نظام نو کی تعمیر کون کرے گا ؟

بیرسٹرحمید باشانی

یہ ایک بے مثال سخاوت تھی۔حکومتوں کی سطح پر اتنی بڑی سخاوت اور فیاضی کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال موجود ہو۔ دنیا میں کورونا بحران کے دوران مختلف خوشحال ممالک نے سرکاری خزانے سے خطیر رقوم نکال کر خرچ کیں۔ اگر اتنی بڑی رقوم عام حالات میں سرکاری خزانوں سے نکال کر عوامی فلاح وبہبود پر خرچ ہوتیں، تو شاید دنیا میں بنی نوع انسان کو درپیش بیشتر مسائل کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔وبا کے دوران یہ کھربوں ڈالر مختلف تجارتی اداروں اور عام لوگوں میں تقسیم کیے گئے۔

ارباب اختیار کی رحم دلی اور فیاضی اپنی جگہ ، مگر اس عمل کے پس منظر میں ان کا یہ خوف بھی کارفرما تھا کہ اتنے بڑے معاشی بحران کے بطن  سےسیاسی و معاشی بے چینی کی تحریکیں اٹھ سکتی ہیں۔ انقلاب  برپا ہو سکتے ہیں۔بغاوتیں جنم لے سکتی ہیں۔ان اخراجات کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کئی ملکوں کے سرکاری خزانے تقریبا خالی ہیں۔ کئی ممالک آئندہ تیس برسوں تک خسارے کے بجٹ کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے، اور سرکاری خزانے کو دوبارہ اس سطح پر لانے کے خواب دیکھیں گے جو کورونا بحران سے پہلے تھا۔لیکن اس شہ خرچی کا یہ فائدہ ہوا کہ دنیا میں کسی بڑی بے چینی اور بغاوت کے بغیر ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ بحران کی آڑ میں کئی ناکام حکومتیں بھی ناکامی کے داغ سے بچ گئیں۔ حالاں کہ نظام زندگی تہہ و بالا تھا۔ روزگار کے مواقع محدود تھے۔فیکٹریاں، ملیں اور کارخانے بند تھے۔ اکثر ممالک میں ضروری خدماتکے سوا سب کچھ  بار بارلاک ڈاون کا شکار ہوتا رہا۔

  سن 2008 کے مالی بحران کے دوران اگرچہ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں، لیکن کافی بڑی رقوم خرچ کی گئی تھیں۔  دنیا بھر میں مخلتف ممالک کے مالی نظام میں حکومتوں نے  3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ امدادی رقم ڈالی تھی۔ ۔ اس فراغ دلی کا مقصد دنیا میں  کریڈٹ مارکیٹوں کے انجماد کو توڑ کر ساکت وجامد عالمی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنا تھا۔ لیکن یہ عمل  زیادہ منصفانہ اور منطقی نہیں تھا۔ اس بھاری رقم کے ذریعےحقیقی معیشت  کی زیادہ مددنہیں ہوئی۔ یہ رقم زیادہ تر امدادی شعبے میں خرچ کی گئی۔ حکومتوں نے اولین ترجیح بڑے سرمایہ کار بینکوں کو دی۔ حالاں کہ یہی وہ بینک تھے، جو ابتدائی طور پر یہ بحران پیدا کرنے کا باعث بنے تھے۔  گویا  بینکوں اور مالیاتی کمپنیوں نے نے خوشحالی کے دور میں بھی فائدہ اٹھایا، اور بحران کے موسم بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔

یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے بحران کے بعد معاشی بازیافت کے ثمرات کا فائدہ اٹھایا۔دوسری طرف چھوٹے کاروباری لوگ اورا دارے تھے۔ ٹیکس دہندگان تھے۔ عام عوام تھے۔  اور افتادگان خاک تھے، جن کے حصے میں پہلے بھی کچھ نہیں تھا، اور بحران کے بعد کے بندوبست میں بھی ان کے لیے کوئی خوشخبری نہیں تھی۔بحران کے بعد ان بے چارے لوگوں کو بظاہر ایک ایسی عالمی معیشت کا سامناتھا، جو بظاہر پہلے جیسے تھی۔ لیکن حقیقت میں  پہلے سے زیادہ غیر مساوی تھی۔  اس میں طبقاتی لوٹ کھسوٹ کی گنجائش پہلے سے زیادہ تھی۔اور یہ بڑے پیمانے پرماحولیاتی آلودگی کا شکار تھی۔

اب بارہ برس بعد دنیا کو اک نئے بحران کا سامنا ہے۔ یہ بحران کوویڈ 19 وبائی بیماری اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کا نتیجہ ہے۔اس تباہ کن وائرس کے منظرعام پر آنے کے ابتدائی مہینوں میں حکومتوں نے معاشی اور صحت سے متعلق  بحرانوں سے نمٹنے کے لئے اپنے اپنے معاشی و سیاسی نظاموں کے اندر رہتے ہوئے بڑے اقدامات کیے ، ملازمتوں کے تحفظ کے لئے امدادی پیکیجز دیے ۔ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت قواعد وضوابط جاری کیے ۔  ویکسینوں کی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے اقدامات کیے۔یہ سب کوششیں ضروری تھیں، اورہیں، لیکن  بد قسمتی سے یہ کوششیں کافی نہیں ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ جب اتنے بڑے پیمانے پرمعاشی منڈیاں ناکام ہوجاتی ہیں اور سماج کو اس درجے کے تباہ کن بحران کا سامنا ہوتا ہے تو حکومتوں کے لئے محض سہولت کار یا امداد کار کے طور پر مداخلت کرنا کافی نہیں ہوتا ۔ بلکہ ایسے خوفناک بحران میں حکومتوں کو فعال طور پر معاشی نظام کی تشکیل نو کرنی پڑتی ہے۔ تاکہ وہ اس طرح کے طویل مدتی نتائج پیدا کر سکیں، جن سے معاشرے کے مخصوص مراعات یافتہ طبقات کے بجائےہر ایک کو فائدہ پہنچ سکے، اور سب کے لیے مساوی مواقع پیدا ہوں۔

دنیا نے 2008 میں سماجی اورمعاشی تشکیل نو کا موقع گنوا دیا۔ لیکن آج کے بحران نے ارباب اختیار کو ایک نیا موقع عطا کردیا۔مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ارباب اختیار انقلابی نہیں ہیں۔ ان سے کسی نظام نو کی تعمیر کی توقع عبث ہے۔ یہ کام  کسی بھی ملک میں عوام کی مدد سے ایک انقلابی پارٹی ہی سر نجام دے سکتی ہے۔ مگر اس پارٹی کے ظہور پذیر ہونے تک، موجودہ حکمران طبقات محض غریب عوام کے لیے نیک خواہشات رکھنے اور روایتی انداز میں معاشی نمو کو بڑھاوا دینے کے علاوہ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ وہ  اپنے قدامت پرستانہ نظریات کی حدود کے نادر رہ کربھی ایک بہتر معیشت کی  از سر نوتعمیر کے لئے  ایک نئی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔  وہ  بڑی کارپوریشنوں کو غیر مشروط امداد فراہم کرنے کے بجائے ان کی پالیسیوں کو ایسے اقدات سے مشروط کر سکتے ہیں، جو عوامی مفادات کا تحفظ کرتے ہوں۔ اور جو معاشی و معاشرتی مسائل سے نمٹنے کے لئے مدد گار ثابت ہو سکتے ہوں۔ وہ کووڈ 19 ویکسین بنانے والی  کمپنیوں کو ایسی پالیسیوں کا پابند کر سکتے ہیں، جن سے ویکسین  عالمی سطح پر سب کے لیے قابل رسائی ہو سکے۔ وہ ایسی کمپنیوں کومدد دینے سے انکار کرسکتے ہیں، جو ماحول کو آلودگی سے بچانے اور کاربن کے اخراج پر پابندی لگانے کے لیے تیار نہ ہوں ۔  یا ٹیکس کی پناہ گاہوں میں اپنے منافع کو چھپانے  کی عادات و روایات ترک کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔

  لیکن بد قسمتی سے اس میدان میں دنیا میں ایک طویل عرصہ سے حکومتوں کی پالیسیاں جانب دارانہ ہیں۔ ان کا جھکاو غالب اور مراعات یافتہ طبقات کی طرف ہے۔ جب کبھی بڑ ے کاروباری ادارے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کوئی معاشی بحران یا ماحولیاتی خطرات پیدا کرتے ہیں، تو حکمران اشرافیہ فی الفور ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے سرکاری خزانوں کے منہ کھول دیتی ہے۔ اس طرح مراعات یافتہ طبقات کی پیدا کردہ  گندگی صاف کرنے کی قیمت  عوام ادا کرتے ہیں۔ لیکن ان صفائیوں کے فوائد بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو حاصل ہوئے ہیں۔

بحرانوں کے دوران سخت ضرورت کی گھڑی میں بڑے بڑے کاروبار سرکاری مدد کی درخواست کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ لیکن بحران کے بعد اچھے وقتوں میں ان کا مطالبہ  ہوتاہے کہ حکومت ان کے کاروبار سے دور رہے، کہ حکومتوں کا کام کاروبار میں مداخلت کرنا نہیں ہے۔ کووڈ 19 کا بحران اس جیسے دوسرے بحران اس عدم توازن کو درست کرنے کا ایک موقع دیتے ہیں۔ اس بحران کے دوران سرکار کی امداد  یافتہ کمپنیوں کو عوامی مفاد میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اور عام آدمی اور ٹیکس دہندگان کوان فوائد میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے، جو روایتی طور پر بڑی کمپنیوں کو ملتا ہے۔

لیکن اگر حکومتیں صرف وقتی درد اور مصائب کا ہی مداوا کرتی رہیں۔ نئے اصول و ضوابط وضح کرنے میں ناکام رہیں تو بحران کے بعد کی معاشی نمو اور ترقی نہ تو جامع ہوگی اور نہ ہی پائیدار ہوگی۔ اور نہ ہی  طویل مدتی مساویانہ ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔  کھربوں ڈالر کی سرکاری امداد رائیگاں جائے گی، اور اس کھوئے ہوئے موقع کے بطن سے محض نئے بحران  پیدا ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *