محرم کلچر میں کیسے تبدیل ہوا

لیاقت علی

ایک دوست انجئنیر غلام عباس لکھتے ہیں کہ محرم کلچر میں کیسے تبدیل ہوا ۔

محرم کلچر میں تبدیل تب ہوا جب برصغیر والوں نے اسے مکمل طور پر اپنا لیا۔ اودھی تہذیب نے اسے اپنے اندر گوندھ لیا، اسے اتنی جگہ دے دی کہ محرم کا سوگ دس دن سے بڑھ کر پچاس دن اور پھر آٹھ ربیع الاول تک پھیل گیا۔ پچاسواں دن عاشورے کے حساب سے چہلم کا بنتا تھا۔ حکم رانوں کی نگرانی میں محرم کے جلوس نکلتے، نذر نیازیں ہوتیں، جلوس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ڈھول تاشے والے ہوتے، بہروپیوں نے شیر کے سوانگ بھرے ہوتے (شیر بننے کی رسم اب بھی ہندوستان کے کچھ علاقوں میں موجود ہے)، باقاعدہ کربلا کی تمثیل کا تھیٹر کیا جاتا، ذوالجناح بنانے کے لیے شاہی اصطبل میں موجود اعلی ترین گھوڑے وقف رہتے، جگہ جگہ خوشبودار دودھ کی سبیلیں ہوتیں، علم نکلتے اور ایسے ایسے اونچے علم ہوتے کہ دیکھنے والوں کی گردنیں رہ جاتیں۔

پھر ان علموں کے پھریرے یا جھنڈے کہہ لیجیے وہ طرح طرح کے قیمتی کپڑوں کے ہوتے، جواہرات ٹنکے ہوتے، انہیں علموں کے سائے میں ماتم ہوتا، بڑا امام باڑا بنا، چھوٹا امام باڑا بنا، لکھنو میں کربلا بھی بنی، عاشورے کی رات یہ تمام امام باڑے باوجود بجلی کا دور نہ ہونے کے جگمگا رہے ہوتے۔ شاہی امام باڑوں کے دروازے بھی اس شب عوام کے لیے کھول دئیے جاتے، کبھی یہ تک نہیں پوچھا جاتا تھا کہ ہاں میاں کس مذہب سے ہو، بس صلائے عام تھی! اور یہ سب ریاست کی سطح پر کیا جاتا تھا۔

ایران جہاں سے محرم کی رسومات یہاں آئیں، وہاں بھی اس قدر رنگا رنگی ہمیں نظر نہیں آتی۔ وجہ اس کی شاید یہی تھی کہ محرم ہندو، سکھ، مسلمان، جین، سبھی کا مہینہ بن چکا تھا اور تمام ثقافتیں اس میں بقدر جثہ شامل ہو چکی تھیں۔ پھر میر انیس اور میرزا دبیر نے غضب کر دیا کہ واقعہ کربلا کو بالکل دیسی لبادہ اوڑھا دیا۔ امام بات کرتے ہیں تو ہندوستانی محاوروں میں، امام کی اہل خانہ بات کرتیں تو گھر کی خواتین کی زبان میں، شادی، بیاہ، سفر، موت سب رسمیں مشرف بہ ہندوستان ہو گئیں تو ہندوستانی بے چارے کہاں جاتے۔

دیکھیے جب کوئی عقیدہ آپ کو اپنی زبان میں مل رہا ہے اور آپ ایسی عالی مقام ہستیوں کا غم ایسے محسوس کر رہے ہیں کہ جیسے سکرین پر سب واقعات چل رہے ہوں، آپ اس میں خود کو شامل محسوس کرتے ہیں، تو وہ عقیدہ محض عقیدت نہیں رہ جاتا وہ ہڈیوں میں رچ بس جاتا ہے اور اس رچاؤ کے بعد جو چیز سامنے آتی ہے وہ ثقافت کہلاتی ہے۔

غلام عباس کی یہ تحریر یوپی اور بہار کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ لکھنو اور اس کے گرد ونواح میں محرم کی رسومات کے پس پشت ممکن ہے یہی محرکات ہوں لیکن کیا پنجاب ،بنگال اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی شیعت اور اس سے جڑی رسومات کا پھیلاواسی طرح ہوا تھا یا وہاں دیگر محرکات شیعت کے پھیلاو اور قبول کا باعث بنے تھے؟

شمالی ہند میں اسلام فتوحات کے نتیجے میں پہنچا اور پھیلا جب کہ جنوبی ہند میں اسلام تجارت اور سیاحت کی بدولت پہنچا اور پھیلا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں علاقوں کے مسلمانوں کا سیاسی اور سماجی بیانیہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔مسلمانوں کی تجارتی برادریاں۔۔۔ میمن، اسماعیلی، بوہرے اور خوجوں کاتعلق جنوبی ہندسے ہے جب کہ مارشل قبائل شمالی ہند سے تعلق رکھتے ہیں۔

عقیدہ اور مذہب کے پھیلاؤ میں ایک عمومی بیان جاری کرنا مشکل امر ہے کیونکہ مختلف علاقوں اور خطوں میں مذہبی عقیدے کے پھیلا ؤاور فرقے کی تشکیل میں مقامی سیاسی، معاشی اور سماجی محرکات کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہ عوامل ہیں جو اس کی رسوم اور سمبلزم کی تشکیل میں اہم رول بھی ادا کرتے ہیں۔

شعیت کا لکھنو اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پھیلاؤ مغل سلطنت کے زوال اور صوبے داروں کی بڑھتی ہوئی قوت، مسلم اشرافیہ کی شکست وریخت اور انگریز اقتدار کے بڑھتے ہوئے قدموں کی بدولت پیدا ہونے والی مایوسی کا نتیجہ تھا۔ یہ اقتدار کے چھن جانے سے پیدا ہونے والی مایوسی کا مذہبی ردعمل تھا۔ جب آپ طاقتور مقابل سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے تو پھر خود اذیتی ہی آپ کا ہتھیار بنتی ہے۔اٹھارہویں صدی کی اردو شاعری میں موجود رنج والم، مایوسی، نارسائی اور دنیا کی ناپائیداری کا بیانیہ دراصل سیاسی اور سماجی شکست کی بازگشت تھی۔ اٹھارویں صدی کے لکھنو میں شعیت کا عروج دراصل مسلمان اشرافیہ کی زوال کا عکس تھا۔

واقعہ کربلا مظلومیت کی داستان ہے۔ اٹھارویں صدی میں شمالی ہند بھی کربلا کا منظر پیش کررہا تھا۔ مقامی ریاستیں ٹوٹ پھوٹ کر شکار ہوکر بکھر رہی تھیں۔ راجے مہاراجے انگریز سرکارکی چوکھٹ پر حاضری دے رہے تھے اور جو ڈٹ جانے کا حوصلہ رکھتے تھے شکست ان کا مقدر قرار پاتی تھی۔

مقامی سیاسی قوتوں کی شکست وریخت نے مظلومیت کے بیانیہ کو پروان چڑھایا اور واقعہ کربلا اور اس سے جڑی رسومات اور ان کا مقامی ثقافتی رنگ ڈھنگ شکست کو جواز فراہم کررہا تھا۔ یہ بیانیہ کہ واقعہ کربلا، ہار میں جیت کا پیغام ہے اسی دور سے یاد گار ہے جب آپ اپنے طاقتور مخالف کو شکست تو دے نہیں سکتے تو یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ یہ ہماری اخلاقی جیت ہے اور دشمن اخلاقی طور پر ہار گیا ہے۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *