہونے کا عکس لیاری اور ساحلی بلوچستان کے علاقوں میں ضرور نظر آیا۔

ویسے میرا خیال ہے بڑے بھٹو کے زمانے میں ترقی اگر کہیں ہوئی نہ ہوئی ہو مگر کچھ نہ کچھ لیاری اور لاڑکانہ میں ضرور نظر آئی۔ پیپلزپارٹی کا گڑھ ہونے کیساتھ ساتھ لیاری پیپلزپارٹی کی پیدائش سے بھی بہت پہلے بائیں بازو اور بلوچ قوم پرستوں کا مرکز ضرور تھا۔ بھٹو کی طرف سے بلوچوں پر فوج کشی کی مزاحمت اگر بلوچستان میں جھالاوان خاران او سارا وان یا مری مینگل علاقوں میں تھی لیکن ا ن کا دو سرا گھر لیاری کی کچھ گلیاں ضرور تھیں۔

شاید یہیں بلوچ مزاحمت کا ایک غیر بلوچ کمانڈر اسد رحمان یا راشد رحمان میں سے ایک بھائی گرفتار ہوا تھا۔ نیپ ولی بزنجو کے بھی لوگ تھے اور مزدور تحریک کے بھی۔ خیر یہ کسی اور بادشاہی کا قصہ ہے پھر کبھی سہی۔ قصہ مختصر کہ بھٹو کا تختہ ضیالحق نے الٹا گویا لیاری والوں کے لیے برازیل فٹبال میچ کا عالمی کپ ہار گیا۔ میرے دوست اور سندھی کے زبردست شاعر حسن درس نے لیاری والوں کے تب پی پی پی سے رشتے کو یوں بیان کیا تھا:۔

جب پی پی پی اقتدار میں ہوتی ہے تو لیاری کے جیالے گورنر ہاؤس یا چیف منسٹر ہاؤس میں میزیں الٹاتے ہیں ۔ جب پی پی پی اقتدار میں نہیں ہوتی تو لیاری کے جیالوں کی مائیں سٹی کورٹس کے لاک اپ کے باہر پولیس والوں کو گالیاں دے رہی ہوتی ہیں۔” ایسی ہی لیاری کی ایک اماں کو جب کسی نے سندھ ہائیکورٹ میں بھٹو کی پھانسی کے کچھ ماہ بعد عبدالحفیظ پیرزادہ وغیرہ کی پیشی کے دن یحییٰ بختیار دکھایا اور بتایا کہ یہ بھٹو کا وکیل تھا تو یہ خاتون سیدھی یحییٰ بختیار کے پاس گئی اور اس سے کہا “ اڑے تم بھٹو صاحب کا وکیل تھا؟” جب اس نے کہاں “جی ہاں” تو لیاری کی اس اماں نے یحییٰ بختیار کو مخاطب کرتے کہا “تو چوتیا ہے تو چوتیا!”۔

یہ لیاری کی عورتیں تھیں جو بھٹو خواتین کے ساتھ اپنے بچوں سمیت ہر مصائب میں شریک تھیں۔ اور لیاری سے پی ایس ایف یا بعد میں مرتضی بھٹو کے الذولفقار میں بھی بہت سے لڑکے جاکر شامل ہوئے۔ لیاری کے لڑکے ہی بینظیر کے ستر کلفٹن اور پھر بلاول ہاؤس کے گیٹ کیپر اور گارڈز بھی تھے۔

تو ان میں سنگھو لین کی کسی گلی میں پی ایس ایف والوں کے پیچھے کوئی گمنام سا لڑکا رحمان بلوچ بھی تھا جو دادل کا بیٹا تھا۔ یہ 1980 کی دہائی کا زمانہ تھا۔ ستار گبول کے پنٹروں کی جگہ نبیل گبول کے پنٹروں کا راج ہورہا تھا، اور بھی کئی پاکستانی اور ایرانی بلوچستان کے نئے پنٹر بھی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب لیاری کی دیواروں پر لکھا یہ نعرہ بھی پرانا ہوچکا تھا “بلوچی فلم چلے گا سینما جلے گا”۔ اسی لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بینظیر بھٹو کی آصف زرداری کیساتھ شادی کا ولیمہ بھی۔

لیکن لیاری میں اصل سین پارٹ کی فلم تب چلنے لگتی ہے جب دادل کو سلیمان بروہی کا بیٹا غفور بروہی قتل کرتا ہے۔ اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کو رحمان اٹھ کر آ تا ہے۔ یہ لوگ گینگ بنا لیتے ہیں۔ سلیمان بروہی، رحمان بروہی اور غفور بروہی والے لیاری سے اپنے گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ سلیمان بروہی کا بنگلہ جو کہ افشانی گلی یا سنگھو لین کے بالکل عقب میں تھا اس پر رحمان اور اسکی گینگ کے لوگ سیاہ پینٹ پھیر دیتے ہیں۔

جام صادق علی کے دنوں میں سلیمان بروہی بھی قتل ہو جاتا ہے۔ کئی چھو ٹے بڑے گینگ رحمان بلوچ کے گینگ میں آکر شامل ہو گئے۔ میرے لیاری کے ایک دیرینہ دوست کے الفاظ میں “رحمان کا گینگ کسی وقت ایک فوج کے برابر تھا”۔ بابا لاڈلا(جسے لیاری کے لوگ بنگالی کہتے کہ وہ بنگالی نثراد تھا)۔ ارشد پپو، غفار ذکری جیسے سفاک بدمعاشوں کے برعکس رحمان بلوچ کے لیاری کے لوگوں اور خاص طور نوجوانوں میں رحمان بلوچ کی جی داری کے قصے مشہور ہونے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ جب عثمان گبول پارک کے پاس داد محمد شادی ہال پر رینجرز نے قبضہ کیا (جیسے اس نے باقی کراچی ساؤتھ میں تاریخی یادگار کالجوں اور ہاسٹلز پر قبضے کر رکھے ہیں) تو رحمان بلوچ اور اسکی بٹالین سے بھی بڑی گینگ نے رینجرز سے مقابلہ کرکے داد محمد شادی ہال کا قبضہ چھڑایا تھا ور رینجرز کو پسپا ہونا پڑا تھا۔

لیکن یہ یوسف بلوچ تھا (جسے زرداری نے اب سینیٹر منتخب کروایا ہے جو لیاری والوں کے بقول ککھ پتی سے ارب پتی بنا ہوا ہے اور اب شاید جیل میں ہے) جس نے رحمان بلوچ اور اسکی گینگ کو پی پی پی کی قیادت سے متعارف کروایا اور پھر رحمان بلوچ سمیت کئی لیاری میں ا س کے گینگ کے لڑکوں کو بینظیر سے متعارف کروانے اسکی حفاظت کیلے گارڈزز کی سیلیکشن کو لندن بلایا گیا ۔ان میں ایک لڑکا بابلا یا بابیلا بھی شامل تھا۔

افشانی گلے کا یہ لڑکا با بلا جب لندن سے لیاری واپس آیا تو محلے کے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ لندن اور کراچی میں کیا فرق ہے تو اس نے کہا “کوئی فرق نہیں بس لندن کے مقابلے میں کراچی کی بلڈنگیں میلی کچیلی ہیں” ۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *