بولنے کی آزادی اور مولوی کی دکانیں

ڈاکٹر سہیل گیلانی

کل پاکستان میں پھر تین انسانوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور جرم ہے توہین رسالت۔ اب ایسا لگتا ہے کہ یہ توہین کا کھیل اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ، آزادی اظہار خیال کا خاتمہ کچھ ایسے ہوا ہے کہ جس کی وجہ سے پورے معاشرے میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ اس کے بڑے برے نتائج ہو رہے ہیں اور اور ہوتے رہیں گے۔

نفرت پر مبنی کلام جو آزادی اظہار خیال کے نا ہونے سے معاشرے کا حصہ بن جاتا ہے کی ایک مثال کچھ اس طرح بھی دیکھی گئی کہ کئی سوشل میڈیا پر کئی پوسٹیں ہزارہ کمیونٹی کے مظلوم لوگوں کے ہی خلاف لکھی جا رہیں ہیں کچھ لوگ ہزارہ کمیونٹی کے تیس برسوں سے ہونے والے قتل و غارت کے جواز پیش کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل رہے ہیں۔ اسے دیکھ کر میرا ذہن اروند تی راے کے اس مضمون پر جاتا ہے جو انھوں نے ہندو رائٹ ونگ کی مخالفت میں لکھا جب دہشت گرد ہندوؤں نے گجرات کے نہتے مسلمانوں کے قتل پر اس دہشت گردی کے جواز پیش کرنے شروع کر دیے ۔

آپ نے کئی مولویوں کو کہتے سنا ہوگا کہ اسلام میںُ قہقہے لگانا اور زور سے ہنسنا منع ہےجبکہ ، امراض قلب اور ذہنی امراض کے ماہرین کے مطابق کھل کر اور دن میں کئی بار کھل کر ہنسنا انسان کی صحت کے لئے بہترین عمل ہے ۔ مولوی کو بخوبی اندازہ ہے کہ لوگوں میں تنقید کرنے اور کھل کر ہنسنے ہنسانے کا سلسلہ اگر شروع ہو گیا تو انکی فرسودگی کی جگمگاتی دکانیں بیٹھ جائیں گی اندھیروں میں کہیں کھو جائیں گی۔

مختلف اقسام کی آزادیوں کا اور خاص کرکے آزادی اظہار خیال کا براہ راست تعلق اس فلسفے سے ہے کہ جس کے ذریعے مغرب نے جمہوریت ، سیکیولرازم ، جدید سائنس , انڈسٹری اور اعلی تعلیمی اداروں کی بنیادیں رکھیں۔ بولنے کی آزادی کو دوسری تمام آزادیوں میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ آزادی اظہار خیال کیا ہے، کونسی باتیں اس آزادی کے زمرے میں آتیں ہیں اور کونسی نہیں ، اس بات پر مغرب میں پچھلے تین سو برسوں سے ایک مسلسل بحث ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی اس موضوع پر تحقیقات کا سلسلہ دوسرے تمام اداروں کی تحقیقات کے ساتھ مسلسل پیش قدمی کرتا ہے ۔

مغرب کے وہ مفکر جن کا تعلیمی و تدریسی تعلق انسانی سوچ ، زبان اور ان کے آزادانہ استعمال سے رہا ہے ، ان کے خیال میں جمہوریت ، سیاست ، معیشت ، تعلیم ، اخلاقیات اور سماجی ہم آہنگی میں ترقی کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کے پاس ہونے والی وہ آزادی ہے جس کے ذریعے وہ کسی خیال ، تھیوری ، مذہب ، سیاسی یا عوامی شخصیت ، زندہ یا مردہ پر کسی بھی قسم کی تنقید کی آزادی رکھتے ہیں ۔ ہاں جس بات کی اجازت نہیں ہے وہ یہ کہ کسی زندہ انسان یا انسانوں کے گروہ کے خلاف نفرت آمیز بات کرنا یا یا ایسی بات کرنا جس سے دوسرے انسانوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو۔

ایسی بات چیت نفرت پر مبنی کلام کے زمرے میں آتی ہی اور اسکے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا بھی دی جاتی ہے۔تحقیق سے پتہ یہ چلتا ہے کہ جن معاشروں میں آزادی اظہار خیال کی پابندی ہو وہاں نفرت کلام یا ہیٹ سپیچ کا رجحان معاشروں میں بڑھنے لگتا ہے۔ جب ہم آزادی اظہار خیال کے موضوع پر مغربی مفکروں ، فلسفیوں،نفسیات دانوں ،پولیٹیکل سائنٹسٹوں اور پولیٹیکل اکانومسٹوں کے لکھے جریدوں میں خیالات پڑھتے ہیں اور پھر جب انھیں موضوعات پر مولویوں کے خیالات سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی مولوی کرونا کے علاج پر دنیا کے تمام ڈاکٹروں کو غلط ثابت کرتے ہوئے دین کی روشنی میں علاج بتا رہا ہو۔

فرق کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ دو گروہ دو مختلف سیاروں پہ رہنے والی الگ الگ مخلوقات ہوں۔ زیادہ تر اسلامی ملکوں میں سیکولرازم کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ مغرب میں جن باتوں کے کرنے کو معاشرے کی ذہنی صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے وہ باتیں اسلامی ملکوں میں جرم قرار پاتیں ہیں اور جو باتیں مغرب میں سنگین جرم سمجھی جاتیں ویسی باتوں کو اسلامی ملکوں میں مولوی اچھل اچھل کر اور ناچ ناچ ناچ کر کھلے عام سڑکوں پر کرتے پائے جاتے ہیں ۔

اسلام کے نزدیک اخلاقیات ، سیاست ، معیشت اور قانون اللہ کی طرف سے انسان کو ملتا ہے اور اس میں ردوبدل کا امکان نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے۔ جبکہ سیکولر معاشروں میں اداروں کی تعمیر انسانوں کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ سائنسی تحقیق ان اداروں کی چیدہ چیدہ تعمیر میں مکمل رہنمائی کرے۔

ا س کی برعکس سیکولر معاشرے میں مذہب کو اداروں میں تھوپنے اور سرکاری معاملات میں مذہبی کتابوں سے رجوع کرنے کو ایسا خطرناک عمل سمجھا جاتا ہے کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جاتی ہے پیشہ و رانہ ڈسپلن کی خلاف ورزی سمجھ کر کچھ لوگوں کو نوکری سے بھی برخواست کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *