پاکستان میں پولیسینگ کا نظام اورڈئینل پرل کی لاش کیسے ملی

شرافت رانا

عملی زندگی میں پولیسنگ کیا ہوتی ہے اور کیسے ہوتی ہے۔ میں نیا نیا وکیل بنا تھا میرا پہلا کیس تھا۔ سائل پر بجلی چوری کا الزام تھا۔ میں نے قبل از گرفتاری ضمانت دائر کی ہوئی تھی۔ جج صاحب بہت سخت/ نالائق تھے ۔کسی بھی صورت میں قبل از گرفتاری ضمانت کو کنفرم نہیں کرتے تھے۔

سب ملزمان عمومی طور پر قبل از گرفتاری ضمانت کے بعد پولیس سے مک مکا کی کوشش کرتے تھے ۔ مجھے بھی میرے ملزم نے بتا رکھا تھا کہ پولیس مقدمہ خارج کرنے کے لیے پچاس ہزار روپے مانگ رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ سال 1995 کی بات ہے۔ گھریلو کنکشن پر بجلی چوری کا الزام عائد کیے جانے پر پولیس کی جانب سے یہ بہت بڑی ڈیمانڈ تھی۔ ملزم نے مجھے ایک تاریخ لینے کے لیے کہا۔ اور حسب خواہش تاریخ لے لی گئی۔

اگلی تاریخ سے قبل جج صاحب موصوف کے خلاف بار نے سٹرائیک کال کی اور ان کا تبادلہ ہو گیا۔ نئے جج صاحب تشریف لائے۔ سائل ابھی تک پولیس کو ادائیگی کے لئے رقم کے بندوبست کی تگ و دو میں تھا ۔ پرانے رواج کے مطابق اسے خدشہ تھا کہ اس کی ضمانت کینسل ہو جائے گی اور وہ پکڑا جائے گا۔ عدالت میں آواز پڑی اور میں ملزم کی جانب سے جج صاحب موصوف کے سامنے پیش ہوا۔

اب یہ نئے جج بہت ہی شاندار انسان اور قانون کا فہم رکھنے والے منصف مزاج جج تھے ۔

ملزم خوف کے مارے غیر حاضر تھا۔ اس کی بابت انہوں نے پوچھا کہ کیا ملزم زندہ تو ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کسی وجہ سے لیٹ ہو گیا ہے ابھی گھنٹہ دو گھنٹے میں آ جائے گا۔

جج صاحب نے پوچھا گھریلو کنکشن ہے یا کمرشل۔

میں نے بتایا کہ گھر کا کنکشن ہے۔

جج صاحب موصوف نے پچاس ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا جس کا مطلب ہے کہ ضمانت کنفرم کر دی گئی ہے۔ میں خوشی خوشی باہر آیا تو ظاہر ہے باہر ملزم موجود تھا۔ اور اس کے ساتھ تفتیشی افسر بھی موجود تھا۔ میں نے تفتیشی افسر کو بتایا کہ اس کی ضمانت کنفرم ہو گئی ہے۔ ملزم خوشی خوشی میرے ساتھ چلنے لگا اور تفتیشی افسر اس کے پیچھے پیچھے میں نے ملزم سے پوچھا کہ اب یہ تفتیشی افسر کیا کہہ رہا ہے۔

ملزم نے بتایا کہ کہ ضمانت کا حکم سننے سے پہلے 50000 پر اڑا ہوا تھا اب کہہ رہا ہے کہ 500 روپے فائل کے اخراجات کے لیے تو دے دو ۔

سنگین سزاؤں کے بیوپاری دنیا کے عملی عدالتی نظام کو نہیں سمجھتے۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ جب بھی سنگین سزائیں رکھی جاتی ہیں ۔ تو ان کی صورت میں ملزمان میں صرف اور صرف پولیس کو بھاری رقوم ادا کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں ۔ محترم وزیر اعظم ذہنی طور پر مفلوج اور کسی بھی طرح کی نظام کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے انسان ہیں۔ مجرم کو مردانہ صلاحیت سے محروم کر دینے کی سزا ہو یا سزائے موت ۔ ہر دو صورتوں میں تفتیشی آفیسر کا کردار بڑھتا ہے اور پولیس کی کمائی بڑھتی ہے۔

قتل جیسا جرم عمومی طور پر دشمنی کی بنیاد پر ہوتا ہے اور اس میں قابل سزا شہادت دستیاب آنے کے کافی امکانات ہوتے ہیں۔ گینگ ریپ جیسے جرائم میں 80/70 فیصد شناخت پریڈ بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وقوعہ اچانک اور بہت زیادہ دہشت پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ ٹراما کی صورت میں مظلوم خاتون ممکن ہے کہ شناخت پریڈ میں ناکام ہو جائے۔ اس صورت میں پولیس کی جانب سے ذرا سا بھی کمزور استغاثہ یا چالان ملزم کو فائدہ دینے کا سبب بن سکتا ہے ۔

تصوراتی بات کی حد تک تالیاں پیٹنے کی غرض سے کیے گئے فیصلے یا اعلانات عدل کے نظام کو مستحکم یا طاقتور نہیں بناتے ۔ بلکہ پہلے سے زیادہ سوالات اور الجھن پیدا کرتے ہیں ۔ سنگین ترین جرم میں دس سال سزا ۔ موجودہ نظام میں دس سال سزا چار سال میں پوری ہو جاتی ہے۔ آپ اسے سزا کے طور پر 25 سال تجویز کردیں۔ میرے خیال میں 25 سال قید با مشقت کسی بھی بڑے سے بڑے سنگین جرم کے لئے کافی اور موثر سزا ہے۔

بنیادی سقم جو ہمارے نظام میں ہے وہ تفتیش کا نظام ہے۔تفتیش کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ تفتیشی آفیسر کی صوابدید کم کی جائے اور اس کی نگرانی کے عمل کو بہتر بنایا جائے۔

مثال کے طور پر عرض کر دیتا ہوں کہ ڈینیئل پرل کے کیس میں پاکستانی پولیس نے تین سو سے زیادہ لوگوں کو مسنگ بنا دیا تھا۔ تین ہزار سے زیادہ لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مگر ڈینئیل پرل کی نعش دستیاب نہیں ہو سکی تھی۔ فرانسیسی آبدوز بنانے والے انجینئرز پر حملہ کے بعد فرانسیسی تفتیشی افسران پاکستان آئے۔ اور انہوں نے آواری ہوٹل کے کمرہ میں ملزم کو چائے پلا کر اس سے گپ شپ لگا کر ڈینیل پرل کا کیس حل کر دیا تھا اور اس کی نعش برآمد کروا دی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *