زاہد ڈار،نٹیل کالج اور سادات امروہہ

وجاہت مسعود

لیجیے ، یہ تو مطلع ہی میں سخن گسترانہ بات آ پڑی۔ پاکستان میں اردو ادب کے ان تین اصنامِ ثلاثہ پر تو جُگل بندی ہوتی رہے گی۔ پہلے یہ قضیہ تو نبٹ لے کہ عفیفہ ترقی پسند تحریک کا ذکر سرے سے غائب کیوں ؟ میں عرض کیے دیتا ہوں۔ ترقی پسند تحریک سے عناد نہیں، واللہ نہیں۔ لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ اس تحریک کا تاریخی وظیفہ یہ تھا کہ ادب کی دو زانو مجلس کو برخاست کرکے ادیب کو کرسی پہ بٹھا دیا جائے۔ بھلے وہ کرسی پر اردو ہی میں کیوں نہ بیٹھے۔ حق تو یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک نے یہ منصب بطریقِ احسن نبھایا۔ ایک جملے میں بات یوں سمٹتی ہے کہ ادیب کے لیے خارج سے بے نیازی ممکن نہیں۔ بات مختصر ہے لیکن چھوٹی نہیں۔ یاد رہے کہ جوش کی تکمہ بند پٹھنولی ، نیاز فتح پوری کی قاموسی رعونت اور ماجد دریابادی کی رجعت قہقہری ابھی زندہ تھیں۔

اب ہم آپ لکیر پیٹا کریں کہ ترقی پسند تحریک میں علمی تہہ داری نہیں تھی، ادب کے خورشِ خوش ذائقہ میں سیاسی مسالے کی آمیزش اُتھلی تھی سو آب و نمک کی درستی پر انگشت نمائی ممکن تھی، ہنر میں پختگی کا فقدان تھا۔ روایت سے کماحقہ آگہی نہیں تھی۔ قبولِ عام کی خواہش میں کچھ من ترا حاجی بگویم کا نسخہ بھی چلا آتا تھا۔ آہنگ میں جذبے کا خروش گاہے بلکہ اکثر ایسا بلند کہ تان سرگم کی تنگنائے سے نکل نکل پڑتی تھی۔ جماعتی آموختے کی ملّائی تقلید کا نتیجہ تھا کہ کبھی منٹو اور میرا جی ترقی پسند تھے تو کبھی رجعت پسند۔ یہ سب تسلیم مگر ترقی پسند تحریک اپنے مزاج میں جوانی کا ٹھاٹھ رکھتی تھی۔ چھب گات پہ بُور آتاہے تو الھڑ پن اپنی رونمائی کو پنڈت کوکا کی تالیفات بغل میں لے کر نہیں نکلتا۔

یہ تو آپ بھی مانیے گا کہ ترقی پسند تحریک کی جوئے رواں سے اگر اردو ادب کو حسن عسکری اور انتظار حسین نصیب ہوئے تو یہ تحریک ایسی عقیم نہیں تھی۔ اس کا ایک جاندار کردار تھا اور یہ کردار پانچویں دہائی کے وسط تک ادا ہو چلا تھا۔ عین مین پٹڑی چمک رہی تھی کا مضمون تھا۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ پاکستان میں ادب کے کیف و کم کا جائزہ مقصود ہے تو ترقی پسندی کے تبلیغی روزنامچے سے ایک زینہ آگے بڑھنا ہو گا۔

من کہ ایک منحرِف ترقی پسند ہوں، ایک جملہ معترضہ کا اضافہ کرتا چلوں۔ تحریک کے بارے میں انصاف کی اپنی سی کوشش کے باوجود خوفزدہ ہوں کہ کامریڈ لال نواز وٹو ایڈووکیٹ پرانی انار کلی میں فیض صاحب کا نام لے لے کر خاکسار پر لام کاف ارزاں کرے گا۔ یہ گذارش اسے پہنچا دی جائے کہ اقبال کا نام حفیظ جالندھری اور فیض کا نام نیاز حیدر کے ساتھ لینا حفظِ مراتب کے منافی ہے۔

گریز ہو چکا، اب آپ کی اجازت سے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔ زاہد ڈار کیوں؟ میں زاہد ڈار سے بالمشافہ تعارف کی سعادت نہیں رکھتا۔ میں تو اسے کتاب سے دوستی اور ادب سے وابستگی کا استعارہ جانتا ہوں۔ جسے لفظ دُرِآبدار کی طرح عزیز ہو۔ جسے جملوں کی ٹوٹتی بنتی موجوں کی روانی زنجیر ہو۔ وجود کے شعور کی ذمہ داری جس کے رگ وریشے میں جبلت کی طرح اتر گئی ہو۔ جسے کسی بھی رنگ میں موجود کے احترام سے مفر نہ ہو۔ حرف کا لحن جسے اس طور باندھ لے جیسے برہمن زادے کو بھجن کی لَے۔ زاہد اکل کھُرا آدمی ہے ، نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر۔خیر یہ دنیا ہے۔ ہم عصرانہ چشمک کہیں نہ کہیں اپنا روئے نا مبارک دکھاتی ہو گی۔ ممکن ہے بہت سوں کو زاہد کے ذکر سے ناگواری ہو۔ وہ بھی تو ہر کہ و مہ کو حسبِ دلخواہ داد نہیں دیتا۔ فٹ پاتھ سے خریدی پرانی کتابیں پڑھتا رہتا ہے۔ ان اصحاب کا جی چاہے تو زاہد کی جگہ ناصر کاظمی ، انتظار حسین ، محبوب خزاں، مشتاق یوسفی، محمد خالد اختر یا مظفر علی سید کا نام رکھ لیں۔ ہم سخن فہم ہیں،غالب کے طرف دار نہیں۔ یہ ادب نوازی کا ایک مکتب تھا پاکستان کے ابتدائی برسوں میں۔ کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا۔ اب اس خطے میں جعلی کلیم کا سکہ چلنا تھا خواہ کلیم غیر موجود جائیداد کے ہوں یا اس حب الوطنی کے جسے ہر چند کہیں کہ تھی نہیں تھی۔ یہ سی ایس پی افسروں کی اقلیم تھی۔ یہاں عابد علی عابد کو نئے بندوبست کی دھوپ چھائوں جھیلنا تھی۔ یہاں عبدالمجید سالک کو چند سکوں کے لیے زاغ و زغن کی ساگوانی میز پر عرضداشتیں گزارنا تھیں۔ یہاں چراغ حسن حسرت کو روزگار کے لیے فرعون صفت صدا کار وںکی دربار داری کرنا تھی۔ یہاں مفلوج اور اپاہج حکمرانوں کی غوں غاں کو قومی مفاد کی لغت میں ڈھالنے والے ذرّیات برامکہ کو قومی اخبارات میں نئے صفحات ایزاد کرنا تھے۔

پاکستان کے ابتدائی برس اُمید آفریں تھے۔ لیکن سرخوشی کی اس گھاس پر اوس بہت پڑی۔ غنچہ کیا کھِلتا یہاں تو لہجے کی کھنک بھی پنچم کو نہ پہنچی۔نمودِ عشق کی معصومیت میں مآل کار سے بے خبری کیسی نعمت ہے۔ ماہِ نو پورا چاند تو کیا بنتا ، آدھا بھی نہیں ہوپایا کہ حسن عسکری کراچی نکل گئے۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ بند ہو گیا۔ منٹو مر گیا۔ لیل و نہار کی گردش ہی تھی کہ جہاں سبطِ حسن کی شہر یاری تھی وہاں اشفاق احمد سجادہ نشین ہوا۔ فیض کو دست صبا کشاں کشاں وہاں لے گیا جہاں صلیبوں کی فصل تیار تھی مگر جنہیں برداشت میں ہاتھ بٹانا تھا وہ تو پاک جمہوریت ٹرین میں بیٹھ لیے۔ یہ بھی اچھا ہوا برا نہ ہوا۔ جمہوریت کا قصہ پاک ہونے میں اب دن ہی کتنے باقی تھے۔ رین دو رین کا بسیرا تھا۔ مال روڈ سے پیڑ اور لاہور سے ادب کے پھول ایک ساتھ اٹھے۔

پاکستان میں ادب کا حقیقی آشوب 1958سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے ادیب کا نہیں ادب کے مدرس کا عہد شروع ہوتا ہے۔ اساتذہ کے احترام سے انکار مقصود نہیں لیکن ہماری روایت میں ملّائے مکتب کی ترکیب بھی تو موجود ہے۔ ادب کا دفتر کیسے گائو خورد ہوا؟ آپ سے اجازت سے چند تعمیمات عرض کیے دیتا ہوں۔

ادیب تارک دنیا نہیں ہوتا۔ فن رنگ و بو سے شیفتگی مانگتا ہے۔ ادیب غیر مہذب ، بداخلاق یا ملک دشمن بھی نہیں ہوتا۔ مگر یہ ہے کہ ادیب کا تصور حیات، تہذیب اور اخلاق اس کے اپنے تجربے سے پھوٹتا ہے۔ ادیب اپنی روشنی میں چلتا ہے۔ حقیقی ادیب کے لیے یہ تسلیم کرنا ممکن ہی نہیں کہ بھوری وردی زیب تن کرنے والے قومی مفاد کے صورت گر ٹھہریں، عمامہ پوش اپنے تنگ و تاریک حجرے کی بے در و روزن دنیا سے دشت امکاں کی پیمایش پر کمر بستہ ہوں ، بغدادی قاعدے کی پایاب ندی کے شناور افعال انسانی کا زشت و خوب متعین کرنے پر اجارہ چاہیں۔ ادب محض حوالہ اور حواشی کی مدد سے دفتر سیاہ کرنے کا نام نہیں۔ ادبی روایت ایک پیچیدہ ، نازک اور پہلودار تصور ہے جو اپنی بلند ترین شکل میں انسانی امکانات کے خفتہ زاویوں کی دریافت نیز داخلی و اجتماعی تجربوں کے مبنی بر اِبلاغ اظہار کی سعی کا نام ہے۔ اس میں ہُنر مندی، ضبطِ خروش، فکری آزادی ،بلند نگاہی ،تخلیقی اُپج اور جمالیاتی اہتزاز کے جملہ عناصر چلے آتے ہیں۔ یہ ایک سیّال اور باہم گُتھا ہوا عمل ہے۔ تخلیقِ ادب کی پُرپیچ راہیں خیال و ہنر کے نامانوس سرچشموں سے نکلتی ہیں۔ ان کے لیے پہلے سے طے شدہ نقشے اور حدود قائم نہیں کی جاسکتیں۔

ادیب پارسا ہو یا نہ ہو ، ادیب کو زُہد کا ادّعا نہیں ہوتا۔ ادب تو واردات کے جوالہ مکھی کو ہنر کی کٹھالی میں شوریدگی کا خمیر دینے سے آب پاتا ہے۔ جنہیں پاکئیِ داماں کا لپکا ہو ، انہیں فتح پوری کی سیڑھیوں پہ کباب فروشی زیب دیتی ہے یا کچہری روڈ پہ موازنہ انیس و دبیر کے نصابی نوٹس دہرانا۔ یہ مدرس کی تاریخی تحدید ہے کہ اسے سماجی تعزز سے شغف ہوتا ہے۔ادیب کا تعزز اس کی تخلیقی پرواز سے برآمد ہوتا ہے، چودھریوں سے رسمِ ملاقات ادیب کا اعزاز نہیں۔ مدرس حرفِ نصاب کا پابند ہے۔ ادیب حرفِ نصاب کا خالق ہے۔ مدرس قواعد صرف و نحو سے انحراف نہیں کر سکتا۔ ادیب کا طبع زاد تجربہ زبان کی تخریب اور تعمیرِ نو کا تقاضا کرتا ہے۔ مدرس اگر نانِ شبینہ کے لیے محکمہ تعلیم کے نیم خواندہ سیکشن افسر کی جنبشِ کلک کا محتاج ہو تو نظیر کیا، میر کو بھی مخربِ اخلاق قرار دیا جا سکتا ہے۔ ادبی روایت کے بالاستیعاب شعور اور تخلیق ادب میں ایک جُگ کا بُعد ہے۔ قافیہ پیمائی اور گرہ بندی کی مشق ادب ہوتی تو میر تقی یا اسد بلائے جاں کی پوروں سے لہو نہ ٹپکتا۔ جاں دادہ ء ہوائے نثر آزاد یوں بیگانہ حواس نہ ہوتا۔ پیرانہ سالی میں استاذ الاساتذہ مختار صدیقی آشفتہ حال نہ ہوتا۔ مگر یہ کہ فیض کو بخیہ گری سے مہلت نہیں ملتی اور عابد کو جیسے بھی ہو، جینا نہیں آتا۔اُدھر ضلعی انتظامیہ کی جان ضیق میں ہے کہ میلہ مویشیاں کے سالانہ مشاعرے کے لیے شاعر کہاں سے لائے۔ لے دے کے نارووال اور کھاریاں کے اساتذہ کام آتے ہیں۔ تحقیق کہ شاعر بھی ہیں، نقاد بھی ہیں۔ پانسو روپے کی بے بازو و اسکٹ میں ریشمی رومال اُڑس لیں تو قومی تشخص کا پھندنا بھی فرق مبارک کی زینت ہو سکتا ہے۔

ادب موٹر سازی کی کارگاہ نہیں۔ روزنامے کا صفحہ اول نہیں کہ گھڑی کی سی باقاعدگی سے مال تیار ہوتا رہے۔ فنکار کے لیے زندگی کرنے، اپنے تجربے سے بھڑ جانے اور پھر اسے بیان کرنے کی سعی میں اک عمر صرف ہو تی ہے۔ اور پھر یہ ضروری نہیں کہ اس کی تفہیم درست ہو اور نہ اس کی کوئی ضمانت ہے کہ فنی اظہار لازمی طور پر اپنی آواز اور رسائی پانے میں کامیاب رہے گا۔ اگر انسانی اجتماع ادب اور دیگر فنون عالیہ کو اہمیت دیتا ہے تو اسے فنکار کی ناکامی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ شعر و افسانہ کے کھیکھڑ میں پڑے بغیر ڈیم اور سڑکیں وغیرہ تعمیر کی جائیں۔ ویسے تادم تحریر انسانی تجربہ یہی رہا ہے کہ اگر قوم مایاکوفسکی کو برداشت کرنے کے ظرف سے محروم ہو تو اس کے ڈیم بھی کالا باغ اور سبز باغ کے درمیانی قطعہ ہائے دشت میں سراب ہی رہتے ہیں۔ جو قوم شیکسپیر کی قامت سے آشنا نہیں ہوتی اس کی سرحدوں پر نیلسن اور مونٹگمری پیدا نہیں ہوتے۔ ایسی کوتاہ نصیب قوموں میں یہی طے نہیں ہو پاتا کہ قوم ،ملک اور سلطنت کے مختلف النوع نمونوں میں اصل نصب العین کیا ہے؟

اربابِ وطن نے استخلاصِ وطن کے ابتدائی برسوں میں تاریخ، سیاست اور اخلاق کے جو نظریاتی کالبوت تیار کیے تھے ان پہ ادب کی ریشمی عبا نہیں منڈھ سکتی۔ البتہ چوبِ خشک کے ان نمونوں پر پبلک سروس کمیشن کی اعانت سے چرمی جوتے چڑھائے جاسکتے ہیں۔ اس میں ایک اضافی زحمت یہ ہے کہ نظریاتی جوتے پہننے سے پیروں میں جگہ جگہ چھالے پڑ جاتے ہیں جنہیں طبی اصطلاح میں زودحسی کہا جاتا ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی حساسیت کا منبع موضوعی ناخوش اندیشی ہو تو اس کا علاج خارج میں ڈھونڈنا کارِ لا حاصل کہلاتا ہے۔

ادب کو سند یافتہ مدرسین کے سایہ عاطفت میں دینے سے جو نتائج برآمد ہوئے ، ان پر ایک نظر ڈالنے سے پہلے ایک مختصر سا اقتباس ملاحظہ فرما لیجئے۔ صاحب اقتباس کا نام محض اس لیے نہیں لیتا کہ ان کا انتقال ابھی ماضی قریب میں ہوا ہے۔

ہم نے محکمہ تعلیم کے ایک عہدے دار سے پوچھا کہ آپ نصاب بناتے وقت ادیبوں سے مشورہ کیوں نہیں کرتے۔ انھوں نے جواب دیا: ـہم تعلیمی نصاب مرتب کرتے ہیں اس لیے ماہرینِ تعلیم سے مشورہ کیا جاتا ہے، جب کبھی عشق و عاشقی کا نصاب مرتب کرنا ہوگا تو ادیبوں کو ضرور زحمت دی جائے گی۔

جو عبقری ادب کو محض عشق و عاشقی سے تعبیر کرتے ہیں ان کی جسمانی صحت ، ذہنی اصابت، معاشرتی بصیرت ، پیشہ وارانہ استعداد اور تخلیقی رسائی معلوم

مضمون کی طوالت کا اندیشہ متقاضی ہے کہ ایک اجمالی نظر فکر و نظر کی اس کوتاہی کے بدیہی نتائج پر بھی ڈال لی جائے۔

گذشتہ دہائیوں میں ادب اس ملک میں ایک سنجیدہ تخلیقی سرگرمی اور اجتماعی فریضے کے طور پراپنا منصب کھو بیٹھاہے۔ ادیب وہ بے مایہ چنگیر قرار پایا جسے جدید ریستورانوں کی دیوار پر متروکہ ثقافت کی علامت کے طور پر لٹکا دیا جاتا ہے۔کہیں کہیں کوئی آوازہ انکار اٹھتا رہا لیکن اجتماعی انحطاط کے منہ زور دھارے میں انفرادی جوہر کی تابناکی گہنا جاتی ہے۔ جہاں ادب کے کوڑیوں آڑھتی اہل قلم کانفرنس میں اسلام آباد کی پہاڑی کا وعظ سننے کو ٹوٹے پڑ رہے ہوں ، وہاں کسے یاد رہتا ہے کہ یگانہ روزگار افسانہ نگار انتظار حسین اور حرف کی توقیر کا نام لیوا محمد سلیم الرحمن ادبی روایت کی وضع داری نبھاتے نبھاتے لارنس باغ کی پگڈنڈیوں پہ پتھرا گئے ہیں۔

ادب ایک اجتماعی ادارے کے طور پر زندہ تھا تو بہترین صلاحیتوں کے حامل نوجوان اس طرف متوجہ ہوتے تھے۔ لیکن جب شاعر کا منصب ادھیڑ عمر اہل اقتدار کے عقدِ ثانی کا سہرا پڑھنا قرار پایا ، تو ادب کا کوچہ دلبراں بازار بن گیا۔ ایسا نہیں کہ قومی ترقی کا واحد نسخہ فنونِ عالیہ کی درس گاہوںہی میں میسر آتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خیال و تخلیق کے شعبوں کی اداراتی اعانت کے بغیر سائنس اور دیگر پیشہ وارانہ شعبوں کی تعلیم اپنا حقیقی وظیفہ کھو کر محض مہارتوں کی تحصیل تک محدود ہو جاتی ہے۔ ہنر مند افراد ی قوت بھلے اپنے شعبوں میں معلوم حقائق کی مدد سے کام چلانے کی اہل ہو جائے لیکن علوم کی دنیا میں نئے آفاق کی کھوج اس کے بس کا روگ نہیں رہتا۔

ادب میں تجربے کے نام پر صحتِ زبان سے بے نیازی کو جواز ملا تو اسی زبان کا مردہ خراب ہونے لگا جو ادیب کا بنیادی آلہ اظہار ہے۔ خود ہماری سرمہِ بصر نسل میں پطرس، چراغ حسن حسرت، تاثیر، سید عابد علی، حمید احمد خان، صوفی تبسم اور فیض جیسے ناموں کی کیسی روشن کہکشاں تھی جو اردو کے علاوہ ایک سے زیادہ زبانوں میں درک رکھتی تھی۔ رعونت سے دور، گزشتہ تیس برس میں اردو کے مضمون میں اعلیٰ ترین اسناد پانے والوں میں سے کتنوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے درد اور میر سے لے کر داغ تک اردو کے اساتذہ میں سے صرف پانچ کے کلام کا تخصیصی نہیں محض مکمل مطالعہ کر رکھا ہے۔ یہ کچھ ایسا کٹھن مطالبہ تو نہیں۔ اردو کا قاری اردو ادیب سے یہ مطالبہ تو نہیں کر رہا کہ وہ دنیا کی کم سے کم دو یا تین اہم زبانوں کے ادبی ارتقا پر نظر رکھے۔ ہم تو اس جائز مطالبے سے بھی صرفِ نظر کرنے کو تیار ہیں کہ اردو ادیب کوعلاقائی اور عالمی سطح پر مصوری، موسیقی، رقص اور تھیٹر کے ابھرتے ہوئے رجحانات سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اچھا یوں کیجیے کہ نصف صدی میں اس زبان میںجسے 40کروڑ افراد بولتے اور سمجھتے ہیں ، ایسے تراجم کی تعداد گن جائیے جنہیں پڑھنے کے بعد اصل تصنیف سے استفادے کی ضرورت نہ رہے۔ فہرست سازی کی مشقِ لاحاصل ہے کہ آپ جو بھی نام لیں گے ، کسی غیر معمولی استثنا سے قطع نظر، وہی آشفتہ سر بار پائیں گے جو تقسیم سے قبل تعلیمِ رسمی اور ادبی تربیت کی منزلوں سے گزر چکے تھے۔ شخصی تنقیص مقصد نہیں ہے لیکن اگر سعی کا عالم یہی ہے تو پھر اس پہ عجب کیا کہ عصری اردو کی کیفیت سر بہ زانو ہے۔

عزیزو، قصہ یہ ہے کہ ادب کے ان مسائل کی فکر ادیب کو ہوتی ہے۔ حسن عسکری، جب تک ادب سے وابستہ تھے، کس درد مندی سے کہانی کی بنت، شعر میں خیال، بیانیے کی مشکلات اور ترجمے کے مسائل پر قلم اٹھاتے تھے۔ اورینٹل کالج کے مدّرس کی بلا سے اگر ادب کی نیا ڈوب گئی یا زبان ماتم میں ہے۔ اسے تو ٹمبکٹو کی مضافاتی یونیورسٹی میں اردو کی کرسی درکار ہے۔ جاپان میں اردو پڑھانے اس ذوق سے جاتے ہیں جیسے ایک مرحوم مذہبی پیشوا فصلِ خریف میں تبلیغِ دین کی غرض سے عازمِ جنوبی افریقہ ہوا کرتے تھے۔ ادب کے رخشِ منہ زور کو اپنی راہ پر لگانے کی خواہشمند ریاست کو ادیب نہیں ،ادب کے مدرسین ہی راس آتے ہیں۔ ادیب تو ایسے آزادہ رو اور کڈھب واقع ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے وقت کے میجر ابن ا لحسن کہاں تک ان کے ناز اٹھاتے پھریں۔

اہل اقتدار میں ادھر کچھ عرصے سے فروغ تعلیم کا شوق فراواں ہو رہا ہے۔تاہم یہ ہے کہ سارا زور سائنس کی تعلیم پہ ہے۔ ادب، تاریخ اور فلسفے کی تعلیم میں اندیشہ یہ ہے کہ فکر کی مردہ روایت میں جان پڑ گئی، تنقیدی شعور بیدار ہونے لگا تو کہیں خس و خاشاک کی وہ تعمیر خطرے میں نہ پڑ جائے جس کی دیواروں میں عشروں کی مساعی سے تکذیب، تردید، تنسیخ اور تلبیس کا گارا چونا صرف کیا ہے۔ سائینس اور انتظامی علوم کی تعلیم میں چند در چند فائدے ہیں۔ نونہالوں کو نقد آور معاش بھی میسر آتا ہے اور قومی فضائی کمپنی کو عمرے کے مسافروں کی کمی بھی محسوس نہیں ہوتی۔

لیجئے ، بات ایسی پھیلی کہ معززینِ سادات امروہہ کا ذکر رہا جاتا ہے۔ وادی گنگ و جمن کے باسی عزیزان وطن کہاں آن آباد ہوئے۔ کراچی میں کہ صنعتی شہر بھی ہے اور بند رگاہ بھی۔ اب اودھ کی غزل پی ای سی ایچ ایس میں کون سمجھے گا؟ لیکن اگر رنگ و رامش کا وہی اسلوب اپنایا جائے جو خواجہ عبدالقدوس نظامی رسل گنج کے دیوان خانے میں روا رکھتے تھے تو سرزمینِ پاک کے اہل قانون کو خوش غلاف پارسائی کے حِفظ کا ایسا سودا ہے کہ نو آمدہ دولت کی رونمائی میں عزت سادات بھی گئی۔ سومشاعرہ گویا بیچ کی راس ٹھہرا ہے۔ مجرہ رسمِ پارینہ ہے اور بال روم رقص ابھی متوسط طبقے کی ملیح آبادی ذہنیت کو قبول نہیں۔ سو نومولود کی عضویاتی قطع و برید کی تقریب ہو تو مشاعرہ ، ہندوستاں سے سمدھی کی آمد ہو توبین الاقوامی بلکہ عالمی مشاعرہ، کوئی شناساافسرِ اعلیٰ ترقی کے اگلے زینے پہ قدمِ رنجہ فرمائے تو عظیم الشان مشاعرہ۔ عین مین محمد حسین آزاد کے ابتدائی اردو قاعدے کا سا نقشہ ہوتا ہے۔ ابامیاں پان چبا رہے ہیں۔ صوفے پہ براجمان بڑے صاحبزادے کی ٹانگ غیر اضطراری طور پر مسلسل حرکت میں ہے۔ بہو بیگم سلسلہ ہائے زوج کا کمسن ترین میوہ گود میں لیے بیٹھی ہیں۔ ارم لکھنوی، سیماب اور ریئس امروہوی کے تلامذہ کا کلام سننے میں گاہے گاہے داد کی کوئی پیش پا افتادہ ترکیب بھی استعمال ہو جاتی ہے۔

ہاں جب مزاحیہ شاعری کا سلسلہ شروع ہو تو سب سنبھل کے بیٹھ جاتے ہیں۔ آخر دو گھڑی ہنسی ٹھٹھے کی غرض ہی سے تو اتنی دیر اردو میڈیم برداشت کی ہے۔ شعر کی تفہیم ، مشاعرے کی تہذیب اور مجلسی اقدار کا پیمانہ یہ ہے کہ چند برس قبل وفاقی وزیر داخلہ کی موجودگی میں ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے مرحوم جون ایلیا پر سرِ مشاعرہ کفش کاری کی تھی۔ اور مشاعرے کے شعرائے کرام کی سطح یہ ہے کہ مشاعرہ اوسلو میں ہو، یا ہونو لولو میں، واپسی پر اہلیہ محترمہ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ بیگم ایک ہی نشست میں پندرہ ، بیس ہزار پیٹ لیے۔چشتیاں یا میلسی کے مقامی ٹھیکیدار کی رسد نکال کے بھی خسارے میں نہیں رہے۔ یہ مشاعرہ نہیں اجداد کی سال بسال یاد تازہ کرنے کا ڈھنگ ہے۔ ایک دو نسلیں گزریں تو یہ روایت جو ابھی سے رسم کی یبوست کو چھو رہی ہے ، معدوم ہو جائے گی کہ اس کا تخلیقِ ادب سے کوئی حقیقی واسطہ نہیں۔

اب چلتے چلتے ڈیڑھ بات ذاتی بھی ہو جائے۔ خاکسار حلقے کا قدیمی خوشہ چیں ہے۔ مگر ایسا ہے کہ گزشتہ 22 برس میں صرف ایک بار یہاں حاضر ہو سکا۔حلقے کے سالانہ انتخاب کا ہنگامہ تھا اور شیعہ سنی کی خارج از ادب بنیاد پر ووٹ مانگے جا رہے تھے۔ بد مزہ ہوا۔ استاذی سید عابد علی عابد مرحوم کا ایک شعر پڑھا اور سیڑھیاں اتر گیا۔ شعر عرض کیے دیتا ہوں

جو دلبری کا یہ عالم رہا تو اے شوخی

کوئی کرشمہ نہ چھوڑے گی تو حیا کے لیے

محبی زاہد حسن کو کہیں سے سن گن مل گئی کہ خاکسار یہ وطن چھوڑ رہا ہے۔ اس نے از راہ محبت امروزہ کج مج بیانی کا سامان کر دیا۔ مجھے اس خلوص بے پایاں کے ضمن میں صرف یہ کہنا ہے کہ ڈھلتی عمروں میں نئے خیموں کی طنابیں کوئی زمین قبول نہیں کرتی۔ پاکستان میں رہنے والوں اور پاکستانی ادب سے لاتعلقی کیا معنی، ہمیں تو شاید اردو رسم الخط سے دوری بھی شاق گزرے گی۔ وطن ترک نہیں ہوتے ، بس چھوٹ جاتے ہیں۔ ترکِ وطن کی منزلیں آسان بلکہ ممکن ہوتیں تو ساداتِ امروہہ کی آنکھوں میں آج بھی لال ڈورے نہ ہوتے۔

چوبیس جولائی 2005

(حلقہ ارباب ذوق لاہور میں پڑھا گیا)

نیا زمانہ دسمبر 2005

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *