مسلم انتہا پسندوں کی طرف سے “متوازی معاشرہ” قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

فرانس کے صدر ایمانویل ماکروں نے کہا ہے کہ فرانس جیسے سیکولر ملک میں مسلم انتہا پسندوں کی طرف سے ایک متوازی معاشرہ‘  قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جمعے کو پیرس کے مغربی نواح میں ایک اہم خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسلام اس وقت دنیا میں ایک بحران سے دوچار ہے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فرانسیسی جمہوریہ میں بیرونی مداخلت سے پاک روشن خیال اسلام‘ کی بہت گنجائش موجود ہے۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ان کے ملک میں کہیں بھی کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ مذہب کا سہارا لے کر ایک ایسا علیحدہ متوازی معاشرہ بنانے کی کوشش کرے جو فرانس کی اقدار سے متصادم ہو۔

فرانس میں اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے، جہاں لگ بھگ 60 لاکھ مسلمان بستے ہیں۔ بیشتر مسلم خاندان پرامن اور اعتدال پسند ہیں۔حکومت کے مجوزہ قانون پر وہاں مسلم برادری رہنماؤں میں خدشات ہیں کہ اس سے اسلاموفوبیا‘ اور ان کے خلاف تعصب کو مزید ہوا ملے گی۔

صدر ماکروں کے مطابق مسلم اکثریتی محلوں میں مذہبی آزادی کی آڑ میں انتہاپسندی، نفرت اور تشدد کا پرچار کرنے والے فرانس کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ فرانس کے گلی محلوں میں انتہاپسندی روکنے کے لیے حکومت ایک نیا قانون لا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس قانون کے ذریعے مقامی سطح پر مذہبی اور سماجی تنظیموں کے مالی معاملات کی بہتر نگرانی کی جائے گی، انتہا پسندی پھیلانے والے نجی مدارس کے خلاف کارروائی ہوگی اور مذہب کے نام پر بچیوں اور خواتین پر قدغنیں لگانے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

فرانسیسی صدر کے مطابق نئے اقدامات کے تحت فرانس میں پبلک سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو اب نجی شعبے میں بھی لاگو کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگلے سال سے تمام بچوں کے لیے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں، اسکول جانا لازمی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد تربیت یافتہ شہری پیدا کرنا ہے نہ کہ مذہبی جذبے سے سرشار پیروکار۔

فرانس میں 1905 کے سیکولر قانون کے تحت لوگوں کی اکثریت مذہب اور ریاست کو الگ الگ رکھنے کی حامی ہیں۔ صدر ماکروں کی طرف سے مذہبی انتہاپسندی کے خلاف کڑا موقف ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پیرس میں 2015 کے شدت پسند حملے کے ایک درجن ملزمان کے خلاف حال ہی میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی ہے۔

اس حملے کا نشانہ  پیغمبر اسلام کے متنازعیہ خاکے شائع کرنے والا طنزیہ میگزین شارلی ایبدو تھا۔ اس کارروائی میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں متنازعہ خاکے بنانے والا کارٹونسٹ بھی شامل تھا۔

dw.com/urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *