انسانی حقوق کی ایک توانا آواز خاموش ہو گئی

پاکستان کے ممتاز صحافی اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے بانی رکن آئی اے رحمٰن ( ابن عبدالرحمٰن) انتقال کر گئے۔ ان کی عمر نوے برس تھی اور وہ پچھلے کچھ عرصے سے شوگر اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا تھے۔

سنہ1930ء میں ہریانہ میں پیدا ہونے والے آئی اے رحمٰن کا خاندان تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوا۔ وہ پہلے ملتان کے نردیک شجاع آباد کے علاقے میں رہے بعد ازاں لاہور منتقل ہو گئے۔ آئی اے رحمٰن نے علی گڑھ سے تعلیم پائی بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس کیا۔

پینسٹھ سال صحافت سے وابستہ رہنے والے آئی اے رحمٰن نے سن 1949 میں لکھنے کاآغاز کیا۔ پاکستان ٹائمز، روزنامہ آزاد اور ویو پوائنٹ کے لئے کام کرنے کے علاوہ وہ مختلف اخباروں کے لئے کالم لکھتے رہے۔ انگریزی روزنامے ڈان میں ان کا کالم باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیرئر کا آغاز میاں افتخارالدین کے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ والے انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز سے کیا۔ وہ طویل عرصے تک اسی اخبار سے وابستہ رہے، انہوں نے اردو کا روزنامہ آزاد بھی نکالا لیکن یہ منصوبہ معاشی اعتبار سے مفید ثابت نہ ہو سکا۔

پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے پلیٹ فارم سے بھی وہ آئین کے تحفظ، انسانی حقوق کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی حفاظت کے لئے جدو جہد کرتے رہے۔ آئی اے رحمٰن ساری زندنگی معاشرے کے کمزور طبقات کے حق میں آواز اٹھاتے رہے۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے ڈائریکٹر اور سیکریٹری جنرل بھی رہے۔ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ پاکستان کی سیاسی سماجی اور صحافتی شخصیات نے آئی اے رحمٰن کی رحلت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ممتاز صحافی اور سینئر تجزیہ کار شاہد ملک بتاتے ہیں کہ ضیا الحق کے دور حکومت میں انہوں نے جس جرات اور بے باکی سے لکھا اس کی مثالیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، مجھے یاد ہے کہ ہر جمعے کے روز  جب ان کی سربراہی میں انگریزی کا ہفت روزہ جریدہ ویو پوائینٹ‘‘ چھپ کر مارکیٹ میں آتا تو اس کی کاپیاں ہاتھوں ہاتھ بک جاتیں۔،سیاسی شعور رکھنے والے لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس کے نئے شمارے کے انتظار میں رہتی‘‘۔

شاہد ملک نے یہ بھی کہا، میرے خیال میں انسانی حقوق کا معاملہ بہت حساس نوعیت کا ہوتا ہے، بعض اوقات لوگ جذبات میں آ کر اس ضمن میں سرگرمی کا مظاہرہ تو کرتے ہیں لیکن راستے کی مشکلات سے گھبرا کر جلد ہی تھک جاتے ہیں، لیکن آئی اے رحمٰن کا معاملہ مختلف تھا، وہ ایسے جذبے سے کام لیتے جو شعور کی آنچ پر پک گیا ہوتا، وہ احتیاط کا دامن نہ چھوڑتے، قانون کے دائرے میں رہتے اور ہمیشہ زبان کا استعمال ذمہ دارانہ طریقے سے کرتے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں کبھی ناپختگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ، آئی اے رحمٰن ان کے والد میاں محمود علی قصوری کے دوستوں میں سے تھے۔ لاہور میں چار فین روڈ پرموجود ہمارا گھراپوزیشن کی سرگرمیوں اور مزاحمتی تحریکوں کا مرکز بنا رہتا تھا، ان دنوں  آئی اے رحمٰن  کا حسین نقی، مظہر علی اور دیگر ترقی پسند رہنماوں کے ساتھ ہمارے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ بعد ازاں عاصمہ جہانگیر کے ہاں بھی ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔‘‘ خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئی اے رحمٰن کو ایک با اصول، محب وطن اور انسان دوست شخص پایا۔ خورشید قصوری کے بقول ’’آئی اے رحمٰن اپنی صحافتی تحریروں میں بھی معاشرے کے کمزور طبقات کی آواز بنے۔ وہ اقلیتوں، مزدوروں، سیاسی کارکنوں اور مظلوم لوگوں کے حق میں آواز اٹھاتے رہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا‘‘۔

dw.com/urdu

Comments are closed.