چوھدری صاحب کی جے ہو


ذوالفقار علی زلفی

چوھدری فواد حسین صاحب کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے ایک غیر اہم مسئلے (بلوچ جبری گمشدگی و ماں بہنوں کا احتجاج) کے بطن سے اہم ترین مسئلہ (بلوچستان میں پنجابی قتل) برآمد کرلیا ـ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے پاکستان کے سیاست دان کتنے عالی دماغ اور ذہین ہوتے ہیں بالخصوص اگر وہ پنجابی ہوں تو ان کی ذہانت کے سامنے ہیگل اور کانٹ بھی پانی بھرتے نظر آئیں ـ

چوھدری صاحب نے بہرکیف تسلیم کرلیا کہ بلوچستان میں بلوچ مرد جبراً گمشدہ ہوتے ہیں، پھر ان کی مسخ لاشیں ملتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہم جیسے نسل پرست و متعصببلوچوں کو یہ بھی جتادیا کہ پنجابی حکمران اس قدر سخی ہیں کہ بلوچ مائیں پنجاب میں اس کے خلاف احتجاج کرنے کا حق بھی رکھتی ہیں ـ حاتم طائی سے بھی دو ہاتھ آگے نکلنے والے پنجابی حکمرانوں کی اس سخاوت کو ہم بلوچ برسوں یا شاید صدیوں تک یاد رکھیں گے ـ

ہم تو بھئی یاد کرنے کے معاملے میں خاصے اچھے ثابت ہوئے ہیں ـ جیسے ہمیں یاد ہے پنجاب کے گھبرو جوانوں نے ترقی مخالف بلوچی سردار نواب بگٹی کو ایسے ہٹ کیا کہ انہیں کیا ان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ چلا ـ فوجی بندوقوں کے سائے میں ان کے تالہ بند تابوت کی تدفین کا منظر بھی ہم نہیں بھولے ـ وہ دن اور آج کا دن ڈیرہ بگٹی بس سوئٹزر لینڈ بننے ہی والا ہے ـ

بانک کریمہ بلوچ کی میت کو صحیح سلامتکراچی سے تمپ پہنچانے کی مہربانی ہو یا شرپسند بلوچوں کو نماز جنازہ کے نام پر فساد سے روکنے کی کوشش، پنجابی حکمرانوں کی اس عظیم سخاوت کو ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی یقیناً یاد رکھیں گی ـ

چوھدری فواد حسین صاحب جیسے نابغہِ روزگار پنجابی حکمران شخصیات کا یہ بھی ہم پر احسانِ عظیم ہے کہ انہوں نے سائنسی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ ہم تک پہنچایا کہ جبری گمشدہ اور مسخ لاش بننے والے بلوچوں کے خون کی طرح پنجابیوں کے خون کا رنگ بھی لال ہوتا ہے ـ

سن کر افسوس ہوا بیچارے پنجابی اپنے قتل پر احتجاج بھی نہیں کرسکتے ـ سنا ہے پنجابی بنگال میں بھی احتجاج کرنے سے محروم رہے تھے ـ ان کی جگہ بنگالیوں نے ہی یہ کہہ کر احتجاج کیا کہ ہم کو مت مارو ہم بھی پونزابی ہے۔

سنی سنائی سی بات ہے، دروغ بر گردنِ راوی، کہتے ہیں ایک پنجابی جرنیل نے پنجاب کے گھبرو جوانوں کے ہاتھوں نیم ہندو و نیم مردہ بنگالی خواتین کے ریپ کی توجیہہ دیتے فرمایا ایسا نہیں ہوسکتا کہ جہلم کا جوان ڈیوٹی ڈھاکہ میں دے اور جنسی ضرورت پوری کرنے کے لیے جہلم جائےـ تو گویا معاملہ سارا یہ ہے کہ پنجابی اپنے قتل پر دوسروں کی سرزمین پر احتجاج بھی نہیں کرسکتے البتہ وہ قتل کرسکتے ہیں جیسے ہزاروں بلوچوں کا کیا، وہ ریپ کرسکتے ہیں جیسے ڈاکٹر شازیہ خالد کا کیا، بس بیچارے مظلوم احتجاج نہیں کرسکتے۔

بلوچوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب کے لہلہاتے کھیتوں سے آنے والے مجبور و لاچار پنجابیوں کو بلوچستان کے بے آب و گیاہ میدانوں میں احتجاج کی اجازت دی جائے تاکہ وہ بلوچ جوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے اور ان کی مسخ لاشیں پھینکنے سمیت بلوچ بیٹیوں کو جنسی غلام بنانے کی حرکت کرنے پر مجبور نہ ہوں ـ

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *