کيوبا ميں اميروں کی شاپنگ امریکی ڈالر میں، غريبوں کی پيسو میں

کیوبا میں چند مخصوص اسٹورز پر اب خريد و فروخت مقامی کرنسی پیسو کے بجائے ڈالر میں کی جاتی ہے۔ تاريخی لحاظ سے کيوبا اور امريکا کے تعلقات زيادہ دوستانہ نہيں رہے، يہی وجہ ہے کہ ملک ميں ڈالر کا استعمال ايک عجيب سی حقيقت ہے۔

ایسا خیال کیا گیا ہے کہ کیوبا کی عوام اس وقت ایک نئی اقتصادی صورت حال کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ صورت حال امریکی کرنسی ڈالر کا ملکی اسٹورز پر استعمال ہے۔ مقامی لوگوں کو آزاد اخبارات کی ان رپورٹوں پر یقین نہیں آیا، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت ایسے نئے اسٹورز کھولنے کی اجازت دینے والی ہے جہاں مقامی کرنسی پیسو کی جگہ خریداری کسی دوسری کرنسی میں کرنا ممکن ہو گا۔

عام لوگوں نے ایسی رپورٹوں کو افواہ سمجھا مگر یہ اس وقت حقیقت کا روپ دھار گئیں، جب ملکی صدر میگوئل ڈیاز کینل نے ان کی تصدیق کر دی۔ یہ کرنسی بظاہر امریکی ڈالر ہی خیال کی گئی ہے۔ کیوبن صدر کے اس اقدام سے اس جزیرہ نما ریاست کی عوام میں اقتصادی تقسیم واضح طور پر نمایاں ہو گئی ہے۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہیں تنخواہ مقامی کرنسی پیسو میں ملتی ہے اور دوسری جانب وہ لوگ جن کے رشتہ دار بیرون ممالک میں ہیں اور وہ انہیں رقوم منتقل کرتے ہیں۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ کیوبا کی برسوں سے جاری پراپیگنڈا جنگ کا مرکز وہ ملک ہے، جس کے بینک نوٹ اب ملک کی کمزور معیشت کا سہارا اور لوگوں کی طرزِ زندگی کا تعین کرنے لگے ہیں۔ اس اقدام نے ظاہر کر دیا کہ کیوبن حکمران پارٹی کا سربراہ حقیقت ميں شکست کھا گیا ہے۔ سبز رنگت والے امریکی ڈالر کے سامنے ملکی کرنسی بھی بے وقعت ہو چکی ہے۔

کیوبا میں نئی نسل کو یقین ہوتا جا رہا ہے کہ اس کا مستقبل اُن ممالک میں ملازمت کرنے میں ہے، جن کو حکومت مسلسل تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔ اس ساری صورت حال نے عوام کے ذہنوں میں عدم اعتماد پیدا کر دیا ہے۔ کیوبن عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ جلد یا بدیر ڈالر ملکی کرنسی کی جگہ لے لے گا۔ امریکی ڈالر ہی کیوبن بلیک مارکیٹ کی کرنسی ہے۔

ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا عام لوگ اُن نئے باسٹھ اسٹورز پر خریداری کر سکیں گے، جہاں صرف ڈالر کا استعمال ہو گا۔ اس مقصد کے لیے بینکوں نے کریڈٹ کارڈز بھی جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ایسا امکان ظاہر کیا گیا ہے یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی رواں برس کے اختتام پر محض پندرہ ہزار افراد اس قابل ہوں گے کہ وہ ڈالر استعمال کر کے خریداری کر سکیں گے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیس لاکھ کیوبن دوسرے ممالک میں مقیم ہیں اور تواتر سے اپنے رشتہ داروں کو رقوم کی منتقلی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سن 2018 میں ان کیوبن تارکین وطن نے 6.6 بلین ڈالر (ستاون بلین یورو) اپنے ملک بھیجے تھے۔ دوسری جانب ڈالر ذاتی طور پر کیوبا لائے جائیں یا ٹرانسفر کیے جائیں، ہر دو صورتوں میں اس پر حکومت کا کنٹرول ہے۔

dw.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *