سائنس پڑھنا اور سائنسی سوچ اختیار کرنے میں کیا فرق ہے

شرافت رانا

جب وبا آتی ہے تو دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں۔ احتیاط کا کہنے والے ۔ اور وبا کا انکار کرنے والے ۔ عمران خان کو تو وبا کے خوفناک نتائج کا انکار اس لیے کرنا پڑا کہ سندھ حکومت نے وبا کو خوفناک بیماری دکھانے کا کام اس کے اشارہ سے قبل شروع کردیا ۔ لہذا اسے اپوزیشن کرنا تھی اور یہی کام اس نے ساری عمر سیکھا ہے۔عمران خان کسی کی مخالفت کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا ۔ مثبت عمل کرکے آگے بڑھنا اس کی استطاعت اور تربیت میں شامل ہی نہیں ہے۔

مگر بہت سے طبی ماہرین نے بھی ایسا ہی رویہ اپنایا۔ اس کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں طبی تعلیم یا کسی بھی تعلیم کا نصاب اپڈیٹڈ نہیں ہے ۔ بارہا سینئر ترین ڈاکٹر صاحبان سے سوال کرنے کا موقع ملا کہ انہوں نے آخری بار اپنی زندگی میں میڈیکل کالج سے ڈگری کے حصول کے بعد کوئی بھی ریسرچ پیپر کب پڑھا تھا ۔ 99.9 فیصد کا جواب شرمندگی کے ساتھ انکار میں تھا ۔ جب آپ ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ نہیں چل رہے ہوتے تو آپ کو دنیا میں موجود مسائل کی بابت بھی درست معلومات نہیں ہوتی ہیں ۔ موجودہ وبا کرونا نہیں تھی بلکہ کووڈ 19 تھی ۔

ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا، نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر تھے اور وہ اسے کرونا سمجھے ہوئے تھے۔حالانکہ یہ کووڈ 19 ہے۔ آخر تک انہیں سمجھ نہیں آئی کہ یہ ایک نئی وبا ہے اور پہلی بار دنیا اسے بھگتنے کا تجربہ کر رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بہت سینئر تھے بہت اعلی پوزیشن پر فائز تھے ۔ مگر عوامی سطح پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا شکار ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحب آج ہم میں نہیں ہیں۔ کرونہ انہیں اپنے ساتھ لے گیا ۔ بدقسمتی نے انہیں اس ایک یا دو فیصد میں گن لیا جن کی اموات عام انتہائی عام نزلہ زکام سے ہو جاتی ہیں ۔اب ان کے اہل خانہ کیلئے کرونہ سے ظالم کوئی مرض اس دنیا میں نہیں ہے ۔

ہم نے لوگوں کو وبا سے خوفزدہ کرنے کے عمل میں حصہ لیا۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ ریاست کے لیے محض ایک ہندسہ ہیں۔ ایک فگر ہیں ۔ گنتی کا عدد ہیں ۔ مگر اپنے اہل و عیال کے لئے ، اپنے اعزا و اقارب کے لئے ۔ اپنے دوستوں کے لیے آپ ایک جیتی جاگتی ہستی ہیں ۔ بہت سے لوگوں کے دن اور رات آپ کی وجہ سے خوشیوں سے بھر جاتے ہیں ۔ آپ کے عدم وجود کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں تاریک سائے آ جائیں گے۔

ہمیں کسی سیاسی جماعت کو یا کسی فرد کو اس کے وجود سے بڑا کر کے دکھانے کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے ۔ ہم آئیڈیلزم کا شکار نہیں ہیں ۔ ہم فطرت سے لڑائی میں میں آپ کو ایکسپوز کرنے کے خلاف ہیں ۔ کووڈ 19 ایک وبا ہے ، جس کی بابت کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ کس کو اپنا شکار بنائے۔یہ ڈاکٹر صاحب بہت قیمتی انسان تھے اب ہم میں نہیں ہیں۔

میں چاہوں گا کہ کسی کا یار کبھی نہ بچھڑے ۔ اور کم از کم کسی بھی انسان کی کی زندگی کے سفر سے رخصتی ایسے طریقے سے نہ ہو ۔ آپ اپنا خیال رکھیں ۔ اپنے قریب ترین دوستوں کو کرونا سے بچاؤ کی کی ترکیب بتائیں اور ان پر عمل کرنے کے لیے اصرار کریں ۔ ہجوم میں جانے سے پرہیز کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *