صدر ٹرمپ، نسل پرستی اور اقبال احمد

سلمان یونس

ٹرمپ کی شکست سے نسلی تفاخر و تعصب کی سیاست پر بھی ضرب لگی ہے، میں جب طالبعلم کی حیثیت سے امریکہ آیا تو یہ ملک نسل پرستی کی گرفت میں تھا جنوب میں قتل و غارت گری جاری تھی ۔ میں ایک جاپانی اور برازیلین دوست کے ساتھ ممفس (ایریزونا) گیا تو چار گھنٹوں تک ہم ٹھہرنے کے لیے کوئی ہوٹل نہ ملا کیونکہ ہم رنگدار تھے ایک زرد تھا ایک بھورا تھا ایک کالا تھا آخر ہمیں ایک باڑے میں شب بسری کے لیے جگہ ملی ۔

دو برس بعد لنچ کاونٹروں اور ہوٹلوں میں رنگ و نسل کا امتیاز ختم ہو رہا تھا۔دس برس بعد جب میں ممفس گیا تو شیرٹن ہوٹل میں ٹھہرا ۔ میں جب وہاں پہنچا اور ٹیکسی سے اترا تو جس لڑکے نے میرا سامان اٹھایا وہ سفید فام تھا ۔ میں اتنا خوش ہوا کہ اسے دس ڈالر ٹپ کے طور پر دے دیے حالانکہ مجھ میں اتنی مالی استطاعت نہ تھی ۔ وہ لڑکا میرا سامان کمرے میں رکھ کر چلا گیا تو میں بیٹھ کر رونے لگا۔یہ بہت بڑی تبدیلی تھی ، یہ تبدیلی لانے کے لیے بہت بڑی جدو جہد کرنی پڑی تھی۔

یہ روداد ہے بائیں بازو کے مشہور مفکر اقبال احمد کی جو پچاس کی دہائی میں تعلیم کی غرض سے امریکہ آئے تھے ۔اقبال نے یہ روداد ڈیوڈ برسمیین کو ایک انٹرویو کے دوران سنائی ۔ (سامراج کے مدمقابل)۔

یہ روداد حالیہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے حوالے سے یوں یاد ٓاگئی کہ ڈانلڈ ٹرمپ کی شخصیت ، سیاست اور طرز حکمرانی کی ایک غالب پہچان ان کا نسلی تفاخر، نسل پرستانہ ذہنیت اور ہم وطنوں کے ساتھ رنگ نسل مذھب کی بنیاد پر نفرت ، تعصب ، تضحیک اور تذلیل پر مبنی رویہ اور پالیسیاں تھی۔ جنھوں نے سی این این کے افریقی نژاد اینکر وین جونز کو ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست پر گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ کر دیا ۔

اگر چہ سیاست میں وارد ہونے سے پہلے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت ایک متعصب نسل پرست شخص کے طور پر تھی لیکن سیاست میں آنے کے بعد ٹرمپ نے اپنی سیاست کا محور امریکہ کی سفید فام آبادی کے ایک حصے میں اپنی نسلی و عددی برتری کے مٹتے ہوئے احساس کو ابھارنے اور ہوا دینے کو بنایا۔

ٹرمپ کی حالیہ انتخابی شکست جس میں قریبا 75 ملین امریکیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالا، بھی دراصل اسی نسل پرستانہ تعصب کے خلاف امریکہ کے عوام کا اجتماعی اظہار رائے تھا ، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں میں کالے بھورے پیلے نیلے لوگوں کے علاوہ نسل ہا نسل سے امریکہ میں آباد سفید فام لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی خصوصا امریکہ کی تعلیم یافتہ نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد نے بلاتفریق رنگ و نسل ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالا۔

ٹرمپ کے خلاف بایئڈن کو ووٹ ڈالنے والوں کے لیے بیلٹ پیپر پر ٹرمپ اور بائیڈن مد مقابل نہیں تھے بلکہ ایک طرف امریکہ کی تاریخ کا بدترین نسلی تعصب و تفاخر کا پیکر حکمران تھا جس کے خلاف ڈالا جانے والا ہر ووٹ بائیڈن سے زیادہ ضمیر اور شرف انسانیت میں برابری کو ڈالا گیا۔وگرنہ اندرونی سیاست کے حوالے سے ٹرمپ کی معاشی اور دیگر پالیسیوں سے امریکی ووٹرز کو کوئی بہت زیادہ شکایات نہیں تھیں۔

اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہی بیلٹ پیپر پر ٹرمپ اور بائیڈن کے ساتھ ان ہی کی پارٹی کے ارکان کانگریس کی ممبرشپ کے لیے بھی امیدوار تھے ، کئی علاقوں میں ووٹرز نے ٹرمپ کے خلاف تو ووٹ ڈالا لیکن ٹرمپ کی پارٹی کے دیگر اراکین کو کانگریس مین اور سینیٹر منتخب کیا۔

یہ ٹرمپ کی نسل پرستانہ سیاست ہی تھی جس نے قدامت پسند رپبلکن سیاستدانوں کو لنکن پراجیکٹ کے نام سے ایک تھنک ٹینک تشکیل دے کر ٹرمپ کے خلاف بھرپور کمپین چلانے پر مجبور کیا ۔ سفید فام امریکیوں خصوصا انڈی پنڈنٹ ووٹرز میں ٹرمپ کے خلاف رائے سازی میں جو کردار لنکن پراجیکٹ نے ادا کیا وہ شاید ڈیموکریٹک پارٹی سے بھی زیادہ ہے۔فی الحال کے لیے تو امریکی عوام نے مارٹن لوتھر کنگ ، اقبال احمد اور لاکھوں لوگوں کی جدو جہد اور قربانیوں سے نسلی تفاخر اور تعصب کے خلاف حاصل کی ہوئی کامیابی کو ٹرمپ کی طرف سے الٹانے کی کوشش کو روک لگا دی ہے ۔

امید ہے کہ امریکہ میں باہر سے آ کر بسنے والوں ، کالوں ، لاطینی اور جنوبی امریکہ کے لوگوں کی بڑھتی آبادی اور کالج یونیورسٹی کے طلبا میں نسل پرستی اور تعصب کے حوالے سے حساسیت امریکہ کو اس سمت میں جانے سے روکتی رہے گی جس سمت میں ٹرمپ اور اسکے حواری اسے لےجانا چاہتے ہیں۔

وین جونز اور اقبال احمد کے آنسو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہر نسل پرست اپنی انسانیت سے دستبردار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ہدف کی انسانیت بھی چھیننے کے درپے ہوتا ہے اور اگر نسل پرست سیاستدان اور پھر وہ سب سے طاقتور عہدے پر فائض بھی ہو تو وہ انسانی معاشرے کو اندھیری گلی اور پرخار راہوں پر ڈال دیتا ہے۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *