آیا صوفیا   کا قضیہ

منیر سامی

گزشتہ کئی دنوں سے آپ ترکی میں ایک عجائب گھر کو مسجد میں تبدیل کرنے کی خبریں سُن رہیں گے۔ اور اس پر پاکستانی مسلمانوں کی طرح طرح کی تاویلات بھی۔ بہتر ہیں کہ پہلے ہم اس کی تاریخ کے بارے میں وہ تفاصیل جان لیں جو اسے اہم بناتی ہیں۔

تاریخی حقائق کے مطابق کچھ اعادہ کرلیتے ہیں۔ یونانی عیسائیت سے وابستہ گرجا کی یہ عمارت مشرقی سلطنتِ روم کے شہر بازنطین میں شہنشاہ قسطنطین  اول کی خواہش پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہاں یہ بھی جان رکھنا ضروری ہے کہ شہر بازنطین کا نام تبدیل کرکے شہنشاہ کے نام پر قسطنطنیہ رکھ دیا گیا تھا، جو اب استنبول کہلاتا ہے۔ اس گرجا کی تعمیر ِ اول سنہ 325 میں شروع ہوئی تھی۔اسی کی بنیاد ایک قدیم مندر یا عبادت گاہ کی بنیاد پر ڈالی گئی تھی۔  یہ عمارت سنہ360 میں قسطنطین کے بیٹے قسطنطین دوئم کے زمانے میں مکمل ہوئی ۔ جب ہی اس کی تقدیس بھی عمل میں آئی۔ اس کے بعد کی دو صدیوں میں یہ کئی بار جلائی گئی یا تباہ ہوئی۔

چھٹی صدی عیسوی یا537میں اس کی بنیادوں پر بازنطینی شہنشاہ جسٹنٹین اول کی ہدایت پر وہ عظیم الشان گرجا، یا کلیسابنا جو آج تک Hagia Sophia

کے نام سے مشہور ہے۔

اسے ترکی زبان میں آیا صوفیا کہتے ہیں۔ اس نام کے معنی ’کلیسائے دانشِ مقدس‘ ہیں۔ فنِ تعمیر کے اہلِ دانش کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ بازنطینی طرزِ تعمیر کی سب سے عظیم الشان عمارت ہے، اور دنیا کی اہم ترین یادگار وراثت  ہے۔ سنہ 1453میں ترکی کے عثمانی حکمراں محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے بعد اسے ایک مسجد بنا دیا۔ اس پر فورا ہی ترکی طرزِ تعمیر کا لکڑی کا ایک مینار کھڑا کر دیا گیا۔ یہ مینار زیادہ سال قائم نہیں رہا۔ بعد میں سولہوہیں صدی کے اوائل میں اس پر مزید مینار تعمیر کیے گئے جو کم و بیش اب تک قائم ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم تک عثمانی ترکی سلطنت کی حالت دگرگوں ہو چکی تھی ، اور  ترکی ’یورپ کا مردِ ‘ کے نام پر مشہور یا بدنام ہوگیا۔ سنہ 1922میں مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں ترکوں  نے  ترکی کی جنگِ آزادی کے بعد سامراجی چنگل سے نجات  حاصل کی۔ اور مصطفی کمال پاشا نے ترکی کی تعمیر نو شروع کی اور اسے بدنامِ زمانہ، ترکی خلافت سے جمہوریت میں تبدیل کر دیا۔

جس زمانے میں  اتاترک  مصطفٰی کمال پاشا ترکی کی خود مختاری اور آزادی کے ساتھ ساتھ عثمانی سلطان یا خلیفہ کے خلاف جدو جہد کر رہے تھے۔  برصغیر میں دولتِ عثمانیہ کی سلامتی، ادارہ خلافت کی بحالی، اور ترکوں کی آزادی کے حق میں ایک اہم تحریک چلائی گئی تھی ۔ جسے تحریکِ خلافت کہتے ہیں۔اس کو چلانے والوں تحریکِ خلافت اور جمیعت علمائے ہند شامل تھی۔ مصظفیٰ کمال پاشا اس تحریک سے متفق نہیں تھے۔

ایک حیران کُن حقیقت  یہ بھی ہے  خلافت کے رہنماؤں،  مولانا محمد علی اور شوکت علی نے خود اتا ترک کو  خلیفہ بنانے کی پیش کردی، اور مولانا  ابوالکلام آزاد کے ساتھ ایک وفد ترکی بھیجنا چاہا۔  مصطفیٰ کمال پاشا نے یہ پیش کش سختی سے رد کردی ، جس پرمولانا محمد علی نے انہیں اور ترکوں کو بے وفا کہا ۔

 علامہ اقبال بوجوہ اس تحریک کے حق میں نہیں تھے۔ ان کے نزدیک تحریک نے حصولِ مقاصد کے لیے مناسب راہ اختیار نہیں کی تھی۔ نیز تحریک کے اندازِ فکر و عمل سے طرزِ غلامی، اور دریوزہ گری کا انداز مترشح ہوتا تھا۔مسلم فلسفی شاعر علامہ اقبال کے خلافت کے بارے میں نظریات کی ضمن میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری میں لکھتے ہیں کہ، ’اقبال کے الفاظ میں تحریکِ خلافت کیا تھی۔ اہلِ مغرب سے خلافت کی بھیک مانگی جارہی تھی۔ ان کے نزدیک ایسی خلافت جو مسلمانوں کے زورِ بازو کا نتیجہ نہ ہو، بے معنی و مہمل ہے۔

جب مصطفی کمال پاشا نے خلافت ختم کرکے ترکی کو جمہوریت میں تبدیل کیا تو اقبال نے اسے بہت سراہا۔ اور اسے خلافت کے بارے میں ایک اجتہادی عمل قرار دیا اور کہا کہ کمال پاشا نے خلافت کو جمہور کو واپس لوٹا دیا ہے۔ کیونکہ علامہ اقبال کے نزدیک ترکی خلافت، ملوکیت ہی کی شکل تھی اور اسے تبدیل کرکے اتاترک نے بہت ٹھیک کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ترک ہیں جو امم اسلامیہ میں قدامت پرستی سے بیدار ہو کر شعورِ ذات کی نعمت حاصل کر سکے ہیں۔ یہ صرف ترک ہیں جنہوں نے ذہنی آزادی طلب کی ہے۔ اور جو خیالی دنیا سے نکل کر عالمِ حقیقت میں آگئے ہیں۔ انہوں نے ترکوں کے اس دور کے بارے میں اور اتارترک مصطفٰی کمال پاشا سے متائژ ہو کر ایک طویل نظم ’طلوعِ اسلام ‘ لکھی۔ یہ نظم اس شعر سے شروع ہوتی ہے:۔

دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک نابی

افق سے آفتاب ابھرا ، گیا دورِ گراں خربی

اتاترک نے مسلسل جدو جہد سے ترکی کو فرسودہ رواےات اور کمزور عقائد سے نجات دلاکر عقل و فکر کی برتری کی مسلسل کوشش اس طرح سے کی، کہ ترکی ان کی زندگی ہی میں مردِ بیمار کی حالت سے نکل کر ایک جدید ، توانا، اور طاقتور ملک بن گیا۔ انہوں ہی نے 1934 میں آیا صوفیا کو ایک عجائب گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔یہاں ایک غلط فہمی کا  ازالہ ضروری ہے، جو آج کل بوجوہ  پھیلائی جارہی ہے۔ وہ یہ کہ سلطان نے گرجا خرید کر مسجد میں تبدیل کیا تھا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ بعض پڑھے لکھے مسلمان بھی اس  افواہ کو بڑھانے میں شامل ہیں۔۔ یہ حقیقت سے بعید ہے ۔

 حقیقت یہ ہے کہ،  جنگوں کے فاتح ہونے کی صورت میں فاتح ملک کی ہر جائداد بادشاہ یا شہنشاہ کی ذاتی ملکیت ہوجاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ عثمانی سلطان فاتح نے آیا صوفیا کو اپنی ذاتی جاگیر میں سے آیا صوفیا  کو مسجد بنانے کے بعد  اسے ایک وقف میں تبدیل کر دیا تھا۔ ترک حکمراں اور ان کے اہلِ خانہ  اکثر ایسے وقف اللہ کی خوشنودی کے لیے بناتے تھے۔ اتاترک نے مسجد کو عجائب گھر بنا کر اس وقف کو تبدیل کر دیا تھا۔   ترکی کی اعلیٰ  عدالت نے با ل کی کھال کھنچتے ہوئے اسی وقف کو بحال کر دیا ہے، تاکہ وہاں کے  قدامت پرست مسلمان  وزیرِ اعظم اردوغان کی دلی خواہش  پوری ہو سکے۔

ترکی کے قدامت پرست طبقے اتاترک کی ملک کو ایک سیکولر ملک بنانے کی اصلاحات سے خوش  نہیں تھے۔ وہ مسلسل اس نظام کو شکست دینے کی کوشش میں مصروف رہے۔ دنیا بھر میں مذہبی قدامت پرست کے عروج سے اس طبقہ کے خیالات کو تقویت ملی۔ گزشتہ ربع صدی میں ترکی کے موجود صدر ، رجب طیب اردوغان کی سیاسی کامیابی کے نتیجہ میں اتاترک کی اصلاحات کو رد کرنے اور ملک کو قدامت پرست اسلامی ملک بنانے کی تحریک کو ایک اہم  رہنما  مل گیا۔

انہوں نے مختلف جمہوری ، نیم جمہوری، اور آمرانہ اقدامات کے ذریعہ ترکی کے نظام ِ حکومت سے آزاد خیال طبقہ کو شدید زک پہنچائی۔ ہزاروں افراد جن میں صحافی بھی شامل ہیں سخت ترین سزائیں بھگت رہے ہیں۔ عدالتی نظام کو قدامت پرستی کے شکنجہ میں کس دیا گیا ہے۔ترکی کے شہر ااستنبول (قسطنطنیہ کا موجو دہ نام) کے مئیر بننے کے ساتھ ہی انہوں نے آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کے پیغامات دینے شروع کر دیئے تھے۔ اور اس سال انہوں ہی کے زیرِ اثر ایک اعلیٰ عدالت نے مصطفٰی کمال پاشا کے ،مسجد کو عجائب گھر بنانے کے فیصلے کو منسوخ کر وادیا ہے اور فوراً ہی ایک صدارتی حکم کے تحت اسے مسجد بنانے کا اعلا ن کر دیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں اس عمل کے سلسلہ میں تشویش ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی قدامت پرست مسلمان اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں ۔ بعض پاکستانی تو اسے بار بار  بھارت میں بابری مسجد کومسمار کرنے کے خلاف انتقام قرارد ے رہے۔ یہ غور کیے بغیر کہ بابر ی مسجد خود ایک ہندو مندر کی بنیادوں پر قائم کی گئی تھی۔ اور اب وہاں  اس کے بدلے میں مسلمانوںکو ایک اور بڑی زمین دے دی گئی ہے۔

ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہاایک عالمی شہر ہونے کے طور پر  ہم اس تبدیلی سے اختلاف کرتے ہیں۔ اقوامِ متحد ہ کے مختلف ضوابط کے تحت آیا صوفیہ عالمی ورثہ ہے۔ اسے ایسے ہی رہنا چاہیے۔ اسی طرح ہم ترکی کو رفتہ رفتہ ایک قدامت پرست ملک  بنائے جانے کے بھی خلاف ہیں ۔

۔(حوالے: واضح رہے کہ ہم مضمون نگاری میں وکی پیڈیا سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہمارا اہم حوالہ انسائیکلوپیڈیا برناٹیکاہے۔ ہم نے علامہ اقبال کے خیالات کے بارے میں جریدہ جنگ کے ایک خصوصی ضمیمہ میں ڈاکٹر خالد مبین کے مضمون سے بھی استفادہ کیا ہے)۔

2 Comments

  1. Munir Saami says:

    Author’s comments:
    Aya Sophia.

    Hello Friends.
    I am sharing my Urdu Op Ed published at Nia Zamana of Mohammad Shoaib Adil sb.

    It clearly explains my opposition to the reconversion of Aya Sophia to a mosque by a Turkish Court and Prime Minister Erdogan.

    It specifically refutes the Falsehood going viral even in some educated circles that, the Turkish Sultan Mohammed Fatih, purchased the building and donated it to a Waqf or trust.

    The fact is that the Sultan owned all occupied buildings as the conqueror and ruler. It off course included Aya Sophia. He then gifted it to Islamic trust as a mosque.

    When Ataturk Mustafa Kamal Pasha abolished the Sultanate and made Turkey the first Muslim secular estate, he and his government overruled the terms of the Trust and made the building a museum.

    It also mentions an obscure fact that the leaders of Indian Khilafaat Movement asked AtaTturk to become the Caliph which he off course declined.

    The Turkish court using the Sharia principles annulled the action of AtaTurk and his government.

    Turkish scholarship maintains that the Sultan NEVER bought the building after the conquest. (I can always discuss that).

    Is it not interesting that we the Muslims have always been making trusts form ill begotten wealth, or forcible occupation , to please GOD? On the other hand many Sufi dervishes never accepted alms or donations from the doubtful wealth of the donors.

    Please read, review, reflect. comment.

  2. Uncovering buried history of Hagia Sofia Makes this article a valuable contribution to the current debate on this subject. Thanks Munir.
    Javed Akbar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *