گوجرانوالہ : پی ڈی ایم کا جلسہ

خالد محمود گوجرانوالہ

اس تاریخی جلسے کو رکوانے کے لئے انتظامیہ اور سیاسی کارکنان کی آنکھ مچولی پچھلے کئی دنوں سے جاری تھی۔بلاوجہ چھاپے اور گرفتاریوں سے سیاسی ماحول کی گرمی کم کرنے کی کوششیں آخری وقت تک جاری رکھی گئیں تھیں۔ مسلسل چاردیواری اور کارنر میٹنگ پر پولیس گردی جاری رکھی گئی تھی۔مسلم لیگ( نواز) کے ایم این اے خرم دستگیر کی رہائش گاہ کے سامنے صبح سے ایک بڑاٹریلر اس طرح کھڑا کیا گیا تھا کہ نہ کوئی گاڑی گیٹ سے باہر جا سکے اور نہ اندر داخل ہو سکے ۔اس مذموم حرکت کی وجہ سے شہریوں کو پریشان کیا گیا اور انہیں جبراً راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

آخر کار مسلم لیگ نواز اور دوسرے مقامی راہنمائوں کی بروقت مزاحمت سے یہ کنٹینر سڑک کے ایک طرف سرکا دیے گئے تھے ۔ایک طرف حکمران لال بجھکّڑ میڈیا پر بار بار اس دعوے کی جگالی کر رہے تھے کہ لوگ نہیں آئیں گے سٹیڈیم بھر کے دکھائیں۔ دوسری طرف مہنگائی کی ماری عوام نے نہ صرف سٹیڈیم بھر کے دکھا یا بلکہ شہر کی سڑکیں بھی بھر کے دکھا دیں تھیں۔جو بزرگ شہری سٹیڈیم میں داخل نہ ہو پائے وہ رات بھر لائیو کوریج کے لئے ٹی وی سکرین کے آگے بیٹھے رہے۔یہ حقیقت ہے کہ جتنے لوگ سٹیڈیم کے اندر موجود تھے اس سے کئی گنا زیادہ لوگ سٹیڈیم کے باہر سڑکوں پر موجود تھے۔ سیالکوٹ ، ناروال،گجرات ،حافظ آباد،منڈی بہاء الدین اور گوجرانوالہ کے اضلاع کے علاوہ دور دراز سے اس جلسے میں شریک ہوئے تھے ۔گوکہ درپیش مشکلات اور مسائل ابھی ٹلے نہیں ہیں مگر لوگوں کے چہرے پر امید، بشاشت اور تحیر قابل دید تھا۔

میر تقی میرؔ کا شعر یاد آگیا ہے

دیدنی ہے شکستگی دل کی

کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے

عاشقان عمران خان کے اترے ہوئے چہرے بتا رہے تھے کہ ریت اقتدار کے ایوانوں سے پھسلنا شروع ہو گئی ہے۔

متحدہ حزب مخالف کے اس جلسے نے ایک طویل سیاسی جمود کو توڑا ہے۔مقتدر قوتوں اور کرایہ دار حکومت نے پچھلے دوسال سے زائد عرصے میں مسلسل ناقص کارکردگی،نیب گردی اورجبری گمشدگیوں کی بدولت ملک بھر میں ایک غیر سیاسی جمود طاری کر رکھا تھا جس پر شدید مہنگائی نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے ۔ جلسے کی جتھا بندیوں اور جلسے کی کامیابی سے لگتا ہے کہ آخر کار 16 اکتوبر سے یہ سیاسی جمود ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔

مجھے یاد ہے جب افتخار چوہدری کی ریلی جی ٹی روڈ پر سرک رہی تھی تو مشہور کالم نگار ارد شیر کاو س جی نے کہا تھا کہ افتخار چوہدری کسی طاقتور یقین دہانی کے بغیر ایسی جسارت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔خدا کرے کہ اس مرتبہ معاملہ ویسے نہ ہو۔

ایک امید واثق یہ بندھی ہے کہ اس دفعہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بلاول زرداری بھٹو کی قیادت میں سوتے اور روتے ہوئے پنجاب میں ایک نئی روح بیدار کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔لالہ موسیٰ سے قمر زمان کائرہ ، منڈی بہاء الدین سے آصف بشیر بھاگٹ گوجرانوالہ سے اظہر حسن ڈار اور وزیر آباد سے اعجاز سماں کی دن رات ان تھک محنت سے گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی کی بیداری کا نیا دور شروع ہوا ہے۔

پنجاب کو این ایف سی سے جو پانچ سو ارب روپے اب تک نہیں دیے گئے بلاول زرداری بھٹو نے اس کی ادائیگی کا مطالبہ بروقت اٹھایا ہے۔جیسے جیسے پنجابیوں کو پنجاب کا این ایف سی سے اپنا حصہ نہ ملنے کا ادراک ہونے لگے لگا اور وہ بے خوف اس پر سوال اٹھانے لگیں گے اور اپنے فنڈز کی خرد برد پر باز پُرس اور واپسی کا تقاضا کرنے لگیں گے تیسے تیسے پنجاب کا سیاسی نقشہ بھی تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا۔ گو اس سے بہت سے مفت خوروں کے پیٹ میں مروڑ اٹھیں گے ۔ا نہوں نے پارلیمان کی بالادستی، پبلک فنڈز کا عوام کی بہبود پر نہ خرچ ہونا، صوبائی خود مختاری پر ڈاکہ زنی اور ملک کو صحیح معنوں میں جمہور یہ بنانے کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے لانگ ٹرم جمہوری اقدامات کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا۔بلاول بھٹو کے پنجاب آنے سے ایک نئی لہر اٹھی ہے اور امید ہے کہ یہ ایک مثبت تبدیلی کی طرف اگلا قدم ہے۔

میاں نواز شریف نے بغیر کسی تمہید کے براہ راست غریب عوام کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کے ان کے دل جیت لئے ہیں۔ان کا چولہوں ،بال بچوں اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے وقت کے آنسوں کا حال احوال پوچھ لینے سے خود پرست ، خود پسند ’’میں نہ مانوں‘‘ فاشزم کا چھابہ الٹا دیا ہے ۔

گوجرانوالہ جلسہ ایک نئی بیدداری اور نئی شروعات کا آغاز ہے۔ امید ہے کل کراچی جلسہ ایک ملک گیر عمل انگیزی اور بیداری کا سبب بنے گا۔ ہم امید اور دعا ہی کر سکتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کے خطاب میں ایک مخصوص مقتدرمائنڈ سیٹ پر فرد جرم محض عبوری اور ہنگامی نہ ہو بلکہ اس سے جمہوری اقدار کی مضبوطی جاری اور ساری رہے۔

عوامی تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ عمران خان اقتدار ملنے سے پہلے مقتدر جرنیلوں پر کھلی تنقید کرتا تھا مگر اقتدار ملتے ہی وہ بذاتِ خود اسی مقتدرہ کا ربر سٹیمپ بن کے رہ گیا ہے۔خدا کرے کہ ملک میں جمہوریت اور معشیت ایک ساتھ مضبوط ہوں۔اور یہ جوش و جذبہ جمہوریت کی پائیداری کی خاطر قائم دائم رہے۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *