نیا زمانہ کی ڈائری ۔۔۔۔ 10

یاد رہے کہ نائن الیون کے بعد دنیا کے کونے کونے سے آئے مسلمان جو افغانستان میں جہاد کے لیے آئے تھے وہ واپس اپنے اپنے ملکوں روانہ کر دیئے گئے۔ ان سب کی تربیت پاکستان میں ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا تو اس کا کھرا پاکستان جاتا تھا۔اب دنیا بھر میں داعش یا القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد تنظیموں کی کاروائیاں ختم ہوچکی ہیں ۔ اس میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب کے جن شہزادوں یا امیر شہریوں کی طرف سے ان تنظیموں کو جو مالی امداد دی جاتی تھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے اس کا سختی سے قلع قمع کیا ہے۔

غالباً 2009 کی بات ہے کہ نیا زمانہ میں غالباً انگریزی ماہنامے ہیرالڈ یا نیوز لائن میں چھپنے والی ایک رپورٹ کا ترجمہ شائع ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ بنگلہ دیش میں ایک جہادی گروپ نے کاروائی کی ہے اور جب بنگلہ دیش کی حکومت نے ان کو پکڑا اور تفتیش ہوئی تو ان کا تعلق فیصل آباد کے ایک سلفی مدرسے سے نکلا جہاں وہ دینی تعلیم کے لیے گئے تھے اور پھر ان کو جہاد کے لیے منتخب کرکے ان کی تربیت ہوئی۔

نامور لکھاری اور کالم نگار ،حمید اختر مرحوم ان دنوں ایکسپریس اخبار میں کالم لکھتے تھے، نیا زمانہ کی رپورٹ پڑھ کر انھوں نے اس پر کالم لکھ دیا۔ اگلے دن مجھے فون کرکے کہنے لگے کہ بھئی تم نے جو رپورٹ شائع کی ہے وہ درست بھی ہے کہ نہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ رپورٹ ہیرالڈ میں شائع ہوئی ہے وہ آپ خود دیکھ لیں ۔ میں نے تو اس کا ترجمہ کیا ہے تو کہنے لگے کہ مجھے اور ایڈیٹر کو فیصل آباد مدرسے والے فون کررہے ہیں کہ تم جھوٹ بک رہے ہو اور اگلے کالم میں معافی مانگو۔ میں خود ڈر گیا میں نے کہا جناب جو آپ بہتر سمجھتے ہیں کر لیں اور پھر اگلے کالم میں حمید اختر نے ایک قسم کا معذرت نامہ لکھا کہ کچھ غلط فہمی ہوگئی تھی اور رپورٹ غلط تھی جبکہ مذکورہ مدرسے میں بہترین دینی تعلیم دی جاتی ہے وغیر ہ وغیرہ۔

فیصل آباد کا دہشت گردی کی تربیت میں کافی عمل دخل ہے شاید اس لیے کہ تاجر برادری کھل کر جہاد کے لیے فنڈ دیے دیتی ہو، فیصل آباد جیل میں کسی زمانے میں سکھوں کو بھی دہشت گردی کی تربیت دی جاتی رہی تھی اور انہیں خالصتان کی ریاست بنانے کے لیے سرحد پار امرتسر دہشت گردی کے لیے بھیجاجاتا تھا۔

خالصتان کی تحریک کا نقطہ عروج گولڈن ٹمپل پر بھنڈرا سنگھ والا کی قیادت میں خالصتانی سکھوں کا قبضہ تھا۔ جس پر اندرا گاندھی کی حکومت نے ایک خونیں آپریشن کیا اورسکھوں کی بڑے پیمانے پر قتل وغارت بھی ہوئی۔ انہی دنوں سکھوں نے اپنی جان بچانے کے لیے مغربی ممالک خاص کر کینیڈا میں پناہ لی۔

بعد میں انہی خالصتانیوں میں سے ایک سکھ نے اندرا گاندھی کی جان بھی لی۔

کچھ خالصتانیوں کو پاکستانی ریاست نے ابھی بھی پناہ دے رکھی ہے اور آئی آیس آئی کی نگرانی میں لاہور کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ انہی میں سے ایک گروپ کے ساتھ میری ملاقات سبط الحسن ضیغم کے گھر ہوتی تھی اور بعد میں ایک آدھ دفعہ پرویز مجید کی درخواست پر نیا زمانہ کے دفتر بھی تشریف لائے تھے۔

آئی ایس آئی کا کمال ہے کہ وہ مذہب کے نام پر چاہے وہ سکھ ہوں یا مسلمان انہیں جہاد کے لیے آمادہ کر لیتی ہے۔آئی ایس آئی نے توامریکی سی آئی اے کے ایجنٹ ڈیوڈ ہیڈلے عرف داؤد گیلانی کو بھی رام کرکے لشکر طیبہ میں بھرتی کرادیا تھا جس نے بعد میں ممبئی حملوں میں ممبئی میں تمام لاجسٹک سپورٹ کا بندوبست کیا تھا۔۔ اس کی تفصیل پھر کبھی سہی۔۔۔

نیا زمانہ کی ڈائری سے اقتباس، محمد شعیب عادل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *