سائبر اسلامزم

فرانس میں اسلامی انتہا پسندی کی لہرسے ایک نئی اصطلاح نے جنم لیا ہے وہ ہے سائبر اسلامزم۔ فرانس کی حکومت نے سوشل میڈیا کی تمام کمپنیوں، فیس بک ، ٹوئٹر، گوگل، یو ٹیوب، انسٹا گرام، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کے نمائندوں کو بلا کر کہا ہے کہ فیس بک پر مذہب کے نام پر جو نفرت انگیز پیغام جاری کیےجاتے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے۔

فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ مسلمان انتہا پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر سکول کے استاد کے قتل کے فتوے جاری کیے گئے تھے۔حکومت نے کہا ہے کہ یہ سائبر اسلامزم ہے اور اس کی روک تھام کرنا سوشل میڈیا کافرض ہے۔حکومت نے الزام لگایا کہ فیس بک اور یوٹیوب انتہا پسند گروپوں کی اس طرح مدد کررہے ہیں کہ ان کا” الگرتھم یعنی کمپویٹر پرامنگ” ایسی ہے کہ وہ لوگوں کو متنازعہ اور انتہا پسندانہ مواد دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے

یاد رہے کہ جب فرانس کے سکول کے ایک استاد نے اپنی کلاس میں آزادی اظہار رائے پر بات کرتے ہوئے مختلف کارٹون دکھائے جس میں حضرت محمد کا کارٹون بھی شامل تھا جو فرانسیسی مجلے چارلی ہیبڈو میں شائع ہوا تھا تو سوشل میڈیا پر اس استاد کے خلاف مہم شروع ہوگئی تھی۔ مسلمان انتہا پسند تنظیموں اور ان کے ارکان نے اس استاد کے خلاف قتل کرنے کی مہم چلائی جس کے نتیجے میں چیچنیا کے ایک نوجوان نے چھری سے اس کا سر قلم کردیا۔

اس واقعے کے بعد فرانس میں مسلمان تنظیموں اور ان کے ارکان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوچکی ہے۔ استاد کے قتل کی ترغیب دینے والے پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں اور مزید کاروائیاں کی جارہی ہیں اور ان کو ملک بدر کرنے کے احکامات بھی جاری ہورہے ہیں۔یاد رہے کہ

فرانسیسی صدر ماکروں نے گذشتہ ہفتے پیرس میں پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں پر ایک استاد کے قتل کے بعد ملک کی سیکولر اقدار کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ فرانس میں ریاستی سیکولرازم اس کے شہریوں کی قومی شناخت کا حصہ ہے اور ریاست آزادی رائے کا تحفظ چاہتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ایک بات سمجھنی چاہیے کہ ان کی مغربی ممالک آنے کی بنیادی وجہ روزگار کمانا ہی نہیں ہے بلکہ ان ممالک میں آزادی اظہاررائے، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوریت ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کو اپنے معاشروں میں جگہ دیتے ہیں اور جگہ دینے کا مطلب یہی ہے کہ وہ ان ممالک کی اقدار سے ہم آہنگی پیدا کریں۔

مسلمانوں کو اپنے آپ کو تمام مذاہب سے بالا تر سمجھنے کی سوچ سے نکلنا ہوگا اور دوسرے مذاہب کے عقائد کا احترام بھی کرنا ہوگا۔شدت پسندی کا جواب شدت پسندی سے نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے مسائل کو تحمل اور بردباری سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ قانون کو ہاتھ میں لینےسے مسئلہ حل ہوتا ہے۔

web desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *