پہلا مارشل لا اور ہمارے بزرگ ادیب

جاوید اختر بھٹی

قدرت اللہ شہاب نے ایوبی آمریت کو مضبوط کرنے کے لئے ادیبوں اور شاعروں کی حمایت حاصل کی۔ ان ادیبوں اور شاعروں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ ان کی بھی کوئی قیمت ہے۔ رائٹرز گلڈ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ جنرل ایوب خان نے جب نام نہاد الیکشن کا ڈھونگ رچایا تو بہت سے نامور اور قابل احترام ادیب ان کے ہمنوا ہوگئے۔ ان میں کچھ تو اپنی سادگی کی وجہ سے مارے گئے اور کچھ ایسے تھے کہ وہ یہ جانتے ہی نہیں تھے کہ مستقبل میں فوجی حکمران کس قدر طاقتور ہو جائیں گے۔

سیاسی حکومتیں عدم استحکام کا شکار تھیں اور فوجی حکومت آئی تو ذخیرہ اندوز خوف کے مارے اناج سڑکوں پر لے آئے۔ چور بازاری بند ہو گئی۔ رشوت کا کاروبار عارضی طور پرٹھپ ہوگیا اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ وہ حکمران آگیا ہے جس کی پاکستان کو ضرورت تھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فوج سیاسی حکومت کو مضبوط کرنے کی بجائے خود مضبوط حکومت کے طور پر کیوں سامنے آتی ہے۔ یہاں ایوبی آمریت کی تاریخ بیان کرنا ضروری نہیں۔ آگے آپ کو جو کچھ پڑھنے کو ملے گا اس کے لئے پس منظر کے طور پر چند سطروں کا لکھا جانا ضروری تھا۔

سنہ1947ء کے بعد بابائے اردو مولوی عبدالحق انجمن ترقی اردو کا دفتر دہلی سے کراچی لے آئے۔ انہوں نے اردو کالج قائم کیا۔ لائبریری کوترتیب دیا۔ کتابوں پر تحقیق اور اشاعت کا کام شروع ہوا۔ مگر زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ جو شخص گاندھی اور نہرو کے سامنے اردو کا مہادیو دکھائی دیتا تھا اسے پاکستان میں اپنوں نے تنہا اور بے بس کر دیا۔ سب کچھ بابائے اردو کے ہاتھ سے نکل گیا۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔

سنہ1958ء کا مارشل لاء لگا تو قدرت اللہ شہاب کی قدرت سے بابائے اردو کے تمام ادارے بحال کر کے ان کے حوالے کر دئیے گئے۔ وہ مایوسی کا شکار ہو چکے تھے۔ انہیں اپنی زندگی میں ہی وہ سب کچھ مل گیا جو بظاہر بہت مشکل نظر آتا تھا۔لیکن دوسری طرف ان کی عمر زیادہ ہو چکی تھی اور جگر کے موذی مرض نے انہیں جکڑ لیاتھا وہ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے لیکن انہوں نے آخری دور ریاستی احترام کے ساتھ بسر کیا اور وہ جنرل ایوب کے زبردست حامی رہے۔

جنرل ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریت نے جنم لیا عوام کو بنیادی جمہوریت کی آگاہی کے لئے 68صفحات کا ایک کتابچہ ’’پاک جمہوریت‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس میں مولوی عبدالحق ،شاہد دہلوی، ممتاز مفتی اور ابن انشاء کی تقریریں شامل ہیں۔

بابائے اردو نے فرمایا

میں کوئی سیاست دان نہیں ہوں۔ میں نے اپنی زندگی اردو کی خدمت کے لئے وقف کررکھی ہے لیکن میری عمر نوے سے اوپر ہے پاکستان بھر میں ایسے بہت کم ہوں گے جنہوں نے ملکہ وکٹوریہ کا زمانہ دیکھا ہے۔

مجھے علامہ اقبال اور قائداعظم کی دوستی کی عزت بھی حاصل ہے۔ یہ دونوں عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے لیکن میں ان کی بے حد عزت کرتا تھا۔ یہ بہت بڑے لوگ تھے۔

اب بنیادی جمہوریتوں کا زمانہ آیا ہے یہ طریقہ بہت سیدھا سادا اور مضبوط ہے۔ پہلے پندرہ سو آدمی ایک نمائندہ چنیں گے پھر ایسے دس چنے ہوئے آدمی ایک انتظامی یا پنچائت بن کر اپنے چھوٹے سے علاقے کی بہت سی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے ان کے ذمے اپنے گاؤں کی ترقی کے کام ہوں گے۔

جنرل ایوب خان اگر چاہتے تو مدتوں فوج اور سول افسروں کے ذریعے کام چلائے جاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ایک سچے اور وعدے کے پکے آدمی ثابت ہوئے۔ انہوں نے مارشل لاء لگاتے ہی جو وعدہ کیاتھا اسے اس سے بھی بہتر طریقے سے پورا کر دکھایا ہے جس کی توقع ان سے کی جاتی ہے۔ انہوں نے بنیادی جمہوریتوں کے نام سے ایک بے نظیر اسکیم بنادی، اس میں آپ ہی کا فائدہ ہے۔ آپ خود سوچیے کہ ایک اکیلا تھانیدار ایک اکیلا پٹواری ایک اکیلا ڈپٹی کمشنر حکومت کرتا اچھا لگتا ہے۔ یاوہ دس دس بیس بیس آدمیوں کے مشورے سے جو کام کرے گاوہ زیادہ مفید ہوگا۔

آخر میں ایک اور بات سے خبردار کرنا چاہتا ہوں جن بے ایمان اور غدار سیاست دانوں کو نئے قانون کے ماتحت کالی فہرست میں رکھاجارہا ہے وہ ان کونسلوں اور پنچائتوں کے خلاف طرح طرح کی افواہیں پھیلائیں گے اور پھیلوائیں گے۔ آخر ان کی حکومت چھینی گئی ہے ان کے جرموں کے پردے چاک کئے گئے ہیں۔

میں خاص طور پر ادیبوں دانشوروں اور صحافیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس موقع کی اہمیت سمجھیں اور کام پر لگ جائیں ان پر بہت سے فرائض عائد ہوتے ہیں وہ قوم کے ذہن کو بنا اور بگاڑ سکتے ہیں ہمیں اس موقع پر بہت بڑی ذمہ داری سنبھالنی ہے آزاد ملکوں میں تو یہ تک ہوا کہ ادیبوں اور صحافیوں نے خانہ جنگی تک میں عملی حصہ لیا۔ یہ موقع خالص ادب اور اشتہاری ادب پر بحث کا نہیں ہے کوئی اچھا جذبہ یا کوئی اچھا کام کسی کو غزل کہنے یا افسانہ لکھنے سے نہیں روکتا۔ لیکن چونکہ تمام اچھا ادب عام انسانوں کی مسرت اور اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کے لئے ہوتا ہے اس لئے آپ لوگوں پر فرض ہے کہ خالص ادب پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عام خوشحالی کے لئے بھی کام کریں۔

٭

ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے اور ماہنامہ ساقی کے مدیر بہت سی کتابوں کے مصنف اور مترجم موسیقی کے ماہر شاہد احمددہلوی بھی ایوب خان کے خیرخواہ تھے۔ وہ ایوبی جمہوریت کے بارے میں کہتے ہیں۔

پہلی مرتبہ عوام میں یہ شعور پیدا ہوگا کہ یہ ملک ان کا اپنا ہے اس کے چلانے کی ذمہ داری ان کی ہے، اس کو بہتر بنانا ان کا فرض ہے اور اس کو ترقی دینا ان کا مقصد ہے۔ عوام کا آج تک اس ملک پر کوئی حق نہیں تھا اس کی کوئی ذمہ داری ان کی نہیں تھی اور آزادی ملنے کے باوجود بھی انہوں نے کبھی آزادی کا سانس نہیں لیاتھا۔ اب پہلی مرتبہ سورج نکلا ہے پہلی بار ان کی آنکھیں کھل رہی ہیں اور ان کی نظروں میں آس پاس کی چیزیں صاف ہوئی ہیں۔ ایک نئے دور ایک روشن مستقبل کاآغاز ہے ہم پاکستانی اسے خوش آمدیدکہتے ہیں۔

٭

ممتاز مفتی اردو ادب کا معروف نام ہے وہ منفرد ادیب تھے۔ علی پور کا ایلی اور الکھ نگری کے علاوہ ان کا سفر نامہ حج لبیک بہت زیادہ شائع ہونے والی کتاب ہے۔ قدرت اللہ شہاب کو پیر بنانے میں اشفاق احمد کے ساتھ ان کا بھی بہت حصہ ہے۔

مارشل لاء ان کے نزدیک بھی بہت اہمیت رکھتا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ نہ کہیں گولی چلی نہ لاٹھی چارج ہوا نہ کوئی مرا نہ زخمی ہوا نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔اور یہ مارشل لاء کے نفاذ کا واحد نشان اخبارات کی بڑی بڑی سرخیاں تھیں جنہیں دیکھ کر دہشت پیدا ہوتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سارے ملک میں زلزلہ آگیا ہے۔میں سیاسی آدمی نہیں ہوں۔ مجھے سیاست سے چنداں دلچسپی نہیں۔ میں نے 1936میں لکھنا شروع کیاتھا۔ آج تک میری کسی تحریر میں سیاسی جھلک کااظہار نہیں ہوا۔

ہاں مجھے پاکستان سے محبت ہے اور ہر اس شخص سے محبت ہے جو پاکستان کے لئے جیتا ہے اور پاکستان کے لئے مرنے کو تیار ہے۔جنرل ایوب بار بار پیدا نہیں ہوتے۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ 8اکتوبرکو ایک حیران کن بات رونما ہوئی۔ جنرل ایوب کو پاکستان کے عوام پر بھروسہ ہے پاکستان کی سا لمیت اور استحکام کے لئے پاکستان میں جمہوریت کے قیام کے لئے وہ عوام کو امید بھری نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ہے ہمارے عوام کی روح پرانی سیاست کے گھن سے پاک ہے۔ ان کی روح پہلے کی طرح اب بھی سربلند ہے۔ پاکیزہ ہے۔ بے داغ ہے۔

اور ممتاز مفتی کی حیثیت سے مجھے اپنی پاکستانی بھائیوں کی گرمی قلب کے علاوہ جنرل ایوب کی خداداد نگاہ اور جذبہ جمہوریت پر قطعی اعتماد ہے۔ میراایمان ہے کہ جنرل ایوب خان ہماری دعاؤں کا جواب ہے۔

٭

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو۔ ابن انشاء کو ایک شاعرا اور نثر نگار کے طور پر کون نہیں جانتا۔ ان کی تحریروں میں آج بھی وہی تازگی محسوس ہوتی ہے جس سے پڑھنے والوں کو برسوں پہلے مسرور و شاد کیاتھا۔ انشاء جی بھی مارشل لاء اور اس کی جمہوریت کے ہمنوا تھے لیکن انہوں نے اپنی گفتگو میں کہیں ایوب خان کا نام نہیں لیا۔ اور نہ ہی وہ مفتی صاحب کی طرح کھل کر سامنے آتے ہیں۔ایک شرم سی انہیں دامن گیر رہتی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ کوئی مجبوری انہیں اس طرف لے جارہی ہے۔

یونان کی کہانیوں میں ایک پہلوان کا نام آتا ہے۔ جس کی طاقت کا بھید اتنا تھا کہ وہ دھرتی کو نہیں چھوڑتا تھا۔ جب تک اس کے پاؤں دھرتی کو چھوتے رہیں دنیا کی طاقت اس کو ہرانہیں سکتی تھی دشمن نے اس کو مارا۔ دھرتی سے اس کے پاؤں اکھاڑ کر، دھرتی سے جدا کر کے، یہی حال میں اپنا سمجھتا ہوں۔ عام لوگوں کا بھی۔ لکھنے والوں کا بھی۔

ایسی خوبصورت بات کرنے کے بعد وہ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔ یہ بھی کافی دلچسپ ہے۔

یہ بنیادی جمہوریت ہے یہ مکان اوپر تک جائے گا لہٰذا اس کی بنیادیں مضبوط ہونی چاہیں۔ فارسی میں کہتے ہیں اگر کوئی معمار دیوار کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دے تو وہ دیوار آسمان تک ٹیڑھی ہی جائے گی(بشرطیکہ وہ آسمان تک پہنچ سکے) بنیاد مکان کے بننے سے پہلے ہی مضبوط ہوسکتی ہے بعد میں نہیں جیسا دو تین سال ہوئے کراچی کے ایک ٹھیکہ دار نے کیاتھا۔ اس ٹھیکہ دار نے مہاجرین کے لئے کواٹر بنائے۔ بن گئے تو معلوم ہوا کفایت کے خیال سے اس نے نیوکھودی ہی نہیں بلکہ زمین سے اینٹوں کی چنائی شروع کر دی تھی شکایت کی تو اس نے کہا۔ معاف فرمائیے گا بھول ہوگئی۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس مرحلہ پر دیوار میں مضبوطی تو کیالاسکتی ہے ان کا رہا سہا زور بھی بکھر گیا ہوگا۔ خیر پرانے دور میں اسی طرح کی لیپا پوتی رہی لیکن اب یہ بات نہیں ۔نئی یونین کونسلیں اپنا کام تو خیر کریں گی ہی، سڑکوں راستوں کا بنانا، گاؤں محلے صفائی روشنی کاانتظام جرائم کی روک تھام چھوٹے موٹے جھگڑوں کا فیصلہ جس کااختیار قانون نے کونسلوں کو دیا ہو۔ وغیرہ۔

٭٭

یہ ادیبوں کا پہلا گروہ ہے جس نے کشادہ دلی سے مارشل لاء کااستقبال کیا۔ یقینا انہیں اس کا فائدہ بھی ہوا ہوگا۔ ان بزرگوں نے ایک ایسی رسم ڈالی کہ پھر ہر ماشل لاء میں ادیبوں کے گروہ مارشل لا کی سربلندی کا جھنڈا اٹھا کر پھرتے رہے اور اس خدمت کے لئے قدرت اللہ شہاب جیسے مخلص اور دیانت دار افسر اور ادیب راہ ہموار کرتا رہے۔

ناصر کاظمی نے کہا ہے

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہم سا ہوگا

٭٭

ماہنامہ نیا زمانہ، لاہور جولائی 2006

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *