جب خاموشی جواب نہیں ہوتی


تحریر: وی وینکٹیسن

بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے موروثی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وکیل پرشانت بھوشن کو توہین عدالت کی سزادینے کا جو قدم اٹھایا ہے اس نے عدالت کے حالیہ ماضی پر سول سوسائٹی کی جانب سے ایک زبردست ردّعمل کو دعوت دینے کے علاوہ انتہائی کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔

’’ میں اس احساس کے ساتھ زندہ ہوں کہ مجھے اس عدالت سے اُس سے کہیں زیادہ ملا ہے جتنا کہ مجھے اسے دینے کا موقع ملا ہے۔آج اس ابتری کے عالم میں ہندوستانی عوام کی امیدیں اس عدالت سے لگی ہیں تا کہ یہ عدالت انتظامیہ کی بے لگام حکمرانی کی بجائے آئین اور قانون کی حکمرانی اور بالادستی کو یقینی بنائے۔جب مجھے یہ یقین ہو کہ اس نے اپنے شاندار ریکارڈ سے انحراف کیا ہے تو مجھ جیسے عدالت کے افسر پریہ فرض عائد ہوتا ہے کہ میں اس کے خلاف پوری دیانت داری سے اظہار کروں۔لہذاٰ میںنے پوری نیک نیّتی سے اظہار خیال کیا نہ کسی خاص چیف جسٹس یا عدالت کو بدنام کرنے کے کے لئے۔بلکہ ایک تعمیری تنقید پیش کی تاکہ عدالت عوام کے حقوق اور آئین کی نگہبانی میں اپنے دیرینہ کردار سے دور کھسکنے کوروک سکے۔

معافی کوئی منتر (یادم) نہیں ہوتی بلکہ جیسا کہ عدالت نے کہا ہے کہ اسے خلوص دل سے پیش کیا جانا چاہیے۔اگر میں اس عدالت سے اپنا بیان واپس لوں جس کی صداقت پر مجھے یقین کامل ہے اور کوئی غیر مخلص معافی مانگوں تو میری نظر میں یہ میرے ضمیر اور اس قابل احترام ادارے کی توہین ہوگی۔‘‘

یہ بات سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن اور سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن نے 25 اگست کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیے جانے پراپنے ضمنی بیان میںکہی۔ اس کا جرم، جون میں لاک ڈائون کے دوران اس نے جمہوریت کی تباہی میں ہندوستان کے آخری چار چیف جسٹس صابان کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے دو ٹویٹ پوسٹ کرنا تھے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ جو جسٹس ارون مشرا،بی آر گاوئی اورکرشنا مراری نے بھوشن کے ضمنی بیان پرسزا سنانے سے پہلے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: معافی چاہنے میں لفظ ’’معافی‘‘ استعمال کرنے میں کیا غلط ہے؟ کیا یہ اعتراف جرم کے مترادف ہوگا؟معافی ایک طلسمی لفظ ہے جو کئی چیزوں کو ٹھیک کر دیتا ہے۔گاندھی جی بھی ایسا کرتے تھے۔اگر آپ نے کسی کوزخم دیا ہے تو آپ کو اس پر مرہم ضرورلگانی چائیے۔اس میں کسی کو سبکی محسوس نہیں کرنی چا ہیے ۔

اس معاملے میں سپریم کورٹ کی کاروائی کے دوران ایک غیر جانبدار مبصّر کے لئے بنچ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات بھوشن کے ضمنی بیان میں موجود تھے۔لہذاٰ اس پر بنچ کی جانب سے معافی پر استفساراتی سوالات نے بہت سارے لوگوں کو حیرت زدہ کردیاکہ آیا اس نے بھوشن کے ابتدائی اور ضمنی بیانات کو کلّی طور پر پڑھا اور سمجھا بھی ہے یا نہیں؟ بیان میں بھوشن کی جانب سے استعمال کیا گئے لفظ Incantation میں اس سوال کا جواب ہے کہ معافی کو کسی خیالی چوٹ کو ٹھیک کرنے اور سزا کے عمل سے بچنے کے لئے ایک طلسمی لفظ کے طور استعمال نہیں کرنا چاہئیے۔

بنچ کی جانب سے مہاتماگاندھی کی طرف سے معافی کے استعمال کا اشارہ بھوشن کی طرف تھا جس پر انہوں نے 20 اگست کو اپنے بیان میںانحصار کیا تھا۔تب بھوشن نے کہا تھا:’’ میرے ٹویٹ ایک چھوٹی سی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے میں نے ہماری جمہوریہ کے اس نازک موڑ پرپوسٹ کرنا اپنا اعلیٰ ترین فرض سمجھا تھا۔میرے لئے ان ٹویٹس میں اظہار رائے جس پر میرا مصدقہ یقین ہے معافی مانگناغیر مخلص اور توہین آمیز اقدام ہوگا ۔اس لئے میں عاجزی سے وہی توضیح دے سکتا ہوں جو بابائے قوم مہاتماگاندھی نے اپنے مقدمے میں کہی تھی : میں رحم کی درخواست نہیں کرتا ہوں۔میں فراخ دلی کی استدعا نہیں کرتا ہوں۔میں اپنی خوشی سے کسی بھی جرمانے کے لئے حاضر ہوں جو قانونی طور پر مجھ پر لاگو ہوتا ہے جسے عدالت جرم سمجھ بیٹھی ہے اور جو ایک شہری کا اعلیٰ ترین فرض ہے۔

مہاتما گاندھی نے اس وقت بھی عدالت سے معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھاجب ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی میں ان سے معافی طلب کی گئی تھی۔وہ حقیقی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے جج کے لکھے ہوئے خط کو شائع کرنے اور اس پر تبصرہ کرنے سے کوئی غلط کام نہیں کیا۔جس سے عوامی مفاد میںہائی کورٹ میں زیرِالتوا مقدمے پرکاروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بات واضح نہیں کہ آیا سپریم کورٹ کا بنچ اس تاریخی تناظرسے آگاہ ہے جس میںگاندھی جی نے اپنے ریمارکس پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا اور اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کر دیا تھا۔اور جس سے بھوشن کو اپنے خلاف توہین عدالت کی کاروائی میں ویسا ہی کرنے کی ترغیب ملی ہے۔

اگر گاندھی جی ججز کی تکلیف کے احساس کو دور کرنے کے لئے معافی مانگنا چاہتے جیسا کہ 25 اگست کو عدالت عظمیٰ نے توہین کرنے والے سے توقع کی تھی تو یہ یقیناً غیر مخلص اقدام ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ نو آبادیاتی دور میں بمبئی کے ججز کی طرح ان تینوں ججز کو بھی بھوشن سے غیر مشروط،غیر مخلص ،غیر ارادی اور غیر منطقی معافی طلب کرنے پر کوئی پشیمانی نہیں ہوئی ۔ایسا نہیں کہ اگر بھوشن کو یقین ہو کہ وہ غلطی پر تھا تو وہ معافی مانگنے سے انکار کرے گا۔پچھلے سال یکم فروری کو اس نے اس وقت کے ڈائریکٹر سی بی آئی الوک ورما کے نکالے جانے پر نئے ڈائریکٹر کے انتخاب کرنے والی کمیٹی سے مشاورت پر ٹویٹ کیا تھا جس کی سربراہی خود وزیراعظم مودی کر رہے تھے۔

بھوشن نے اپوزیشن رہنما ملک ارجن کھڑگے(جو سلیکشن کمیٹی کے ممبر تھے)نے سلیکشن کمیٹی کی ان ممکنہ جعلی سفارشات کی طرف اشارہ کیا تھا جو اٹارنی جنرل وینو گوپال نے مرکز کے ایماء پر عدالت میں پیش کی تھیں جس میں الوک ورما نے اپنی برطرفی کو چیلنج کیا ہوا تھا۔وینو گوپال جس نے مہر بند لفافے میں بنچ کی سربراہی کرنے والے جج ارون مشراکو دیے تھے ۔مشرا نے الزام لگایا ہے کہ بھوشن نے جان بوجھ کر اس کی ساکھ اور دیانت داری پر شکوک اور شبہات پیدا کر دیے ہیں۔جب بھوشن کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے عدالت کے سامنے اس کا اعتراف کیا اور وینو گوپال نے عدالت سے یہ کہا چونکہ بھوشن نے اعتراف کر لیا ہے لہذاٰ اس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی روک دی جائے۔وہ نہیں چاہتا کہ اسے سزا ملے۔

تاہم اسی کیس میں بھوشن نے جسٹس ارون مشر ا کی اس کیس سے علیحدگی کے لئے درخواست کی تھی۔جب جسٹس ارون مشرا نے کیس سے علیحدہ ہونے سے انکار کر دیا اور بھوشن سے اس بات پر معافی طلب کی اس نے اس کی کیس سے علیحدگی کی درخواست دی تھی۔بھوشن نے تب بھی غیرمشروط معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔جسٹس ارون مشرا نے وینوگوپال کی درخواست پر مقدمہ بند کرنے کی بجائے عدالتی معاملے میں تبصرے کی قانونی حیثیت طے کرنے اور بھوشن کی درخواست کے جواب کے لئے اس کیس کو زندہ رکھا۔پچھلے سال سات مارچ کی سماعت کے بعد عدالت اس کیس کو مزیدآگے نہیں لے جا پائی تھی۔

جس بات نے غیر جانبدار مبصروں کو ششدر کر دیا وہ یہ تھی کہ 22 جولائی کو دو ٹویٹس پرنوٹس جاری ہونے کے بعد اس کے خلاف 11 سال پرانا توہین عدالت کے کیس کی بھی سماعت کرنے کا فیصلہ کر لیاجو 2012کے بعدکبھی لسٹ پر نہیں لگا تھا۔اس مقدمے میں بھوشن نے تہلکہ میگزین کی شوما چوہدری کو انٹرویو میں اعلیٰ عدلیہ میں کرپشن کا الزام لگایا تھا۔بھوشن نے الزام لگایا تھا کہ2009 میں پچھلے16 چیف جسٹس صاحبان میں سے آدھے بدعنوان تھے۔اس کی کرپٹ ججز کی فہرست میں سابق چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیا بھی شامل تھے۔بھوشن کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ایک اور کیس میں عدالے کے مددگار ہریش سالوے کی درخواست پر کی گئی تھی۔

اس کیس میں بھوشن نے الزام لگایا تھا کہ جسٹس کپاڈیا نے سٹرلائیٹ انڈسٹریز کے کیس کی سماعت کی تھی جس میں ان کے اپنے حصص بھی تھے۔جس کی وجہ سے وہ مفادات کے تصادم کے الزام کا شکار ہوگئے تھے۔چیف جسٹس کپاڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کیس کی سماعت کے دوران اپنے حصص کی حقیقت کو ظاہر کیا تھااور متعلقہ وکیل کو اس کی کیس کی سماعت کے بارے کوئی اعتراض نہ تھا۔لیکن جن لوگوں کو سٹرلائیٹ پراجیکٹ سے گزند پہنچا تھا وہ عدالت کے روبرو نہیں تھے۔اور بھوشن کی نظر میں ان کامطمع نظر سننے سے اس بات کا فرق پڑنا کہ آیا مفادات کے واضح ٹکرائو کے باوجود جسٹس کپاڈیا اس کی سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں۔تاہم اس کے بعد بھوشن نے کہا کہ چیف جسٹس کپاڈیا کا احترام کرتے ہیں اور انٹرویو سے ان کی بے عزتی مقصود نہیں۔

چودہ14 جولائی 2010 کو جسٹس التماس کبیر،سیریک جوزف اور ایچ ایل دتّو نے سالوے کے اس الزام کا حوالہ دیا تھاکہ بھوشن کے انٹرویو نے جان بوجھ کرعدلیہ کے امیج کو داغدار بنایا تھا۔اور خاص طور پر عدلیہ کے حاضر سروس جج کو عوام الناس کی نظر میں بنا ثبوت کے گندا کیا تھا۔بنچ نے تہلکہ میگزین کے اس وقت کے مدیر ترون تیج پال کو بھی مبینہ طور پرانصاف کی فراہمی کے نظام میںتمام شراکت داروں کی نظر میںوقار کم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔بھوشن کی اس معاملے میں معافی مانگنے سے انکار پرکاروائی غیر نتیجہ خیز رہی۔2011 میںبھوشن نے آئینی بنچ سے ایک حوالہ طلب کیا تھاکہ آیا عدلیہ میں بدعنوانی کی حد تک واضح اظہار رائے پرتوہین عدالت لگے گی؟ ہندوستان کے آٹھ چیف جسٹس صاحبان کے ناموں کے بارے میں معلومات ایک بند لفافے میںجمع کرائی گئی تھیں جو بھوشن کے نظر میں کرپٹ تھے وہ لفافہ آج تک نہیں کھولا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس ارون مشرا نے اس کیس کو دوبارہ زندہ کرنا چاہا تو اسے پھر انہی اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا جوبھوشن نے 2012 میں لگائے تھے۔اس کے علاوہ بنچ نے مندرجہ ذیل نکات اٹھائے تھے:

۔۱۔اگر کسی خاص جج کی کرپشن کے بارے میں کوئی پبلک بیان جائز ہے توایسا کس حالت اور کس بنیاد پرکیا جا سکتا ہے۔اور کون سے حفاظتی اقدامات کا مشاہدہ کیا جائے؟

۔۲۔اگر یہ الزام ایک حاضر سروس جج کے طرز عمل سے متعلق ہے تو پھراس کی شکایت کے لئے کونسا طریقہ اپنایا جائے؟

۔۳۔اگر ریٹائرڈ جج صاحبان پر کرپشن کا سرعام ایسا الزام لگایا جا سکتا ہے جس سے عام لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد مجروح ہو جائے تو کیا یہ توہین عدالت ایکٹ کے تحت قابل تعزیر ہو گا؟

بھوشن نے عرض کیا کہ کرپشن صرف مالی تسکین تک محدود نہیں بلکہ اس میں کسی بھی طرح کی ناجائز کاروائی کو شامل کر کے وسیع معنوں میں سمجھنا ہوگا۔انہوں نے یہ بھی استدلال کیا بدعنوانی کے الزامات کو توہین آمیز نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ توہین عدالت کی کاروائی میں سچ ہی دفاع ہے۔

پچیس 25 اگست کو بنچ نے مشاہدہ کیا: اگر وقت کی کمی نہ ہوتی توفاضل وکیل کے اٹھائے گئے سوالات کے بارے میں دلائل ضرور سنتے۔کیونکہ جس معاملے کی استدعا کی گئی ہے وہ پچھلے دس سالوں سے زیرِالتوا ہے ہم اس کی سماعت کے لئے ستمبر 2020کی تاریخ دیتے ہیں۔معاملے کو دس ستمبر2020 کوایک بنچ کے آگے رکھا جائے جس کی تشکیل عزت مآب چیف جسٹس جیسے مناسب سمجھیں کریں گے۔

چونکہ جسٹس ارون مشرا 2 ستمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں ان کے بنچ کے سامنے تمام زیرِ التوامعاملات مزید سماعت کے لئے لازماً دوسرے بنچوں کے سامنے درج کیا جائے۔جب بھوشن کے وکیل نے لاک ڈائون کی صورت حال کے پیشِ نظر عدالت پر کام کا بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس کو ترجیح دینے پر سوال اٹھایا تو جسٹس مشرا نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اگلے بنچ میں جلداز جلد تاریخ دینے کے اقدام پرحیرت ہوتی ہے۔چیف جسٹس روسٹر ماسٹر کی حیثیت سے صرف اتنا اختیار رکھتے ہیں کہ زیر سماعت مقدمات کو مناسب بنچوں کے ذریعے سماعت کے لئے ترجیح دی جائے۔

جسٹس مشرا کی ریٹائرمنٹ کے بعد کسی کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ طے کرنے کا اقدام،خاص طور پر جب بھوشن کے وکیل نے عدالت کی معمول کی سماعت دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس کی سماعت کی تھی غالب امکان ہے کہ اسے ناجائز سمجھا جائے۔

سزا کی سماعت میں خامیاں

سپریم کورٹ کے روبرو بھوشن کے وکیل راجیو دھون نے تحریری شکایت کی ہے کہ ٹویٹ کیس میں شکایت کنندہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممتاز ممبر مہک مہیشوری قانون کے مطابق اٹارنی جنرل کی رضامندی حاصل کرنے میں ناکامی کے باوجود سپریم کورٹ سے اپنی درخواست کی سماعت کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔سپریم کورٹ نے مہیشوری کی درخواست کا نوٹس لیااور اپنے انتظامی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے اس پر سووموٹوکی چادر ڈال کر قابل سماعت قرار دے دیا۔تاہم اس نے تحریری درخواست کے باوجود مہیشوری کی درخواست کو بھوشن کے ساتھ شئیر نہیں کیا۔

دھون نے کہا کہاکہ اس کے مضمرات بہت دور رس ہوں گے کیونکہ بھوشن اور عوام یہ جاننے کے حقدار ہیں کہ آیا یہ درخواست ناجائز تھی یا اس کے محرکات ذاتی اور سیاسی تھے ؟ اس کے علاوہ بھوشن کواپنے ٹویٹس کی سچائی ثابت کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے عدالت نے اس نظریہ کی تائید کی ہے کہ سچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا حالانکہ توہین عدالت کی کاروائی میں ’’ سچ‘‘ ہی دفاع ہوتا ہے۔

بشکریہ : فرنٹ لائن ، انڈیا ترجمہ: خالد محمود

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *