اب مغرب کو فیصلہ کرنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کب لڑنی ہے؟

خالد تھتھال

مغربی ممالک عجیب مخمصے کا شکار ہیں، ایک طرف اُن کی وہ اقدار ہیں جو روشن خیالی کی تحریک کے دوران پیدا ہوئیں، ترتیب ہوئیں، جو اُنھیں اپنے ماضی کے مشاہیر، جیسے والٹئیر، کی یاد دلاتی ہیں، اور دوسری طرف وہ اپنے ممالک میں مقیم مسلمان آبادی اور عالمی طور پر مسلمان ممالک کی وجہ سے پریشان ہیں۔ایک طرف ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کر پا رہے ، اور دوسری طرف اُن کے اپنے ممالک اُن کے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہیں۔

پچھلے دو تین سو سالوں میں یہ روایات اور اقدار ان معاشروں میں رچ بس گئی ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کے تحت کسی بھی نظریے یا عقیدے کو رد کرنا، تنقید کرنا، تضحیک کرنا اُن کے نزدیک معمول کی بات ہے۔ اگر وہ عیسیٰ و موسیٰ کے کارٹون بنا سکتے ہیں تو پیغمبر اسلام کے خاکوں کو کیوں کسی قسم کا استثنیٰ دیا جائے، خصوصی طور پر جب اس عقیدے کے ماننے والے مغربی ممالک میں نت روز کسی پر گاڑی چڑھا دیتے ہیں، چھریوں سے حملہ آور ہوتے ہیں، دھماکے کرتے ہیں۔

مغربی حکومتوں کا مسئلہ ہے کہ آج کے دنیا میں کٹ کر نہیں رہا جا سکتا، انھیں سب ممالک سے تعلقات رکھنا ہوتے ہیں، اور ان میں وہ مسلمان ممالک بھی شامل ہیں جو پیسے والے ہیں، مغربی ممالک کی مصنوعات کے گاہک ہیں، لیکن ثقافتی طور پر انتہائی پسماندہ ہیں۔ ان ممالک اور ان کے عوام کو برداشت نہیں کہ کوئی اُن کے عقیدے سے ہٹ کر کچھ کہے یا کرے، اور اگر ایسا ہو تو گھیراؤ ، جلاؤ ، بائیکاٹ کی تحریکیں چلاتے ہیں۔ لیکن جب مغربی ممالک میں کوئی دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے تو یہ خاموش رہتے ہیں، ایسی دہشت گردان کاروائیاں کرنے والوں کا تعلق اسلام سے توڑ کر عقیدے کا دفاع کرتے ہیں، یا زیادہ سے زیادہ کوئی مذمتی بیان دے دیتے ہیں۔

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد بس چکی ہے، جن کی اکثریت مذہبی سوچوں کے حوالے سے مسلمان ممالک میں مقیم لوگوں کی عمومی سطح سے اوپر نہیں آ سکی۔ چونکہ مغربی ممالک میں سب کو برابری کے حقوق دستیاب ہیں ، چنانچہ حکومتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان مہاجرین کو معاشرے کا اس طرح حصہ بنائیں کہ ملک کے اندر امن و سلامتی کی فضا برقرار رہے، ملک کا ہر شہری یا باسی معاشرے کا مفید کارکن بن کر معاشرے کی ترقی اور بقا میں اپنا حصہ ڈالے۔

پناہ گزینوں کو مقامی معاشرے کا حصہ بنانے کے لیے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں۔ مذہبی آزادی اور مذہبی حوالے سے برابری کے حقوق ہونے کی وجہ سے ان پناہ گزینوں کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کے لیے نہ صرف مساجد اور دیگرعبادت گاہیں بنانے کی اجازت ہوتی ہے، بلکہ انھیں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس سے مساجد اپنے اخراجات پوری کرتی ہیں۔

آج تک دیکھا گیا ہے کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے تو مقامی معاشرے کا حصہ بنتے گئے لیکن مسلمانوں کے حوالے سے سب کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔ کیونکہ انھوں نے کبھی مقامی معاشرے کو دل سے اپنایا ہی نہیں۔ یہاں آنا ان کی معاشی و سماجی مجبوری ہوتی ہے وگرنہ ان کا دل اپنے ملک کے علاوہ اپنے دین کے لیے دھڑکتا ہے۔ جس کا مختلف اوقات میں عملی اظہار ہوتا رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کو پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔

حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی مجبوری اپنی جگہ کہ وہ مسلمانوں کے ہر جائز و ناجائز مطالبے کو مانتے ہیں،ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت کو ”مٹی پاؤ“ کے طرز عمل سے نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ لوگ ایک وقت میں مقامی معاشرے کا ویسے ہی حصہ بن جائیں گے جیسے مقامی لوگ ہیں۔ مسلمانوں سے سیاسی جماعتوں کے عشق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک معقول ووٹ بنک بن چکا ہے۔ اور اس کا اظہار جو بائیڈن کی تقریر میں بھی ہوتا ہے، جہاں وہ مسلمانوں ووٹوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کہتا ہے کہ اگر وہ منتخب ہو گیا تو امریکی سکولوں میں اسلام کے متعلق تعلیم میں اضافہ کرے گا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مغربی ممالک کے مقامی عوام سمجھوتے کرنے کو ملک اور اپنی مقدس روایات سے غداری گردانتے ہیں۔انھیں مسلمانوں کے بڑھتے مطالبات سے تو مسئلہ ہی ، لیکن انھیں زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم بھی ہو جاتا ہے۔ ایک تازہ ترین مثال دیتا ہوں کہ ناروے میں پاسپورٹ کے لیے فوٹو پاسپورٹ آفس والے ہی لیتے ہیں، جہاں آپ کو سر پر ٹوپی یا کوئی اور اوڑھنے پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چند ماہ پہلے ناروے میں موجود ایک سلفی جماعت کی ترک نژاد رکن نے رونے کی اداکاری کرتے ہوئے بیان دیا کہ اُسے تصویر کھنچواتے وقت سر سے حجاب ہٹانا پڑا ہے جو اُس کے مذہبی حقوق اور عقیدے پر ایک ضرب ہے۔ چند دنوں بعد بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن تازہ خبر کے مطابق پاسپورٹ آفس نے سر ننگا رکھنے والی شرط ہٹا دی ہے۔

چنانچہ ایک طرف مسلمان ہیں، اور کسی حد تک مغربی سیاسی جماعتیں بھی اُن کے ساتھ ہیں، انتہائی دائیں بازو کے گروہ مضبوط ہو رہے ہیں، اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے۔اور کہا جا سکتا ہے کہ ایک جنگ مغربی ممالک کا انتظار کر رہی ہے، جسے یہ ٹال تو سکتے ہیں لیکن اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ انھیں جلد یا بدیر اسلام کے حوالے سے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔

اگر اس وقت فرانس کو جھکنا پڑا تو ، تو دوسرے چھوٹے یورپی ممالک کو تو اسلام کے سامنے سر جھکانا لازم ہو گا۔ چونکہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے، لہذا خانہ جنگی قسم کی کوئی چیز اگر مستقبل میں سامنے آئے تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہو گی۔

اب مغرب کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جنگ اُنھوں نے کب لڑنی ہے۔ اب لڑیں گے تو جنگ مقابلتاً آسان ہو گی، جوں جوں وقت گزرے گا تو یہ جنگ مشکل تر ہوتی جائے گی۔آج کے وقتوں میں اسلام انسانیت کے جسم میں پھوڑے کی شکل اختیار کر گیاہے، اس کا جتنی جلدی آپریشن کیا جائے، نسل انسانی کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *