امریکہ: پہلی ترمیم اور جبری مذہبی تعلیم


رپورٹ: خالد محمود

پچھلے ہفتے امریکن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے ) کی وکیل نے ریاست اوکلاہوما کی اڈیر کاوئنٹی کے میری ایٹا پبلک سکولز کے خلاف امریکی آئین کی تسلیم شدہ شق کی خلاف ورزی پر ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ان سکولز نے یہ حکم جاری کیا ہے کہ تمام نوجوان طلباء سکول کے اوقات میں’’انجیلی بشارت‘‘ کی مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔

اے ایچ اے کی لیگل ڈائریکٹر اور سینئر وکیل مانیکاملّر نے کہا ہے کہ میری ایٹا سکولزکے عہدے داروں نے اپنے ہی طلباء کے پہلی ترمیم کے تحت تسلیم شدہ حق کی خلاف ورزی کی ہے۔

میری ایٹا سکولز کئی دہائیوں سے عیسائی مبلغین کو اپنی پری کنڈر گارٹن سے آٹھویں جماعت تک طلباء کے لئے ایک گھنٹے کے دورانیے پر محیط ماہانہ مشنری درس کے لئے لا رہے ہیں۔ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کلاس کے دوران تین عیسائی مبلغ ’’اسیر سامعین ‘‘ کو عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔سکول عہدے دار اپنے براہ راست اختیار کے تحت بچوں میں سکول اوقات کے دوران بائبل اور کلر بکس بانٹتے ہیں اور یسوع کی مدح سرائی کے نغمات گانے پر مجبور کرتے ہیں۔غیر عیسائی طالب علموں کو ان کے والدین کی رضامندی اور اجازت کے بغیران مشنری کلاس میں جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

مانیکا ملّر نے وضاحت کی کہ کوئی بھی معقول سکول عہدے دار یہ نہیں مان سکتا کہ سکول کے اوقات کے دوران چرچ عہدیداروں کے زیر قیادت مشنری کلاس کو چھوڑنے کا اختیار دیے بغیر اُس میں جبری حاضری کسی بھی طرح سے ایک آئینی اقدام ہے۔

اے ایچ اے نے اپنے اراکین جن میں دو والدین اور ان کی پانچ سالہ بیٹی بھی شامل ہے جسے والدین کے اعتراض کے باوجود مشنری کلاس میں جبری حاضری پر مجبور کیا گیا تھا کی جانب سے اوکلاہوما کے شرقی ضلع میں یُو ایس کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کی ہے۔

امریکن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کا یہ مقدمہ طلباء کو پہلی ترمیم کی بدولت حاصل حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور اس سے ہونے نقصانات کے ازالے کی پیروی کرتا ہے جو ان سکولز کے متعدد نامزد عہدے داران کے ذاتی اختیار کی وجہ سے پہنچے ہیں۔

مانیکاملّر نے مزید کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان سکولز نے ’’مشنری‘‘پروگرام نہ صرف کئی دہائیوں سے چلایا ہے بلکہ اس میں چار سالہ کم سِن بچوں کو بھی ان کے والدین کی اجازت اور علم کے بغیر زبردستی حصہ لینے پر مجبور کیا ہے اور اس اقدام کی وجہ سے اس مقدمے کو تعزیتی نقصانات کے ازالے کے لئے مناسب بنا دیا ہے۔

شکایت سے پانچ سالہ بچی کی گواہی منسلک ہے۔وہ کہتی ہے،’’ میں مشنری کلاس میں ہمیشہ پریشان رہی ہوں کیونکہ مجھے خدا پر یقین کرنے کا ناٹک بالکل بھی پسند نہیں ہے‘‘۔اس کی ماں نے تصدیق کی ہے کہ مشنری کلاس کے کئی روز بعد تک اس کی بچی غمگین اورمرجھائی رہی ہے۔

جیسے ہی والدین کو اس جبری کلاس کا علم ہوا انہوں نے فوراً اے ایچ اے  سے رابطے کئے ہیں اور سکول عہدے داروں کو اپنے اعتراضات سے آگاہ کیا ہے۔اس کے باوجود سکول عہدے داروں نے بچی کو زبردستی مشنری کلاس میں جانے پر مجبور کیا ہے۔

مقدمے کی تفصیل درج ذیل لنک میں دی گئی ہے

: https://thehumanist.com/news/aha_news/aha-sues-oklahoma-school-district-over-forced-christian-proselytization

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *