ملالہ کی ٹی وی پروڈکشن کمپنی اور ایپل ٹی وی کے درمیان معاہدہ

نوبل امن انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسفزئی نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ وہ ایپل ٹی وی پلس کے لیے خواتین اور بچوں سے متعلق ڈرامے اور دستاویزی فلمیں بنائیں گی۔

ایپل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ معاہدہ فریقین کے مابین ایک کئی سالہ معاہدہ ہے، جس کے تحت ملالہ کی دنیا بھر میں عام انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے‘ ایسے ڈرامے، اینیمیشنز اور دستاویزی فلموں کے علاوہ ٹیلی وژن سیریز بھی تیار کی جائیں گی، جن میں خاص طور پر خواتین اور بچوں کو درپیش حالات اور ان کی ضروریات پر توجہ دی جائے گی۔

اس معاہدے کے حوالے سے ایپل نے اپنے بیان میں ملالہ یوسفزئی کی طرف سے اظہار تشکر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت 23 سالہ ملالہ نے اس موقع پر کہا، میں اس موقع کے لیے شکر گزار ہوں کہ خواتین، بچوں، نوجوانوں، مصنفین اور فنکاروں کی اس طرح مدد کر سکوں کہ ان کے لیے یہ اظہار بھی ممکن ہو سکے کہ وہ دنیا کو کن نظروں سے دیکھتے ہیں‘‘۔

ایپل کی طرف سے پیر آٹھ مارچ کو جاری کردہ بیان میں ملالہ کے اس موقف کا حوالہ بھی دیا گیا، مجھے یقین ہے کہ کہانیاں خاندانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، دوستیاں قائم کرنے اور کئی طرح کی تحریکیں شروع کرنے کے علاوہ اس عمل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں کہ بچے اپنے لیے خواب دیکھنا بند نا کریں‘‘۔

ملالہ کی ٹی وی پروڈکشن کمپنی

شمال مغربی پاکستان کے دیہی علاقے میں صرف 10 برس کی عمر میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے حق کی وکالت شروع کرنے والی ملالہ یوسفزئی نے گزشتہ برس برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی گریجویشن  مکمل کر لی تھی۔اس کے بعد سے وہ اب تک لڑکیوں اور خواتین کے لیے ڈیجیٹل پبلیکیشن شروع کرنے کے علاوہ اپنی ایک ٹیلی وژن پروڈکشن کمپنی بھی قائم کر چکی ہیں اور ایپل نے یہ معاہدہ اسی کمپنی سے کیا ہے۔

ملالہ یوسفزئی اکتوبر 2012ء میں پاکستان کی وادی سوات میں اس وقت طالبان عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں، جب وہ صرف 15 برس کی تھیں اور ایک بس میں سوار اسکول سے واپس گھر جا رہی تھیں۔

بچوں خاص طور پر لڑکیوں کے لیے تعلیم کے حق کی جدوجہد کرنے والی ملالہ کو 2014ء میں اس وقت امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا، جب ان کی عمر صرف 17 برس تھی۔انہیں یہ انعام بھارت کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا تھا، جو بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت نمایاں بھارتی کارکن ہیں۔

لیکن کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ملالہ اور کیلاش ستیارتھی نے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے پر انہیں نوبل انعام ملا لیکن وہ اپنے اپنے ملکوں میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔

dw.com/urdu & Web desk 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *