اور صدر ٹرمپ رخصت ہوگئے


محمد شعیب عادل

پنتالیسویں امریکی صدر ٹرمپ، اپنی مدت پوری کرکے وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوگئے ہیں۔ ان کی جگہ نئے صدر جو بائیڈن سنبھال رہے ہیں۔ امریکی تاریخ میں 150 سال بعد یہ پہلا واقعہ ہے کہ سابق صدر نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شریک نہیں ہو رہا ۔ صدر ٹرمپ کا دور حکومت بہت ہنگامہ پرور رہا وہ اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے پریس  میں تنقید کا نشانہ بنتے رہے۔ انھوں نے عہدہ صدرات سنبھالتے ہی ایک بیانیہ پرموٹ کیا کہ پریس جھوٹ بولتا ہے ، یہ گندے لوگ ہیں، ڈیپ سٹیٹ میرے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ اور سچ وہی ہے جو میں کہوں۔

چھ جنوری 2021 امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ۔اس روز امریکی درالحکومت واشنگٹن میں جو کچھ ہوا اس کا تماشا پوری دنیا نے دیکھا۔ اس تماشے کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ اس ملک کا سربراہ خود تھا جسے دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے جانتی ہے۔ امریکہ کی ڈھائی سو سالہ جمہوری تاریخ میں ایسا موقع شاید ہی آیا ہو جب کسی امریکی صدر نے اپنی ہی جمہوریت یا جمہوری نظام کی شفافیت پر سوال اٹھایا ہو۔ ایک صدر اپنے ہی مسلح حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے پر اکسا رہا ہو۔ اس بات کا اقرار وائس پریذنٹ سمیت ریپبلکن پارٹی کے دوسرے رہنما بھی کررہے ہیں۔

یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا ۔ ٹرمپ نے اس کام کے لیے پچھلے چار سالوں میں بھرپور تیاری کی تھی۔انھوں نے اپنے دور اقتدار میں انتہا پسند قوتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ سفید فام نسل پرستوں کو اپنا دوست کہا۔ اور ان انتہا پسند گروہوں کو ابھارا جن جن ریاستوں میں ڈیموکریٹک گورنر ہیں جو لاک ڈاؤن کا پرچار کررہے ہیں اور وہ ان کا گھیراؤ کریں اور لاک ڈاؤن ختم کرنے کا دباؤ ڈالیں۔

امریکہ، دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں اور جمہوریت کے لیے اپنی آواز اٹھاتا ہے ، ان قوتوں کی مدد کرتا ہے جو آمریت کے خلاف جدو جہد کررہی ہیں۔ انھیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے امداد دیتا ہے مگر جب امریکی ریاست خود ان اصولوں کو پامال کرے گی تو پھر اس کی اخلاقی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ حادثاتی طور پر امریکہ کے صدر بن گئے ۔ انہوں نے امریکی معاشرے میں جاری نسلی تفریق اور تقسیم سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا ویسے ہی جیسے ہمارے مذہبی رہنما یا قرون وسطیٰ کے بادشاہ کرتے تھے۔ ٹرمپ اپنی کابینہ کے افراد کو وہ اپنا ذاتی ملازم سمجھتا تھا۔اپنے ہی تعینات کردہ انتہا پسند افراد ہی رائے کو بھی اہمیت نہیں دیتا تھا جس نے بھی اس سے اختلاف کرنے کی جرات کی اسے گھر بھیج دیا ۔

ٹرمپ اور دنیا کے دوسرے ڈکٹیٹرز میں انتہائی مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ جمہوریت کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں کہ انھیں اقتدار مل جائے۔ اس کے بعد جمہوریت ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ اپوزیشن سے سخت نفرت کرتے ہیں۔عمران خان نے ایک بیانیہ پرموٹ کیا تھا کہ جو میرے ساتھ نہیں وہ کرپٹ لوگوں کا ساتھی ہے۔ کچھ اسی قسم کا بیانیہ ٹرمپ نے پرموٹ کیا کہ میرے مخالف لیفٹسٹ ہیں، ڈیپ سٹیٹ میرے خلاف سازش کرتی ہے اور میڈیا میرے بارے میں جھوٹ پرموٹ کرتا ہے ۔ اور ٹرمپ کے حامی اسے اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ اس کے متعقدین اسے اتنا ہی درست سمجھتے ہیں جتنا کوئی اپنے مذہبی اوتار کوپوجنے والا، ان کے آگے منطق ،دلیل کوئی معنی نہیں رکھتی۔

دنیا میں امریکہ کی شناخت ایک سپر پاور کی ہے جس کی بنیاد امریکی آئین اور جمہوریت ہے اور جب اس کا اپنا صدر ہی آئین اور جمہوریت کو جوتے کی نوک پر رکھے تو پھر سمجھ لیجئے دنیا بھر میں امریکہ کی اخلاقی حمایت ختم ہوجاتی ہے۔امریکہ میں جمہوریت کی تاریخ ڈھائی سو سال کی ہے اور کبھی کسی صدر نے جمہوری عمل کو فراڈ نہیں کہا ۔ لیکن صدر ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے کہ انتخابات میں فراڈ ہوا ، الیکشن چوری ہوا ہے اور میرے ووٹ چوری ہوئے ہیں، جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں وغیرہ وغیرہ اور اس مقصد کے لیے انھوں نے ہر فورم استعمال کیا۔ اور انہی کے تعینات کردہ ججوں نے ان کے اس دعوے کو رد کیا کیونکہ ٹرمپ کی ٹیم پاس فراڈ کا کوئی ثبوت نہیں تھا صرف ٹرمپ کا انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنا تھا۔

صدر ٹرمپ نے امریکی جمہوریت اور جمہوری اداروں کے بارے میں جو شک و شبہات پیدا کردئے ہیں انھیں ختم کرنے میں شاید ایک لمبا عرصہ درکار ہو۔وہ سیاست دان نہیں ایک کاروباری شخص تھا جو ہر شے کو کاروبار کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اسے علم ہی نہیں تھا کہ امریکہ اگر سپرپاور ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں اور کون اس کے اتحادی ہیں جو اس کی قوت کا باعث ہیں لیکن اس نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے ہراتحادی کو صرف اس لیے ناراض کیا کہ وہ اس کی حرکتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔اس نے کہا نیٹو ممالک اپنے حصے کا شئیر نہیں دیتے، اقوام متحدہ پر امریکہ دوسرے ممالک کی نسبت سب سے زیادہ خرچہ کرتا ہے لہذا دوسرے ممالک کو بھی پیسے دینے چاہیئے۔اپنے ہمسایہ ممالک کینیڈا اور میکسیکو سے ٹریڈ کے معاہدے ختم کیے۔

ٹرمپ کے حامیوں کا یہ خیال کہ وہ چین کو لگام دے رہا تھا خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں۔ صدر اوبامہ نے اپنے دور میں ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ یعنی ٹی پی پی کے نام سے ایک تجارتی معاہدہ کیا تھا جس کی رو سےایشیائی ممالک کے ساتھ امریکہ کی تجارت تھی جس میں چین کا رول بہت ہی کم کر دیا گیا تھا مگر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی بغیر سوچے سمجھے ٹی پی پی سمیت اپنے اتحادیوں سے کیے گئےتمام معاہدے ختم کردئے اور جس کا فائدہ چین اور روس نے اٹھایا۔ یاد رہے کہ چین نے دو ماہ پہلے ہی نومبر 2020 میں پندرہ پیسفک ممالک سے ٹریڈ کا نیا معاہدہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ معاہدہ ایک دن کی کاروائی نہیں ہوتی اس کے پیچھے کئی ماہ یا سال پر مشتمل مذاکرات ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *