نعروں  سے آگے جہاں اور بھی ہیں

نعمان عالم۔یوکرین

ایک روسی ضرب المثل ہے کہ  گاڑی میں بیٹھنے سے آپ ڈرائیور نہیں بن سکتے۔

پاکستان اور دوسرے ہمسایہ ممالک میں عورت کو اسکے بنیادی حقوق میسر نہیں ہیں ۔ یہ بنیادی حقوق کیا ہیں ؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مذھبی طبقہ اور پڑھا لکھا طبقہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے اور خود ایکٹوسٹ عورتوں کی ایک بڑی  تعداد عورت کے حقوق کو کپڑے پہننے کی آزادی تک محدود کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ، عورت بطور انسان ہر سماج کا مساوی رکن ہے ، عورت کی آزادی صرف کپڑے پہنننے میں پنہاں نہیں ہے عورت بطور انسان اپنے وجود اور اپنے کردار  کی خود جوابدہ ہے۔

اگر عورت کی آزادی کو عورت خود صرف کپڑوں تک محدود کر دے گی تو آپ کی اطلا ع کے لئے عرض ہے کہ عورت کا جسمانی و ذہنی استحصال ابھی تک یورپ اور مغرب کے کافی سارے ممالک میں جاری ہے جہاں عورت بظاہر اپنی مرضی سے اپنے لباس کا انتخاب کرتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صرف لباس پہننے کی آزادی عورت کو مکمل طور پر آزاد نہیں کر سکتی ، عورتوں کے بنیادی حقوق ان گنت ہیں اور انکو حاصل کرنا حقوق کی تحریک کی بنیاد ہونا چاہیے

پاکستان میں اس وقت لاکھوں عورتیں ہیں جو گھروں میں روزانہ اپنے شوہروں کی مار پیٹ کا شکار بنتی ہیں ، انکے لئے قانون سازی کروانا کسی کار خیر سے کم نہیں ہو گا ، جو عورتیں پڑھی لکھی ہیں ، وکیل ہیں ، ڈاکٹرز ، حکومتی اداروں کا حصہ ہیں انکو چاہیے کہ آئندہ عورت مارچ میں ان خواتین کے دکھ کو سمجھ کر حکومت سے قانون سازی کروائیں ، کیونکہ آپکے صرف  نعرے  لگانے سے اس عورت کو جو روزانہ تشدد برداشت کرتی ہے اسکو کوئی فرق نہیں پڑتا اسکی زندگی قوانین سے بدلے گی اور قوانین پر عمل در آمد کی بنیاد پر بدلے گی۔

پاکستان میں اس وقت لاکھوں  خواتین گھر میں زچگی پر مجبور کر دی جاتی ہیں ، ان عورتوں کے لئے مارچ ہونا چاہئے ، تاکہ قانون سازی کی مدد سے کوئی ایسا سسٹم وجود میں لایا جائے کہ ہر حاملہ عورت کو ڈیٹا  بیس کا حصہ بنایا جاۓ  اور ہر ایک دو ہفتے بعد اسکو ہسپتال میں چیک  اپ کے لئے بلایا جائے اور زچگی ہسپتالوں میں لازمی قرار دی جاۓ ، جو عورت گھر میں زچگی کا عمل مکمل کرے اسکے خاوند ، باپ ، بھائی کو جوابدہ قرار دیا جائے اور ہلکی پھلکی  سزا کا خوف دلا کر انکو زچگی صرف اور صرف ہسپتالوں میں کروانے پر مجبور کیا جائے۔

پاکستان میں لاکھوں خواتین دو یا دو سے زیادہ بچے ہونے کے باعث صحیح طریقے سے آرام نہیں کر پاتیں ، کیا ہی اچھا ہو کہ ایک مارچ ایسا کیا جائے جس کی مدد سے حکومت کو نرسری ہوم کھولنے پر مجبور کیا جائے  تاکہ بچوں کو نرسری میں داخل کرواتے ہوے ایک طرف ماں نفسیاتی طور پر کچھ آرام کر سکے ، اور ساتھ ہی ساتھ نرسری ہوم میں بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ انکو سکول کے لئے تیار کیا جائے۔

لاکھوں بلکہ کروڑوں عورتیں جو ماں بن چکی ہیں ابھی تک تعلیم کے زیور  سے آراستہ نہیں ہیں ، عورت مارچ کے ساتھ ساتھ ایک ایسی عملی تحریک ہونی چاہیے کہ پڑھی لکھی عورتیں انپڑھ عورتوں کے گھر جا کر انکو بنیادی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ انکو اخبار پڑھنا اور لٹریچر پڑھنے میں دشواری نہ ہو جسکی مدد سے وہ اپنے حقوق والے قوانین کا مطالعہ کر سکیں اور شعور پا سکیں ، ایسی ہی ایک تحریک جو عورتیں وکلات سے وابستہ ہیں انکو شروع  کرنی چاہیے کہ وہ ظلم کی چکی میں پستی عورتوں کو  آن  لائن مفت قانونی مشورے دے سکیں اور انکو بنیادی معلومات فراہم کر سکیں۔

 عورت کو اسکے بنیادی حقوق دلوانے کی تحریک عورت مارچ کو اب عملی میدان میں داخل ہونے کی ضرورت ہے ، یہ بالکل ایسا ہے جیسے کہ کوئی برانڈ پہلے متعارف کروایا جاتا ہے تو اسکے بڑے  بڑے  اشتہارات لگائے جاتے ہیں اور بعد میں اسکی لانچنگ کی جاتی ہے جو انتہائی سنجیدہ عمل ہے کہ کیسے اس برانڈ کو گھر گھر پہنچانا ہے اسی طرح عورت کے  حقوق کی تحریک مارچ تک یا میرا جسم میری مرضی تک کے نعروں سے آگے عملی میدان میں داخل ہونی چاہیے ، کیونکہ نعرے لگانے سے حقوق نہیں ملتے ، حقوق قانون سازی سے ملتے ہیں لہذا نعروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *