افغانستان: امریکی فوج کا نکلنا مشکل ہے

طالبان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکا اپریل کے اواخر تک افغانستان سے اپنی افواج واپس نہيں بلاتا، تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہيں۔ امریکی افواج گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں سرگرم ہیں۔

مریکی صدر جو بائیڈن نے ملکی نشریاتی ادارے اے بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ افغانستان میں موجود بقیہ ڈھائی ہزار فوجيوں کا مئی تک انخلاء ’مشکل‘ دکھائی ديتا ہے۔ بائیڈن کا کہنا تھا، ”میں اس بارے ميں حتمی فیصلہ لینے کے مرحلے میں ہوں کہ ہم کب تک افغانستان سے اپنے فوجيوں کو واپس بلائيں گے۔ ایسا ہو سکتا ہے، لیکن يہ بہت مشکل بھی ہے“۔

امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد طالبان نے ردعمل میں کہا کہ اگر امریکا یکم مئی کی مقررہ تاریخ تک اپنی تمام فوجیں افغانستان سے نہیں نکالتا، تو اس کے ’مضمرات‘ ہوں گے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، ”امریکیوں کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنا قبضہ ختم کرنا ہوگا اور افغانستان سے یکم مئی تک اپنی افواج کو مکمل طور پر نکالنا ہوگا۔ اگر کسی بھی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر وہ نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے۔‘‘  ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ’ایسی صورت میں افغانستان کے لوگ اپنا فیصلہ کریں گے‘۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب طالبان اور افغان حکومت سمیت خطے کے دیگر فریقین روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغان امن عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مذاکرات میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔

بعض امریکی حکام اور بین الاقوامی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکی قیادت والی فورسزکسی باضابطہ امن معاہدے سے قبل افغانستان چھوڑ دیتی ہیں، تو ملک میں خانہ جنگی کا نیا سلسلہ شرو ع ہو سکتا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے ڈھائی ہزار کر دی تھی۔ سن 2001میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے وہاں امريکی افواج کی یہ سب سے کم ترین تعداد ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اے بی سی کو دیے انٹرویو میں طالبان کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے کہا، ”سابق صدر کے دور میں کیا جانے والا معاہدہ بہتر انداز میں نہیں کیا گیا تھا“۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ سے صدارت کا مجھے منتقل ہونا باضابطہ طریقے سے نہیں ہوا۔ یہ عمل عام طور پر انتخاب کے دن سے شروع ہو جاتا ہے اور حلف برداری کے دن تک چلتا ہے، لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے میرا وقت ضائع ہوا، جس کی وجہ سے ان نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان ایسے کئی معاملات میں سے ایک ہے“۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ نے رواں سال جنوری میں صدارت سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ دوحہ معاہدے پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے میں امریکی افواج کے انخلاء کو مشروط رکھا تھا۔ لیکن افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے باوجود امریکی افواج کی واپسی ہوئی۔ تشدد کے واقعات کے لیے طالبان کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ امریکا کا الزام ہے کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو پوری طرح سے منقطع کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے مذاکرات میں چھ ماہ کی تاخیر ہوئی۔

طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کا کوئی آدمی نہیں ہے اور ملک میں تشدد میں اضافہ کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔

امریکا نے افغانستان میں قیام امن کو تیز کرنے کی غرض سے کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان اشتراکِ اقتدار کا ایک نیا فارمولا پیش کیا ہے، جس کے تحت دونوں فریقین کی شراکت سے عبوری حکومت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔اس میں نصف تعداد طالبان کی ہوگی۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے تاہم اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *