آیا صوفیہ کے بعد ترکی نے ایک اور سابق کلیسا مسجد میں بدل دیا

ترکی میں ایردوآن حکومت نے استنبول میں تاریخی آیا صوفیہ کے بعد جمعہ اکیس اگست کو ایک اور سابق بازنطینی کلیسا بھی باقاعدہ طور پر مسجد میں بدل دیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا یہ سابق چرچ بھی استنبول میں واقع ہے

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول سے ہفتہ بائیس اگست کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس سابق بازنطینی کلیسا اور موجودہ چرچ کو صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے آیا صوفیہ کو باقاعدہ مسجد بنا دینے کے فیصلے تقریباً ایک ماہ بعد ایک مسلم عبادت گاہ بنادیا گیا۔

آیا صوفیہ ایک ایسی عمارت ہے جو ماضی میں صدیوں تک مسجد بھی رہی ہے اور ایک کلیسا بھی۔ ایک ماہ پہلے تک وہ گزشتہ کئی عشروں سے ایک میوزیم تھی۔استنبول شہر کی پہچان بن جانے والی اس تاریخی عمارت کو ایک مسلم عبادت گاہ میں بدل دینے کے فیصلے کی مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کی طرف سے تو تعریف کی گئی تھی لیکن بین الاقوامی سطح پر اس اقدام پر بہت سخت تنقید بھی کی گئی تھی۔

ترکی کے سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے ایک فیصلے کے مطابق صدر رجب طیب ایردوآن کے ایک حکم کے تحت استنبول شہر کے انگریزی میں کورا یا ترک زبان میں کوریے‘ کہلانے والے علاقے میں قائم چرچ آف سینٹ سیویئر کو ترک مذہبی مقتدرہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ مذہبی اتھارٹی اب اس عمارت کو بہ طور مسجد مسلم عبادت گزاروں کے لیے کھول دے گی۔استنبول ہی میں واقع آیا صوفیہ کی طرح یہ سابقہ چرچ اور موجودہ میوزیم ماضی میں صدیوں تک بدل بدل کر مسجد اور کلیسا دونوں ہی رہا ہے۔

اب دوبارہ مسجد بنائے جانے سے قبل عشروں تک یہ ایک عجائب گھر تھا۔ فی الحال ترک حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس میوزیم کو عملاً مسجد میں بلد کر وہاں نماز کی ادائیگی کب سے شروع کی جائے گی۔استنبول میں یہ سابق کلیسا شہر کے قدیمی حصے کی دیواروں کے پاس قائم ہے۔ یہ اپنی اندرونی دیواروں پر بنائے گئے نقش و نگار اور مذہبی تصویروں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ مسیحی عبادت گاہ چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس کی موجودہ عمارت کے باہر لگی تختی کے مطابق یہ چرچ گیارہویں یا بارہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔سلطنت عثمانیہ کے دور میں اس کلیسا کو مسجد بنا دیا گیا تھا۔ پھر جدید ترک ریاست کے قیام کےتقریباً دو عشرے بعد اسے 1945ء میں ایک میوزیم کی حیثیت دے دی گئی تھی۔

آیا صوفیہ کی طرح گزشتہ سال ایک عدالتی فیصلے میں اس عمارت کی میوزیم کے طور پر حیثیت بھی منسوخ کر دی گئی تھی، جس کے بعد اس کے جمعہ اکیس اگست کو پھر ایک مسجد میں بدل دیے جانے کی قانونی راہ ہموار ہو گئی تھی۔

آیا صوفیہ کی قانونی حیثیت تبدیل کیے جانے پر ردعمل کی طرح، کوریے چرچ کی حیثیت بدلے جانے پر بھی یونانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس عمل کی سخت مذمت کی ہے۔

اس بیان کے مطابق، ’’ترک حکومت کا یہ اقدام بھی اقوام متحدہ کی عالمی ثقافتی میراث قرار دیے گئے تاریخی اثاثوں کی فہرست میں شامل ایک اور ورثے کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایسی کوشش ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی ایک سفاکانہ نفی ہے‘‘۔

یونانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے، ’’یہ تمام باعقیدہ مسیحیوں کی تذلیل ہے۔ ہم ترکی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آج کی 21 ویں صدی میں واپس لوٹ آئے اور مذاہب اور تہذیبوں کے مابین باہمی احترام کے اصول اور مکالمت کی راہ پر چلے‘‘۔

dw.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *